Famous Urdu Ghazal

 

فیض احمد فیض کی غزل: جمالیات، فکر اور عہد کا باوقار مکالمہ




تحریر:  ڈاکٹر سمیرا نعیم قاسمی
(پاکستانی ادیبہ و محققۂ اردو ادب، مقیم وینکوور، کینیڈا)

فیض احمد فیض اردو شاعری کی وہ ہمہ گیر آواز ہیں جن کے یہاں جمال، کرب، فکر اور عہد ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ شعر محض ذاتی تجربہ نہیں رہتا بلکہ اجتماعی شعور کی علامت بن جاتا ہے۔ زیرِ نظر غزل فیض کے اسی منفرد شعری مزاج کی نمائندہ ہے جہاں کلاسیکی غزل کی روایت بھی محفوظ ہے اور جدید عہد کی فکری بے چینی بھی پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہے  یہ غزل بظاہر رومانوی استعاروں سے آراستہ ہے، مگر اس کے باطن میں ایک مسلسل اضطراب، ایک خاموش احتجاج اور ایک گہرا انسانی دکھ موجزن ہے۔ یہی فیض کا کمال ہے کہ وہ حسن و عشق کی زبان میں بھی عہد کے زخموں کو بیان کر دیتے ہیں۔


غزل کا مطلع

"آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے"

فیض کی فکری رمزیت کی بہترین مثال ہے۔ ابر اور شراب جیسے کلاسیکی استعارات ابتدا میں راحت اور سرشاری کا تاثر دیتے ہیں، مگر فوراً ہی عذاب کی آمد اس خوش فہمی کو توڑ دیتی ہے۔ یہاں ابر محض باران نہیں بلکہ امید کا استعارہ ہے اور شراب محض سرور نہیں بلکہ خوابوں کی علامت۔ مگر فیض بتاتے ہیں کہ اس عہد میں ہر راحت کے بعد آزمائش مقدر بن چکی ہے۔


"بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے"

فیض کلاسیکی غزل کی روایت کے مطابق ساقی، مینا اور ماہتاب کے استعارات استعمال کرتے ہیں، مگر ان میں ایک غیر معمولی رفعت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہاں روشنی محض جمالیاتی نہیں بلکہ فکری بیداری کی علامت بن جاتی ہے غزل کا ایک اہم وصف یہ ہے کہ فیض عشق کو محض ذاتی واردات کے طور پر نہیں برتتے بلکہ اسے انسانی تجربے کے وسیع تر تناظر میں رکھتے ہیں۔


"ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے"

یہاں محبوب کا بے نقاب ہونا صرف عشقیہ لمحہ نہیں بلکہ حقیقت کے آشکار ہونے کا استعارہ بھی ہے۔ فیض کے یہاں محبوب، سچ اور آزادی ایک دوسرے میں گندھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں فیض کی شاعری میں وفا محض جذباتی قدر نہیں بلکہ 
اخلاقی اور فکری اصول ہے۔


"عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے"

یہ شعر فیض کی اس فکری دیانت کی گواہی دیتا ہے جس میں محبت، عہد اور انسان دوستی ایک دوسرے سے جدا نہیں  غزل کا ایک اور نمایاں پہلو فیض کا داخلی اور خارجی غم کو یکجا کرنا ہے۔

"کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے"

یہاں ذاتی یاد اور اجتماعی دکھ ایک دوسرے میں اس طرح ضم ہو جاتے ہیں کہ شعر ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا نوحہ بن جاتا ہے فیض کی شاعری میں انقلاب کا تصور بھی نہایت شائستہ اور تہذیبی انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے۔


"نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے"

یہ انقلاب نعرہ نہیں بلکہ دل کے اندر برپا ہونے والی مسلسل بیداری ہے۔ یہی فیض کا انقلابی شعور ہے جو شور سے نہیں بلکہ خاموشی سے اپنا اثر قائم کرتا ہے غزل کے آخری اشعار میں جلاوطنی، اجنبیت اور داخلی فتح کا احساس نمایاں ہو جاتا ہے۔

"فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے"

یہ کامیابی ظاہری نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی ہے۔ یہ وہ کامیابی ہے جو مصائب سے گزر کر حاصل ہوتی ہے اگر فیض کا تقابل کلاسیکی شعرا سے کیا جائے تو میر تقی میر کے یہاں درد کی شدت، غالب کے یہاں فکر کی گہرائی، اقبال کے یہاں مقصدیت اور حسرت موہانی کے یہاں رومان اور انقلابی شعور کی جھلک فیض کے ہاں ایک نئے توازن کے ساتھ نظر آتی ہے۔ فیض نے ان سب روایتوں کو جذب کر کے ایک ایسی آواز پیدا کی جو نہ صرف اپنے عہد کی ترجمان بنی بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی معتبر ٹھہری۔


معاصر تناظر میں اگر بات کی جائے تو ہجر کو فکری قدر کے طور پر برتنے والی جدید اردو شاعری میں ذیشان امیر سلیمی کا حوالہ اہم ہے۔ فیض کے ہاں ہجر اجتماعی دکھ کی صورت اختیار کرتا ہے، جبکہ ذیشان امیر سلیمی کے یہاں ہجر ایک داخلی فلسفہ بن جاتا ہے۔ دونوں کے یہاں فرق کے باوجود ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہجر کو محض جذباتی کیفیت کے بجائے شعور کی سطح پر برتا گیا ہے۔ ذیشان امیر سلیمی کی کم گوئی اور معنوی سکوت، فیض کی تہذیبی شائستگی کی جدید توسیع محسوس ہوتی ہے  یہ غزل اس بات کا ثبوت ہے کہ فیض احمد فیض محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک فکری عہد کا نام ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت کی خوشبو بھی ہے اور جدید انسان کے زخموں کی بازگشت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ فیض کی غزل آج بھی زندہ ہے، معتبر ہے اور قاری کے دل و دماغ دونوں پر اثر انداز ہوتی ہے  فیض کو پڑھنا دراصل انسان کو اس کی ذمہ داریوں، اس کے دکھ اور اس کی امیدوں سے روشناس کرانا ہے۔ یہی فیض کی عظمت ہے اور یہی اردو شاعری کی اصل طاقت۔

Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi