Zeeshan Ameer Saleemi (Shair-e-Hijr) Urdu Gazal
ویرانیِ دل سے ایوانِ ہوس تک شِعرِ صداقت کی گواہی غزل یہ دل کا نگر اب بھی ویران پڑا ہے ہر خواب مری آنکھوں میں حیران پڑا ہے اک عکسِ صداقت تھا جو آئینۂ جاں میں اب ٹوٹ کے ہر سمت پریشان پڑا ہے اس دشتِ انا پر نہ کبھی ابر بھی برسا سو تشنہ لبوں پر مرا ارمان پڑا ہے کل تک مرے ہونٹوں پہ امانت تھا جو اک نام وہ خاک پہ لکھا ہوا بے جان پڑا ہے جو تخت نشیں تھا کبھی دعویٰٔ وفا کا اب گرد میں لتھڑا ہوا سلطان پڑا ہے جن ہاتھوں کو سونپی گئی تھی...