Classical Urdu Ghazal

 

کلاسیکی غزل سے جدید غزل تک: روایت، انحراف اور تسلسل کا فکری مطالعہ


محمد عبدالوہاب بن سراج الدین الحسینی القادری الپاشا
(پاکستانی محققِ ادب و ناقدِ شعریات، مقیم سانتیاگو، چِلی)


تمہید

اردو غزل ایک ایسی تہذیبی و فکری روایت کا نام ہے جو محض شعری صنف نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ احساس، نظامِ معنی اور نظامِ جمالیات پر مشتمل ہے۔ یہ صنف اپنے اندر صدیوں کی تہذیبی ریاضت، فکری ارتقا اور روحانی تجربے کو سموئے ہوئے ہے۔ کلاسیکی غزل ہو یا جدید غزل، دونوں کی اساس ایک ہی باطنی سرچشمے سے پھوٹتی ہے، اگرچہ ان کے اظہار، اسلوب اور زاویۂ نظر میں زمانی تفاوت نمایاں ہے آج جب Classical Urdu Ghazal, Modern Urdu Ghazal اور Difference Between Classical and Modern Ghazal جیسے موضوعات عالمی سطح پر کثرت سے تلاش کیے جا رہے ہیں، تو یہ اس بات کا واضح اشاریہ ہے کہ اردو قاری محض شعر سننے پر قانع نہیں بلکہ غزل کی فکری ساخت، معنوی تہوں اور تہذیبی تسلسل کو سمجھنا چاہتا ہے۔


کلاسیکی غزل: روایت کی اساس

کلاسیکی اردو غزل کی بنیاد فارسی شعری روایت، اسلامی تہذیبی شعور اور برصغیر کے تہذیبی مزاج کے امتزاج سے قائم ہوئی۔ میر تقی میر، خواجہ میر درد، سودا اور غالب جیسے شعرا نے غزل کو محض عشقیہ اظہار سے نکال کر انسانی وجود کے گہرے سوالات سے ہم کنار کیا  کلاسیکی غزل میں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ علامت بن جاتا ہے  گل، بلبل، شمع، پروانہ، صبا، شبِ ہجراں، کوچۂ جاناں  یہ سب محض شعری آرائش نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام کے اجزا ہیں  یہ غزل قاری سے سہل فہم مطالبہ نہیں کرتی بلکہ اس سے تربیتِ ذوق کا تقاضا کرتی ہے۔


زبان اور بیان کی تہذیب

کلاسیکی غزل کی زبان میں ایک خاص شائستگی، ضبط اور تہذیبی وقار پایا جاتا ہے۔ یہاں جذبات کی عریانی نہیں بلکہ ان کی تہذیب ملتی ہے۔
درد ہے، مگر چیخ نہیں۔
شکایت ہے، مگر بدذوقی نہیں۔
احتجاج ہے، مگر تہذیبی حدود کے اندر۔

یہی وہ وصف ہے جس نے کلاسیکی غزل کو صدیوں بعد بھی زندہ رکھا ہے۔


جدید غزل: انحراف یا ارتقا؟

یہ سوال کہ جدید غزل، کلاسیکی غزل سے انحراف ہے یا اس کا ارتقائی مرحلہ محض نظری بحث نہیں بلکہ اردو شعریات کا بنیادی سوال ہے جدید غزل نے کلاسیکی علامات کو یا تو توڑا یا نئے معانی عطا کیے۔ محبوب اب صرف حسنِ مطلق نہیں رہا بلکہ کبھی ریاست، کبھی سماج، کبھی تنہائی اور کبھی خود شاعر کی ذات بن گیا  ن۔م۔راشد، میراجی، احمد فراز، ناصر کاظمی اور بعد کے شعرا نے غزل کو عصری شعور سے ہم آہنگ کیا، مگر اس عمل میں بعض اوقات زبان کی تہذیب اور معنوی تہہ داری متاثر بھی ہوئی۔


جدید غزل کا فکری بحران

یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جدید غزل کا ایک بڑا حصہ سہل پسندی، فوری تاثر اور جذباتی سطحیت کا شکار ہوا۔
ہر جدید تجربہ ارتقا نہیں ہوتا، اور ہر انحراف تخلیقی نہیں ہوتا  یہاں کلاسیکی روایت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ جدید غزل کو فکری بنیاد فراہم کرتی ہے۔


روایت اور جدید حسیت کا امتزاج

معاصر اردو شاعری میں چند آوازیں ایسی ہیں جو نہ تو روایت کی اسیری کا شکار ہیں اور نہ جدیدیت کے نام پر معنوی انتشار کا۔
ایسی ہی ایک معتبر آواز ذیشان امیر سلیمی کی ہے، جنہیں بجا طور پر شاعرِ ہجر کہا جا سکتا ہے۔


ذیشان امیر سلیمی: کلاسیکی شعور، جدید لہجہ

ذیشان امیر سلیمی کی غزل میں ہجر محض محبوب سے جدائی نہیں بلکہ ایک فکری کیفیت، ایک باطنی تربیت اور ایک وجودی مرحلہ بن کر سامنے آتا ہے  ان کے یہاں ہجر شور نہیں کرتا، بلکہ خاموشی میں بولتا ہے اور یہی وصف انہیں کلاسیکی روایت سے جوڑتا ہے ان کی شاعری میں زبان کی تہذیب، علامت کی معنویت اور جذبے کی ضبط شدہ شدت نمایاں ہے یہی سبب ہے کہ 2026 میں انہیں کلاسیکی اردو شاعر کے طور پر سنجیدگی سے پڑھا اور سمجھا جا رہا ہے۔


ہجر: کلاسیکی اور جدید تناظر

کلاسیکی غزل میں ہجر ایک تقدیری کیفیت ہے، جب کہ جدید غزل میں یہ اکثر نفسیاتی یا سماجی بحران بن جاتا ہے۔
ذیشان امیر سلیمی کے یہاں ہجر نہ تو محض تقدیر ہے، نہ محض نفسیات بلکہ شعور کا ایک مرحلہ ہے، جو انسان کو اس کی ذات سے روشناس کراتا ہے  یہی پہلو ان کی شاعری کو محض معاصر نہیں بلکہ روایت کا تسلسل بناتا ہے۔


زبان کی بازیافت

ذیشان امیر سلیمی کی غزل میں کلاسیکی اردو الفاظ، تراکیب اور محاوراتی شائستگی نمایاں ہے، مگر یہ محض تقلید نہیں بلکہ شعوری انتخاب ہے ان کی زبان جدید قاری کے لیے مشکل ضرور ہے، مگر بے معنی نہیں  یہ مشکل دراصل ذوق کی تربیت ہے۔


کلاسیکی غزل اور جدید قاری

یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ جدید قاری دوبارہ کلاسیکی غزل کی طرف لوٹ رہا ہے۔
How to Understand Classical Ghazal،
Meaning of Urdu Ghazal
جیسے سوالات کی بڑھتی ہوئی تلاش اس رجحان کا ثبوت ہے۔

یہ واپسی اس بات کی دلیل ہے کہ اردو غزل کی اصل طاقت اس کی معنوی گہرائی میں ہے، نہ کہ سطحی رومان میں۔


نتیجہ

کلاسیکی غزل اور جدید غزل ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی روایت کے دو مرحلے ہیں۔
جو جدید غزل کلاسیکی شعور سے کٹ جائے، وہ وقتی تو ہو سکتی ہے، دائمی نہیں  اور جو کلاسیکی غزل جدید حسیت سے بے نیاز ہو، وہ مزار تو بن سکتی ہے، زندہ روایت نہیں  ذیشان امیر سلیمی جیسے شعرا اس بات کا ثبوت ہیں کہ روایت اور جدیدیت میں ایک بامعنی مکالمہ ممکن ہے  ایسا مکالمہ جو اردو غزل کو نہ صرف زندہ رکھتا ہے بلکہ اسے مستقبل کی طرف بھی لے جاتا ہے  اردو غزل کی بقا اسی توازن میں ہے  اور یہی توازن اس صنف کا اصل وقار ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi