Rohani Makalma

 

 تسلسلِ فکر اور روحانی مکالمہ 



تحریر: محمد عبدالوہاب بن احمد خان 
(پاکستانی نژاد ادیب و شاعر، مقیم لندن، برطانیہ)

اردو شاعری کی روایت محض الفاظ کی صناعی نہیں بلکہ فکر، عقیدہ، سوال، جستجو اور روحانی مکالمے کا ایک مسلسل سفر ہے۔ کلاسیکی شعرا نے جب مذہب، عشق، عقل اور باطن کے موضوعات کو شعر کے قالب میں ڈھالا تو محض جذبات نہیں بلکہ صدیوں پر محیط فکری مباحث کو بھی زندہ کر دیا۔ زیرِ نظر اشعار اسی فکری تسلسل کی ایک خوبصورت مثال ہیں، جہاں ہر شاعر اپنے عہد، شعور اور فکری مقام سے ایک ہی سوال کو مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے۔


مرزا غالبؔ - سوال کی جرأت اور فکر کی بے باکی

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا    وہ       جگہ      بتا      جہاں     خدا     نہیں

مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو شاعری میں فکری جرأت، سوال اٹھانے کی روایت اور باطن کی آگہی کے سب سے توانا استعارے ہیں۔ اس شعر میں غالبؔ کا مخاطب زاہد نہیں بلکہ وہ جامد مذہبی فکر ہے جو ظاہر کو اصل اور باطن کو فراموش کر بیٹھتی ہے۔ غالبؔ خدا کو کسی مخصوص جگہ کا محتاج نہیں مانتے؛ ان کے نزدیک الوہیت کائنات کی ہر سانس میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر خدا ہر جگہ ہے تو پھر کسی جگہ کی تقدیس باقی کہاں رہ جاتی ہے؟ یہ شعر دراصل مذہب نہیں بلکہ ریاکاری پر ضرب ہے، اور اسی ضرب میں غالبؔ کی عظمت پوشیدہ ہے۔


علامہ اقبالؔ - حدود کی تعیین اور اخلاقی شعور

مسجد خدا کا گھر ہے، پینے کی جگہ نہیں
کافر  کے  دل میں  جا، وہاں خدا نہیں

اقبالؔ، فکرِ اسلامی کے معمار اور ملت کے فکری رہنما، غالبؔ کے سوال کا جواب نظم و ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ دیتے ہیں۔ اقبالؔ کے نزدیک خدا ہر جگہ موجود ضرور ہے، مگر انسان پر لازم ہے کہ وہ مقامات کی حرمت اور اعمال کی تطہیر کو سمجھے۔ یہ شعر دراصل عمل اور نیت کے تعلق کو واضح کرتا ہے۔ اقبالؔ یہاں خدا کی نفی نہیں کرتے بلکہ اس دل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو خدا کی معرفت سے خالی ہو چکا ہو۔ یہ شعر اقبالؔ کے اس نظریے کی توسیع ہے کہ ایمان محض دعویٰ نہیں بلکہ مسلسل اخلاقی مجاہدہ ہے۔


احمد فرازؔ -انسان دوستی اور باطن کی دریافت

کافر کے دل سے آیا ہوں میں یہ دیکھ کر
خدا موجود  ہے  وہاں  پر، اسے  پتہ نہیں

احمد فرازؔ جدید اردو غزل میں انسان دوستی، نرمی اور باطنی محبت کا سب سے روشن حوالہ ہیں۔ فرازؔ اس شعر میں مذہبی تقسیم کو توڑ کر انسان کے دل کو مرکز بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا کا وجود کسی لیبل یا شناخت کا محتاج نہیں۔ فرازؔ یہاں انسان کی فطری نیکی، محبت اور سچائی کو الوہیت کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کا قرب کبھی کبھی انسان کے اپنے شعور سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہے۔ فرازؔ کا یہ انداز اردو شاعری کو مذہبی رواداری اور انسانی احترام کی نئی جہت دیتا ہے۔


وصیؔ شاہ - سادگی، توازن اور عصری شعور

خدا  تو  موجود  ہے  دنیا  میں  ہر  جگہ
تو جنت میں جا، وہاں پینا منع نہیں

وصیؔ شاہ جدید اردو شاعری میں سادہ اسلوب، براہِ راست مکالمے اور عام قاری سے گہرے ربط کے شاعر ہیں۔ اس شعر میں وہ نہ فلسفے کی پیچیدگی میں جاتے ہیں اور نہ تصادم پیدا کرتے ہیں۔ وصیؔ شاہ انسانی خواہش اور مذہبی تصور کے درمیان ایک ہلکا سا طنزیہ مگر متوازن راستہ دکھاتے ہیں۔ یہ شعر زندگی کی حقیقتوں کو نرم لہجے میں بیان کرتا ہے اور یہی وصیؔ شاہ کی مقبولیت کا اصل سبب ہے۔


ذیشانؔ امیر سلیمی - عشق کی برتری اور روحانی وقار

جنت  کی آرزو  میں  اگر  ترکِ ہوش ہو
پھر عشق کیا رہا، وہ عبادت کہاں رہی

ذیشانؔ امیر سلیمی کا یہ شعر اس فکری تسلسل میں ایک بلند روحانی مقام رکھتا ہے۔ یہاں عشق کو عبادت پر فوقیت نہیں بلکہ عبادت کے باطن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر جنت کی خواہش انسان کو ہوش سے محروم کر دے تو پھر عشق کی پاکیزگی کہاں باقی رہتی ہے؟ یہ شعر تصوف کی اس روایت سے جڑا ہے جہاں عشق بے لوث ہو، بے غرض ہو اور کسی صلے کا طالب نہ ہو۔ ذیشانؔ کا یہ شعر جدید اردو شاعری میں فکری پختگی، روحانی وقار اور کلاسیکی شعور کا حسین امتزاج ہے۔


اختتامیہ

یہ تمام اشعار دراصل ایک ہی فکری زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔ غالبؔ سوال اٹھاتے ہیں، اقبالؔ حدود متعین کرتے ہیں، فرازؔ انسان کو مرکز بناتے ہیں، وصیؔ شاہ توازن قائم رکھتے ہیں، اور ذیشانؔ امیر سلیمی عشق کو روح کی معراج قرار دیتے ہیں۔ یہی اردو شاعری کی عظمت ہے کہ وہ اختلاف میں بھی حسن رکھتی ہے اور سوال میں بھی وقار۔


Comments