Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi
وقت کی خاموش بستی میں: ذیشانؔ امیر سلیمی کا شعری اظہار
غزل
ذیشانؔ امیر سلیمی
تبصرہ نگار
تمہیدی نوٹ
ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ غزل جدید اردو غزل کے اس فکری و جمالیاتی تسلسل کی نمائندہ ہے جہاں شاعر اپنی ذات کو محض داخلی کرب کا حوالہ نہیں بناتا بلکہ اسے تہذیبی شعور، فکری ضبط اور وجودی وقار کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ بطور شاعرِ ہجر، ذیشانؔ کے یہاں فراق صرف جذباتی محرومی نہیں بلکہ شعور کی وہ سطح ہے جہاں انسان خود کو وقت، خاموشی اور معنی کے تناظر میں دریافت کرتا ہے۔ یہ غزل داخلی مکالمے کی ایسی صورت ہے جس میں شاعر کا “میں” شور نہیں مچاتا بلکہ ٹھہراؤ، تامل اور گہری خود آگاہی کے ساتھ قاری سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ کلام نہ صرف فنی پختگی کا ثبوت ہے بلکہ اردو غزل کے اس سنجیدہ مزاج کی توسیع بھی ہے جو روایت سے جڑی رہ کر نئی معنوی جہات پیدا کرتی ہے۔
نہ خواب کی ہوں میں تعبیر، نہ دل کا کوئی قرار ہوں میں
شامِ درد کی مدھم لے میں، ڈھلتا ہوا اظہار ہوں میں
مطلع ہی سے شاعر اپنی ذات کو کسی حتمی تعریف میں قید کرنے سے انکار کرتا ہے۔ خواب کی تعبیر یا دل کا قرار نہ ہونا دراصل داخلی اضطراب نہیں بلکہ شعوری انکسار کی علامت ہے۔ “شامِ درد کی مدھم لے” ایک ایسا جمالیاتی استعارہ ہے جہاں اظہار چیخ نہیں بنتا بلکہ آہستگی سے ڈھلتا ہوا احساس بن جاتا ہے۔ یہاں شاعر خود کو کیفیت کے طور پر پیش کرتا ہے، شے کے طور پر نہیں۔ یہ مطلع غزل کے فکری آہنگ کا نہایت شائستہ تعارف ہے۔
شورِ دنیا نے مجھ سے پوچھا، کیا ہے ٹھکانہ ترا آخر
صرف یہی میں نے کہا، خامشیِ وقتِ غبار ہوں میں
اس شعر میں دنیا کے شور اور شاعر کی خاموشی کے درمیان بامعنی تضاد قائم ہوتا ہے۔ “ٹھکانہ” مادی شناخت کا سوال ہے، جبکہ شاعر اس کے جواب میں خود کو وقت کے غبار میں تحلیل شدہ خاموشی قرار دیتا ہے۔ یہ ایک بلند سطح کی وجودی آگہی ہے جہاں شناخت کسی مقام یا نام سے نہیں بلکہ کیفیتِ وقت سے وابستہ ہے۔ شاعر کا یہ جواب فکری بلوغت اور داخلی استغنا کا آئینہ دار ہے۔
خزاں رسیدہ لمحوں میں بھی، نامِ بہار لبوں پہ رہا
ہر بکھرے ہوئے موسم کا، خاموش سا اعتبار ہوں میں
یہ شعر امید اور ضبط کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ خزاں میں بہار کا نام لینا کسی سادہ خوش فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ داخلی یقین کی علامت ہے۔ شاعر خود کو “خاموش اعتبار” کہتا ہے، جو شور سے بے نیاز اعتماد کا استعارہ ہے۔ یہاں ذیشانؔ دکھ کے بیچ بھی جمالیاتی توازن قائم رکھتے ہیں، جو ان کے فکری وقار کو نمایاں کرتا ہے۔
گردِ سفر نے ڈھانپ ہی رکھا، چہرۂ خوابِ رفتہ کو
یادِ ناتمام کی بستی میں، باقی بچا کردار ہوں میں
یہ شعر یاد، سفر اور ادھورے پن کے احساس کو نہایت مہذب پیرائے میں بیان کرتا ہے۔ خوابِ رفتہ کا چہرہ گرد میں چھپ جانا وقت کے جبر کی علامت ہے، مگر شاعر خود کو یادِ ناتمام میں باقی رہ جانے والا کردار قرار دیتا ہے۔ یہ کردار شکست خوردہ نہیں بلکہ معنی کا امین ہے۔ یہاں شاعر خود کو مٹنے کے بعد بھی باقی رہنے والی معنویت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
یادِ گلاب کی تپتی خوشبو، ہر اک سانس کو جلاتی رہی
خاکِ جدائی کے آنگن میں، سلگتا ہوا اشجار ہوں میں
اس شعر میں خوشبو اور جلنے کا امتزاج ایک گہرا حسیاتی تاثر پیدا کرتا ہے۔ گلاب کی یاد، جو عموماً راحت کی علامت ہے، یہاں تپتی ہوئی اذیت بن جاتی ہے۔ شاعر خود کو “سلگتا ہوا اشجار” کہہ کر جدائی کے مستقل کرب کو فطری استعارے میں ڈھال دیتا ہے۔ یہ داخلی درد کی نہایت مہذب اور جمالیاتی تصویر ہے۔
دردِ رواں کی سلگتی موجوں نے، شکل نئی سی دے ڈالی
ٹوٹے ہوئے احساس کی بستی کا، آخری معمار ہوں میں
یہ شعر شاعر کی تخلیقی قوت کا اعلان ہے۔ درد یہاں محض توڑنے والا نہیں بلکہ نئی صورتیں تراشنے والا عنصر ہے۔ “آخری معمار” ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شاعر شکستہ احساسات سے بھی معنی کی تعمیر کرتا ہے۔ یہ رویہ ذیشانؔ کو محض غم کا شاعر نہیں بلکہ غم سے شعور کشید کرنے والا فنکار ثابت کرتا ہے۔
جامِ گریزاں کی تلخی نے، ہونٹوں سے حرف چرا لیا
پیے بغیر جو ٹوٹ کے بکھرے، ایسا ہی اک خمار ہوں میں
یہ شعر ناکامی، تشنگی اور ادھورے تجربے کی نہایت نفیس تصویر ہے۔ “پیے بغیر خمار” ایک بلند استعاراتی سطح رکھتا ہے، جہاں محرومی بھی کیفیت بن جاتی ہے۔ شاعر کا یہ اعتراف کمزوری نہیں بلکہ شعری دیانت اور داخلی سچائی کی علامت ہے۔
سانسِ شکستہ کے پردے میں، عمر نے خود کو دیکھا ہے
ڈوبتے ہوئے ہر اک لمحے کا، سانسوں پہ رکھا ادھار ہوں میں
یہ شعر وقت اور زندگی کے باہمی رشتے کو فکری گہرائی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ عمر کا خود کو سانسِ شکستہ میں دیکھنا خود احتسابی کی علامت ہے۔ شاعر خود کو لمحوں کا ادھار قرار دے کر انسانی وجود کی ناپائیداری کو نہایت وقار سے بیان کرتا ہے۔
خاکِ راہِ وجود میں گم ہو کر خود کو پایا ہے
ٹوٹتے ہوئے ہر منظر کا، ٹھہرا ہوا آثار ہوں میں
یہاں فنا کے ذریعے بقا کا تصور سامنے آتا ہے۔ وجود کی خاک میں گم ہو کر خود کو پا لینا صوفیانہ شعور کی جھلک ہے۔ شاعر خود کو ٹوٹتے مناظر کا “ٹھہرا ہوا آثار” کہہ کر وقت کے بہاؤ میں معنی کی بقا کا استعارہ بن جاتا ہے۔
ہے دنیاءِ سخن میں سانس کی دھیمی لَے جاری ذیشانؔ
وقت کی خاموش بستی میں، حرفِ روشن اظہار ہوں میں
مقطع میں شاعر اپنی شعری شناخت کا نہایت شائستہ اعلان کرتا ہے۔ وہ خود کو بلند آہنگ دعوؤں کے بجائے “سانس کی دھیمی لے” سے وابستہ کرتا ہے۔ خاموش وقت میں روشن حرف بن جانا ذیشانؔ کے شعری منصب کی درست ترین تعبیر ہے۔
اختتامی کلمات
یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کے اس شعری مقام کو مستحکم کرتی ہے جہاں احساس شور نہیں بنتا بلکہ تہذیب اختیار کرتا ہے۔ ان کا کلام قاری کو چونکاتا نہیں، آہستہ آہستہ اپنے اندر اتارتا ہے۔ بطور شاعرِ ہجر، وہ فراق کو نوحہ نہیں بلکہ فکری تربیت میں ڈھالتے ہیں۔ یہ غزل اردو ادب کے لیے ایک انمول اضافہ ہے جو کلاسیکی روایت، جدید شعور اور جمالیاتی وقار کو یکجا کرتا ہے۔ سنجیدہ قاری کے لیے یہ محض ایک غزل نہیں بلکہ ایک گہرا، دیرپا اور روحانی تجربہ ہے ایسا تجربہ جو دل کو زخمی نہیں کرتا بلکہ اسے سمجھدار بناتا ہے۔

Comments
Post a Comment