Zeeshan Ameer Saleemi Ghazal Yaad Ka Malba
شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا کلاسیکی و جمالیاتی مطالعہ غزل کسی کی یاد کا ملبہ اٹھائے پھرتے ہیں جلے ہوئے ہیں مگر مسکرائے پھرتے ہیں تمہاری یاد کا سکہ عجب رواج میں ہے لہو کے پھول بدن پر چلائے پھرتے ہیں ہوا کے شہر میں ممکن نہیں چراغوں کا سو اپنے آپ کو دل میں جلائے پھرتے ہیں یہ کیسی آگ ہے بجھتی نہیں زمانوں سے لہو میں برف کے دریا بہائے پھرتے ہیں کسی کے ہجر نے ایسا بدل دیا ہے مزاج کہ خاک ہو کے بھی خوشبو لٹائے پھرتے ہیں کبھی سج...