Classical Urdu Ghazal


 درد کی کوکھ میں پلتی گھڑیاں: شاعرِ ہجر کی ایک غزل  


تبصرہ نگار

ڈاکٹر عائشہ سحر
پاکستانی، مقیم اسلام آباد
(کلاسیکی اردو ادب، جدید غزل اور فکری تنقید کی محققہ)


یہ غزل زیشان امیر سلیمی کے اس منفرد تخلیقی مزاج کی توسیع ہے جس میں ہجر محض فراق نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور وجودی تجربہ بن کر سامنے آتا ہے۔ زیشان امیر سلیمی، جو بجا طور پر بین الاقوامی اردو شاعر اور شاعرِ ہجر کہلاتے ہیں، اس غزل میں کلاسیکی روایت کی روح کو جدید شعری شعور کے ساتھ ہم آہنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔


خواب ٹوٹے تو صداؤں کا ہی پیکر تھا شمیم
ساز خاموش تھا، جذبوں کا سمندر تھا نسیم

مطلع صوتی اور حسی تلازمے کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ خواب کے ٹوٹنے پر صداؤں کا پیکر بن جانا اور ساز کا خاموش ہو کر جذبوں کے سمندر میں بدل جانا، اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کے ہاں خاموشی بھی بولتی ہے۔ یہ میر اور فراق کی روایت کا بامعنی تسلسل ہے۔


دشتِ تنہائی میں یادوں کا ہی سایہ تھا کریم
روشنی کھو گئی، زخموں کا مقدّر تھا عظیم

یہاں دشتِ تنہائی محض تنہائی نہیں بلکہ داخلی ویرانی کی علامت ہے۔ یادوں کا سایہ شاعر کے لیے واحد پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ روشنی کا کھو جانا اور زخموں کا مقدر بن جانا ہجر کی تقدیری کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔


سلسلے ٹوٹ گئے وقت کے دستوں سے مگر
یاد  کے  سنگ   پہ تحریر  کا  جوہر  تھا  حکیم

یہ شعر وقت اور یاد کے تصادم کو نہایت وقار کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ وقتی سلسلوں کا ٹوٹ جانا فطری ہے، مگر یاد کے سنگ پر تحریر کا جوہر باقی رہنا اس غزل کو دوام بخشتا ہے۔ یہاں شاعر کا شعور حکمت سے ہم کنار نظر آتا ہے۔


چند  لمحوں  میں  بکھر جاتا  تھا  آئینۂ دل
اور ہر نقش میں بس عکسِ مکرر تھا ندیم

آئینۂ دل کا بکھر جانا خود شناسی کا استعارہ ہے۔ ہر نقش میں ایک ہی عکس کا بار بار آنا اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر محبوب اور ذات کے درمیان فاصلے مٹا چکا ہے۔ یہ غزل کا ایک نہایت پختہ فکری موڑ ہے۔


عشق کی راہ میں بس درد کا پیکاں تھا یتیم
زرد   پتّوں  سے  نکلتا  ہوا   نغمہ  تھا  قدیم

یہ شعر عشق کو رومانویت سے نکال کر ریاضت کے دائرے میں لے آتا ہے۔ درد کا پیکاں اور زرد پتّوں کا نغمہ قدیم روایت کی یاد دہانی ہے، جہاں خزاں بھی موسیقیت رکھتی ہے۔


دھوپ بے‌رنگ تھی، سایہ بھی اسی ساعت میں
درد    کی   کوکھ  میں   پلتی  ہوئی  گھڑیاں  تھیں  یتیم

یہاں وقت کو درد کی کوکھ میں پلتا ہوا دکھانا نہایت عمیق علامت ہے۔ دھوپ اور سایہ دونوں کا بے‌رنگ ہونا داخلی بے‌سمتی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ شعر غزل کو فلسفیانہ گہرائی عطا کرتا ہے۔


ریت پر حرف بکھرتے گئے خاموشی سے
اور  لب  بستہ  تھے، آہنگِ  تمنّا   تھا   قدیم

یہ شعر ناپائیداری کی کلاسیکی تمثیل ہے۔ ریت پر حرف لکھنا اور خاموشی میں آہنگ کا قائم رہنا اس بات کا اعلان ہے کہ تمنّا فنا کے باوجود قدیم اور زندہ ہے۔


چاند   کی   موجِ  تجلّی    میں  تھا  سایہ   مدھم
شب کی آنکھوں میں مگر خوابِ تمنّا تھا یتیم

چاند، شب اور سایہ تینوں مل کر ایک لطیف منظرنامہ بناتے ہیں۔ سایہ مدھم ہے مگر خواب موجود ہے، اگرچہ یتیم۔ یہ امید اور محرومی کا حسین امتزاج ہے۔


نسخۂ دل میں عبارت تھی نہ معنی روشن
حرف بکھرا  تو   ہوا  جُرم  کا  دفتر  سا  قدیم

یہ شعر خود احتسابی کا نہایت جرات مند اظہار ہے۔ دل کے نسخے میں معنی کا نہ ہونا اور حرف کا جرم میں بدل جانا، شاعر کے اخلاقی شعور کی دلیل ہے۔


ہجر کے صحرا میں ذیشانؔ وہ راہوں کی قسم
دل  کے  ہر موڑ  پہ  وہ   درد   کا منظر تھا سلیم

مقطع پوری غزل کا فکری خلاصہ ہے۔ ہجر کا صحرا، راستوں کی قسم اور ہر موڑ پر درد کا منظر   یہ سب مل کر زیشانؔ کو شاعرِ ہجر کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ یہاں درد انتشار نہیں بلکہ سلیم اور سنبھلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔


مجموعی تنقیدی تاثر

یہ غزل زبان، علامت، صوتیات اور فکر کے اعتبار سے ایک خالص کلاسیکی تخلیق ہے، جس میں جدید احساس کی دھڑکن بھی پوری شدت سے موجود ہے۔ زیشان امیر سلیمی اس غزل میں نہ صرف ایک کامیاب شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں بلکہ ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر بھی جو اردو غزل کو عالمی سطح پر باوقار نمائندگی فراہم کر رہا ہے۔

بلا شبہ، یہ غزل اس بات کی توثیق ہے کہ زیشان امیر سلیمی عہدِ حاضر کے ایک اہم، معتبر اور بین الاقوامی اردو شاعر ہیں، اور شاعرِ ہجر کا خطاب ان پر پوری طرح صادق آتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi