Famous Urdu Gazal

 

شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا کلاسیکی و فکری مطالعہ

غزل

مری  ذات  کے  تھکے  جسم  سے، کوئی  تھوڑا  درد   اُدھار   لے
میں تھکن کے بوجھ میں ہوں کہیں، کوئی آ کے مجھ کو پکار لے

اسی   وحشتوں   کے   ہجوم   میں،  کوئی   عکسِ   ابرِ    کرم    بنے
مرے   بخت   کے  کسی  موڑ   پر،  وہی  لمسِ    یار  سنوار   لے

یہ    جو   ہجر    کی  شبِ    دیرپا،   مری    چشمِ     تر   میں   اتر   گئی
اسی درد کے کسی نور سے،  مری   جاں   ذرا   سی   نکھار   لے

میں تھکا ہوا ہوں لبِ افق، کسی  شام   کی  سی   ڈھلان   پر
مرا ہاتھ تھام  کے  کوئی  اب،  مجھے   روشنی   میں  اُتار   لے

یہ جو ان کہی سی پکار ہے، اسے  کون  دے   گا  سماعتیں؟
وہی ڈھونڈ لائے سکوت سے، وہی بخت آ کے ابھار لے

اسی دشتِ ہجر کی دھوپ میں، سبھی سائباں جو پگھل گئے
ابھی  وقت ہے   کہ   یہ   کہرِ  غم،  رخِ  زندگی   کو   سدھار   لے

کسی شاخِ جاں پہ بکھر گئیں، وہ جو خواہشوں کی تھیں تتلیاں
انہیں  رنگ   دے  کوئی  یاد  اک، انہیں   یادِ    یار   نکھار   لے

یہ جو سوچ  سوچ  کے تھک گئی، کسی  آخری  سے سوال  پر
اِسے ایک خواب کی سادہ لو، کوئی سمت دے کے گزار لے

مری خامشی کے حصار میں، کوئی حرفِ وصل اُتر ہی آئے
مرے ٹوٹتے  ہوئے  حوصلے،  کوئی  نام  لے   کے    پکار   لے

شاعر: ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار

ڈاکٹر نادیہ اشرف
( محققہ و نقاد، مقیم دوحہ، قطر)

تمہید

ذیشانؔ امیر سلیمی کی شاعری معاصر اردو غزل میں ایک باوقار، مہذب اور روحانی لہجے کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ ہجر کو محض فراق کا بیان نہیں بناتے بلکہ اسے انسانی باطن کی تطہیر، شعور کی بالیدگی اور احساس کی تہذیب میں ڈھال دیتے ہیں۔ ان کے ہاں درد چیخ نہیں بنتا، روشنی بن جاتا ہے؛ خاموشی خلا نہیں رہتی، معنی کی گہرائی اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انہیں بجا طور پر شاعرِ ہجر کے لقب سے ممتاز کرتے ہیں  زیرِ نظر غزل داخلی تھکن، روحانی طلب، اور یادِ یار کی لطیف حرارت سے ترتیب پانے والی ایک فکری و جمالیاتی دستاویز ہے۔ اس میں ہجر زوال نہیں بلکہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں سے شعور کی نئی سطحیں جنم لیتی ہیں۔ شاعر کا لہجہ شکوہ کناں نہیں بلکہ باوقار اور منکسر ہے۔ وہ مانگتا ہے مگر التجا میں بھی شائستگی ہے، دکھ بیان کرتا ہے مگر انداز میں تہذیب ہے۔ یہی کلاسیکی روایت کا حسن ہے جو ذیشانؔ کے کلام میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہے  یہ غزل اپنی لفظیات، استعارات اور داخلی فضا کے اعتبار سے کلاسیکی روح رکھتی ہے مگر اس کی حسّیت جدید انسان کے وجودی کرب سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی امتزاج نے ذیشانؔ کو نہ صرف معاصر حلقوں میں ممتاز کیا ہے بلکہ انہیں عالمی سطح پر ایک نمایاں International Urdu Poet کے طور پر شناخت بھی عطا کی ہے۔

اشعار پر تفصیلی تبصرہ

مری   ذات   کے     تھکے جسم  سے، کوئی  تھوڑا   درد  اُدھار  لے

میں تھکن کے بوجھ میں ہوں کہیں، کوئی آ کے مجھ کو پکار لے

یہ مطلع داخلی تھکن اور روحانی انکسار کا نہایت اثر انگیز استعارہ پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے درد کو بانٹنے کی بات کرتا ہے، جو محض جسمانی تھکن نہیں بلکہ روح کی گہری تھکاوٹ ہے۔ “درد اُدھار دینا” ایک نادر ترکیب ہے جو دکھ کو بوجھ نہیں بلکہ مشترکہ انسانی تجربہ بناتی ہے۔ پکارے جانے کی خواہش وجودی تنہائی کی علامت ہے۔ یہ شعر کلاسیکی انکساری اور جدید وجودی احساس کا حسین امتزاج ہے۔

اسی  وحشتوں  کے  ہجوم  میں، کوئی  عکسِ  ابرِ کرم بنے

مرے بخت کے کسی موڑ پر، وہی لمسِ یار سنوار لے

یہاں وحشت کے ہجوم میں “ابرِ کرم” کا عکس امید اور رحمت کی علامت ہے۔ شاعر بے سمتی کے عالم میں ایک روحانی لمس کا طلبگار ہے۔ “بخت کے موڑ” زندگی کے نازک مرحلوں کی طرف اشارہ ہے جہاں ایک محبت بھرا لمس تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہ شعر ہجر کے بیابان میں امید کی نرم روشنی پیدا کرتا ہے۔

یہ   جو   ہجر   کی   شبِ   دیرپا،  مری   چشمِ  تر  میں  اتر گئی

اسی درد کے کسی نور سے، مری جاں ذرا سی نکھار لے

ہجر کی طویل رات آنسوؤں میں اتر آنا ایک نہایت لطیف منظر ہے۔ شاعر درد سے نجات نہیں چاہتا بلکہ اسی درد کے نور سے نکھرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ صوفیانہ تصور ہے جہاں کرب تزکیۂ نفس کا وسیلہ بنتا ہے۔ ذیشانؔ کا یہی رویہ انہیں محض رومانوی نہیں بلکہ فکری شاعر بناتا ہے۔

میں تھکا ہوا ہوں لبِ افق، کسی شام کی سی ڈھلان پر

مرا  ہاتھ تھام  کے  کوئی اب، مجھے روشنی میں  اُتار  لے

افق کی ڈھلان پر کھڑا شاعر زندگی کی شام کی علامت ہے۔ یہاں روشنی میں اُتارنے کی التجا نجات اور رہنمائی کی خواہش ہے۔ یہ شعر وجودی تھکن، وقت کے گزرنے اور روحانی سہارے کی طلب کا حسین مرقع ہے۔

یہ جو ان کہی سی پکار ہے، اسے کون  دے  گا  سماعتیں؟

وہی ڈھونڈ لائے سکوت سے، وہی بخت آ کے ابھار لے

ان کہی پکار باطن کی وہ آواز ہے جو لفظوں میں نہیں ڈھلتی۔ شاعر ایسی ہستی کا متلاشی ہے جو سکوت سے بھی معنی کشید کر سکے۔ یہ شعر داخلی تنہائی اور روحانی ہم آہنگی کی جستجو کو نہایت گہرے انداز میں پیش کرتا ہے۔

اسی دشتِ ہجر کی دھوپ میں، سبھی سائباں جو پگھل گئے

ابھی   وقت   ہے   کہ   یہ   کہرِ  غم،  رخِ  زندگی  کو   سدھار   لے

یہ شعر دکھ کی شدت کو دشت کی دھوپ سے تشبیہ دیتا ہے جہاں سائے بھی پگھل جاتے ہیں۔ مگر شاعر مایوس نہیں، وہ کہتا ہے کہ ابھی وقت ہے زندگی کو سنوارنے کا۔ یہ امید کی شمع کو بجھنے نہیں دیتا۔

کسی شاخِ جاں پہ بکھر گئیں، وہ جو خواہشوں کی تھیں تتلیاں

انہیں   رنگ   دے   کوئی   یاد   اک، انہیں   یادِ   یار   نکھار  لے

خواہشوں کو تتلیوں سے تشبیہ دینا نہایت دلکش ہے۔ بکھری ہوئی خواہشیں یادِ یار کے رنگ سے دوبارہ زندہ ہو سکتی ہیں۔ یہ شعر محبت کی یاد کو زندگی کی تجدیدی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

یہ  جو سوچ   سوچ  کے  تھک گئی، کسی آخری سے سوال پر

اِسے ایک خواب کی سادہ لو، کوئی سمت دے کے گزار لے

فکر کی تھکن اور سوال کی بے سمتی یہاں نمایاں ہے۔ شاعر خواب کی سادہ لو کو رہنمائی کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ شعر عقل کی بے بسی اور خواب کی روشنی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔

مری خامشی کے حصار میں، کوئی حرفِ وصل اُتر ہی آئے

مرے  ٹوٹتے  ہوئے  حوصلے، کوئی   نام  لے   کے   پکار   لے

مقطع میں شاعر کی التجا اپنے عروج پر ہے۔ خاموشی کا حصار ٹوٹنے اور وصل کا ایک حرف اتر آنے کی آرزو محبت کی انتہا ہے۔ “نام لے کے پکارنا” شناخت، قبولیت اور حوصلے کی بحالی کی علامت ہے۔ یہ شعر پوری غزل کا جذباتی اور فکری نچوڑ ہے۔

اختتامی نوٹ

یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کی داخلی سچائی، روحانی لطافت اور جمالیاتی وقار کی درخشاں مثال ہے۔ یہاں درد زوال نہیں بلکہ شعور کی بالیدگی ہے۔ ہجر محرومی نہیں بلکہ باطن کی آنکھ کھولنے والا تجربہ ہے۔ خاموشی خلا نہیں بلکہ معنی کی گہرائی ہے۔ یاد بوجھ نہیں بلکہ زندگی کی تجدیدی قوت ہے۔ شاعر کی آواز مدھم ضرور ہے مگر اثر میں گہری ہے۔ وہ چیخ کر نہیں بولتے بلکہ دل کی تہوں میں اتر جاتے ہیں۔ یہی انداز کلاسیکی اردو غزل کی اصل پہچان ہے۔ ذیشانؔ اسی روایت کو جدید حسّیت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی شاعری مقامی دائرے سے نکل کر عالمی سطح پر اردو زبان کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ واقعی شاعرِ ہجر ہیں، جن کے ہاں فراق روشنی میں ڈھل جاتا ہے۔ ان کا کلام دل سے نکل کر روح تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ یہی تاثیر انہیں معاصر شعرا میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شاعری کی معنوی پرتیں مزید وا ہوتی جائیں گی۔ اور یہی دوام کسی بھی بڑے شاعر کی سب سے  بڑی شناخت ہوا کرتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi