Ilm-e-Aruuz

 

اُردو شاعری کا عروضی نظام



مستعمل بحریں اور تسکینِ اوسط کا فنی و تحقیقی مطالعہ

بقلم رخسانہ عنبر
تمہید

اردو شاعری، اپنی طویل اور شاندار تاریخ کے ساتھ، محض جذبات کے بے ساختہ اظہار کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نہایت منظم، ریاضت طلب اور حسابی فن ہے جو "علمِ عروض" کے نازک اور پیچیدہ اصولوں پر استوار ہے۔ شاعری میں آہنگ، نغمگی اور صوتی اثر پیدا کرنے کے لیے الفاظ کی ترتیب کا ایک خاص نظام وضع کیا گیا ہے جسے "بحر" کہا جاتا ہے۔ بحر دراصل آوازوں کے اتار چڑھاؤ، ان کے دورانیے اور ان کے باہمی تناسب کا ایک پیمانہ ہے جو شعر کو نثر سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا قالب ہے جس میں الفاظ کو ڈھالا جاتا ہے تاکہ ان میں موسیقی اور تاثیر پیدا ہو۔ اردو زبان کا عروضی نظام بنیادی طور پر عربی اور فارسی سے مستعار ہے، لیکن برصغیر کے مخصوص ثقافتی مزاج، مقامی بولیوں کے اثرات اور ہندی لسانی و صوتیات نے اسے ایک نئی اور منفرد جہت عطا کی ہے۔ اردو شاعری نے جہاں عربی کی سخت گیریت اور فارسی کی نغمگی کو اپنایا، وہیں اس نے سنسکرت اور ہندی کے "چھند" شاستر سے بھی اثر قبول کیا، جس کے نتیجے میں اردو عروض میں ایک ایسی لچک پیدا ہوئی جو دیگر زبانوں میں کم ہی نظر آتی ہے

علمِ عروض اور بحر کی بنیادی سائنس
اس سے پہلے کہ ہم مستعمل بحروں کی تفصیلات اور باریکیوں میں اتریں، یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ بحر کی بنیاد کن عناصر پر ہے۔ علمِ عروض درحقیقت "آوازوں کی سائنس" ہے۔ اس علم کی بنیاد "املا" (Writing) پر نہیں بلکہ "تلفظ" (Pronunciation) پر ہے۔ شاعری میں جو بولا جائے گا وہی شمار ہوگا، جسے اصطلاح میں "ملفوظی" کہتے ہیں، اور جو لکھا جائے گا مگر بولا نہیں جائے گا وہ "غیر ملفوظی" کہلاتا ہے اور وزن میں شمار نہیں ہوتا۔ یہ اصول اردو عروض کی پہلی اور سب سے اہم بنیاد ہے۔

ارکان سازی: سبب اور وتد کا نظام
شعر کی تقطیع (Scansion) یعنی اسے وزن کرنے کے لیے الفاظ کو چھوٹے ترین صوتی اجزا میں توڑ لیا جاتا ہے جنہیں "ارکان" (Feet) کہتے ہیں۔ یہ ارکان مزید چھوٹے اجزا سے مل کر بنتے ہیں جنہیں "سبب" اور "وتد" کہا جاتا ہے۔ ان کی تفہیم کے بغیر بحر کے نظام کو سمجھنا ناممکن ہے
جدول 1: سبب اور وتد کی اقسام اور ساخت
نام جزو
تعریف
صوتی علامت
مثال
سببِ خفیف
دو حروف، پہلا متحرک دوسرا ساکن
2 یا
دل، گل، سن، کم
سببِ ثقیل
دو حروف، دونوں متحرک
11
ہَمہ (Ha-Ma)، سَرِ (Sa-Re)
وتدِ مجموع
تین حروف، پہلے دو متحرک تیسرا ساکن
12
چمن، قلم، ہوا
وتدِ مفروق
تین حروف، پہلا متحرک، دوسرا ساکن، تیسرا متحرک
21
وقتِ مقرر، خونِ دل
انہی اسباب اور اوتاد کے مختلف امتزاجات سے وہ بنیادی پیمانے وجود میں آتے ہیں جنہیں ہم "ارکان" کہتے ہیں۔ کلاسیکی عروض میں آٹھ بنیادی ارکان ہیں جنہیں "افاعیل" کہا جاتا ہے:
فعولن (وتد مجموع + سبب خفیف)
فاعلن (سبب خفیف + وتد مجموع)
مفاعیلن (وتد مجموع + سبب خفیف + سبب خفیف)
مستفعلن (سبب خفیف + سبب خفیف + وتد مجموع)
فاعلاتن (سبب خفیف + وتد مجموع + سبب خفیف)
متفاعلن (سبب ثقیل + سبب خفیف + وتد مجموع)
مفعولات (سبب خفیف + سبب خفیف + وتد مفروق)
مفاعلتن (وتد مجموع + سبب ثقیل + سبب خفیف)
مس تفع لن(سبب خفیف+ وتد مفروق+ سبب خفیف)
مف عو لاتُ(سبب خفیف+ سبب خفیف+ وتد) مفروق)
فاع لاتن(وتد مفروق+ سبب خفیف+ سببِ خفیف)
جب یہ ارکان ایک خاص ترتیب اور تکرار کے ساتھ مصرعے میں لائے جاتے ہیں تو "بحر" وجود میں آتی ہے۔ اگر یہ ترتیب ٹوٹ جائے یا اس میں بے قاعدگی آ جائے تو شعر "وزن" سے گر جاتا ہے

اردو زبان کا صوتی مزاج اور عروض
اردو زبان کا صوتی مزاج فارسی اور عربی سے قدرے مختلف ہے۔ عربی میں اعراب (حرکات) کی کثرت ہے، جبکہ اردو اور فارسی میں "سکون" زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی کی وہ بحریں جن میں متحرک حروف کی کثرت تھی (جیسے بحرِ کامل یا بحرِ وافر)، وہ اردو میں اس طرح مقبول نہ ہو سکیں جیسی کہ عربی میں تھیں۔ اردو شعرا نے اپنی سہولت اور زبان کی مٹھاس کے لیے ان بحروں میں ترامیم کیں اور "تسکینِ اوسط" جیسے اصولوں کا سہارا لیا تاکہ عربی بحروں کو اردو کے سانچے میں ڈھالا جا سکے

تسکینِ اوسط ایک فنی تحقیقی تجزیہ
"تسکینِ اوسط" علمِ عروض کا ایک انتہائی نازک پیچیدہ مگر تخلیقی قاعدہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عروض کی ریاضی اور شاعری کی موسیقی آپس میں بغل گیر ہوتی ہے۔ اکثر طلبا اور شعرا اس اصطلاح سے گھبراتے ہیں، لیکن اگر اسے منطقی انداز میں سمجھا جائے تو یہ اردو شاعری کے صوتی نظام کی سب سے بڑی خوبی بن کر سامنے آتی ہے

تسکینِ اوسط کی تعریف اور فلسفہ
لفظ "تسکین" عربی لفظ "سکون" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے "ٹھہرانا" یا "حرکت کو ختم کرنا"، اور "اوسط" کا مطلب ہے "درمیان"۔ اصطلاحی معنوں میں، تسکینِ اوسط کا مطلب ہے: "کسی رکن کے درمیان میں آنے والے متحرک حرف کی حرکت کو گرا کر اسے ساکن کر دینا۔"
اس قاعدے کے پیچھے فلسفہ یہ ہے کہ انسانی کان اور زبان مسلسل متحرک آوازوں کے تسلسل کو گراں محسوس کرتے ہیں۔ اردو زبان کی فطرت یہ ہے کہ وہ وقفہ چاہتی ہے۔ جب شاعری میں ایسے الفاظ یا ارکان آ جائیں جہاں مسلسل تین متحرک حروف (یعنی تین زبر، زیر یا پیش) ایک ساتھ آ جائیں، تو اسے عروض کی زبان میں "فاصلۂ کبریٰ" کہتے ہیں۔ اردو کا صوتی مزاج اسے پسند نہیں کرتا۔ اس "ثقالت" یا بھاری پن کو دور کرنے کے لیے، ماہرینِ عروض نے یہ اجازت دی کہ آپ ان تین متحرک حروف میں سے درمیان والے حرف کو "ساکن" کر سکتے ہیں۔ اس عمل سے رکن کا وزن تو وہی رہتا ہے (یعنی وقت اتنا ہی لگتا ہے) لیکن اس کی صوتی کیفیت بدل جاتی ہے اور وہ زبان پر ہلکا ہو جاتا ہے۔

تسکینِ اوسط کا میکانزم:
آسان الفاظ میں وضاحت
اس عمل کو سمجھنے کے لیے ہم ایک ریاضیاتی اور صوتی تجربہ کرتے ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس ایک رکن ہے: مُتَفَاعِلُن یہ بحرِ کامل کا بنیادی رکن ہے۔ اس کی ساخت کو دیکھیں:
مُ ) - متحرک (1)
تَ ) - متحرک (1)
فَا ) - متحرک ساکن(1)
عِ ) متحرک
لُن۔) متحرک ساکن
اصل رکن: مُتَفَاعِلُن توڑ: مُ (1) + تَ (1) + فَا (2) + عِ (1) + لُن (2) یہاں غور کریں:
شروع میں
مُ تَ فَا عِلُن پہلے تینوں حروف م ت ف محترک ہیں
تسکین کا عمل: قاعدہ کہتا ہے کہ درمیانی متحرک حرف (یعنی 'ت') کو ساکن کر دو۔ جب ہم نے 'ت' کو ساکن کیا تو 'مُتَ' بن گیا 'مُتْ' (مت)۔ اب یہ رکن کیا بنا؟ مُتْ + فَا + عِ + لُن = مُتْفَاعِلُن (مت فا علن)
اب ذرا غور کریں! مُتْفَاعِلُن کی آواز کس رکن جیسی ہے؟ اگر آپ مُسْتَفْعِلُن (مستفعلن) کو دیکھیں: مُسْ + تَفْ + عِ + لُن دونوں کا وزن اور صوتی دورانیہ بالکل برابر ہے۔ نتیجہ: تسکینِ اوسط کے ذریعے متفاعلن (جو کہ بحرِ کامل ہے) تبدیل ہو کر مستفعلن (جو کہ بحرِ رجز ہے) بن جاتا ہے۔
یہی وہ جادو ہے جس کی وجہ سے اساتذہ نے کہا کہ بحرِ کامل اور بحرِ رجز میں "اجتماع" جائز ہے۔ یعنی ایک شاعر اپنی غزل میں ایک مصرع "متفاعلن" کے وزن پر کہہ سکتا ہے اور دوسرا "مستفعلن" کے وزن پر، اور یہ کوئی عیب نہیں ہوگا۔ یہ آزادی شاعر کو الفاظ کے انتخاب میں وسعت دیتی ہے

میر تقی میرؔ کی "ہندی بحر" اور تسکینِ اوسط کا تخلیقی استعمال
تسکینِ اوسط کا سب سے دلچسپ اور تخلیقی استعمال ہمیں خدائے سخن میر تقی میر کے ہاں ملتا ہے۔ میر نے اردو شاعری کو فارسی کے تسلط سے نکال کر "ریختہ" کا اپنا رنگ دیا، جس میں ہندوستانی موسیقی اور بھاشا کی چاشنی تھی۔ انہوں نے کچھ ایسی بحریں ایجاد کیں یا استعمال کیں جو روایتی فارسی عروض کے پیمانوں پر پوری نہیں اترتی تھیں، لیکن ان میں ایک خاص بہاؤ تھا۔ محققین نے ثابت کیا ہے کہ یہ دراصل تسکینِ اوسط ہی کا کمال تھا۔
تحقیقی مواد میں ایک بہت اہم مثال "پھولوں" کی دی گئی ہے آئیے اسے کھول کر بیان کرتے ہیں۔ فرض کریں ایک بحر ہے جس کا رکن فَعِلُن (Fa-i-lun) ہے۔ (وزن: 112 دو متحرک ایک ساکن) اگر ہم اس رکن کو دو بار لائیں: فَعِلُن فَعِلُن تو یہ آواز بنتی ہے: ف ع لن یہاں مسلسل حرکات کا تسلسل ہے۔ میر نے اسے ہندوستانی مزاج کے قریب کرنے کے لیے تسکین کا عمل کیا۔ اگر ہم "فَعِلُن" کے عین (ع) کو ساکن کر دیں تو یہ فَعْلُن بن جاتا ہے۔ لیکن میر کا معاملہ اس سے آگے کا ہے۔ انہوں نے الفاظ کی نشست ایسی رکھی کہ ایک لفظ کا آخری حرف اور دوسرے کا پہلا حرف مل کر تسکین کی کیفیت پیدا کرتے ہیں
مثال کے طور پر میر کا مشہور زمانہ شعر ہے: پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
دراصل یہ ایک "ہندی بحر" ہے جو تسکینِ اوسط کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس میں رکن مفعول اور فِعل کا ایسا امتزاج ہے جو روایتی بحروں سے مختلف ہے۔ تحقیقی حوالے میں ذکر کردہ "پھولوں" والی مثال اسی تناظر میں ہے۔ لفظ "پھولوں" کا وزن "پولوں" (22) ہے اگر اسے کسی ایسی جگہ فٹ کرنا ہو جہاں تین متحرک درکار ہوں تو شاعر تسکین کے ذریعے اسے ایڈجسٹ کرتا ہے
میر کی یہ بحریں "متلون" بحریں کہلاتی ہیں کیونکہ ان میں ایک ہی مصرعے میں ارکان اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں (کبھی متحرک، کبھی ساکن)، جو کہ ہندی "ماترا" سسٹم کے قریب ہے۔ تسکینِ اوسط وہ پل ہے جس نے فارسی کے سخت "ارکان" کو ہندی کی لچکدار "ماتراؤں" سے جوڑ دیا

تسکینِ اوسط سے بننے والی نئی بحر:
عملی عمل
سوال یہ ہے کہ نئی بحر کیسے بنی؟ جب شعرا نے دیکھا کہ ایک ہی بحر میں تسکین کے ذریعے ارکان بدل رہے ہیں (مثلاً متفاعلن کے ساتھ مستفعلن آ رہا ہے)، تو انہوں نے اس "مخلوط حالت" کو ہی ایک مستقل بحر کی حیثیت دے دی۔ اس طرح "بحرِ کامل مسکّن" وجود میں آئی۔ یہ وہ بحر ہے جو اصل میں تو کامل تھی، لیکن اس کے ارکان کو مستقل طور پر ساکن (تسکین زدہ) کر کے اسے اردو کے لیے مروج کر لیا گیا۔
خلاصہ: تسکینِ اوسط محض ایک قاعدہ نہیں، بلکہ یہ اردو شاعری کا "میٹا مورفوسس ہے جس نے عربی کی تیز آہنگ بحروں کو اردو کی دھیمی اور رسیلی طبیعت کے مطابق ڈھال دیا۔
اردو شاعری کی مستعمل بحریں
اب ہم اردو شاعری میں کثرت سے استعمال ہونے والی بحروں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ اگرچہ عروض کی کتابوں میں 19 سے زائد بحریں درج ہیں، لیکن عملی طور پر اردو غزل کا 90 فیصد سرمایہ صرف 7 یا 8 بحروں میں سمٹ آتا ہے۔ ان بحروں کو "بحورِ مستعملہ" کہا جاتا ہے۔ ذیل میں ان بحروں کی فہرست اور ان کی فنی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔
مستعمل بحروں کی فہرست
بحرِ ہزج
بحرِ رمل
بحرِ رجز
بحرِ متقارب
بحرِ کامل
بحرِ مجتث
بحرِ مضارع
بحرِ خفیف
بحرِ سریع
بحرِ متدارک
آئیے ان میں سے سب سے اہم بحروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔
1. بحرِ ہزج
اردو غزل کی ملکہ
یہ اردو شاعری کی سب سے مقبول، سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اور سب سے زیادہ شیریں بحر ہے۔ اردو کی شاید 40 فیصد سے زائد غزلیں اسی بحر کی مختلف شکلوں میں کہی گئی ہیں۔ وجہِ تسمیہ: ہزج کا لغوی مطلب ہے "ترنم سے گانا" یا "خوش آواز"۔ چونکہ اس میں ایک خاص لہر اور موسیقی ہے، اس لیے اسے یہ نام دیا گیا۔ بنیادی رکن: اس کا بنیادی رکن مَفَاعِیْلُن ہے
(وتد مجموع + سبب خفیف + سبب خفیف)

بحر ہزج کے مشہور اوزان:
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻘﺒﻮﺽ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺷﺘﺮ : ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﻌﻮﻝُ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﻌﻮﻝُ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﻌﻮﻝُ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
‏( ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺤﺮ ﮨﺰﺝ " ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﺳﺎﻟﻢ " ﺍﻭﺭ " ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﺳﺎﻟﻢ " ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻭﺯﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺭﮐﻦ ﮐﮯ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﺳﺎﻟﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﻌﺮ، ﻧﻈﻢ ﯾﺎ ﻏﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ‏)
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻓﻌﻮﻟﻦ
‏( ﺍﺱ ﻭﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ ‏)
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺍﺧﺮﻡ ﺍﺷﺘﺮ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﻌﻮﻟﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
‏( ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺤﺮ ﮨﺰﺝ " ﻣﺴﺪﺱ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﺤﺬﻭﻑ " ﺍﻭﺭ " ﻣﺴﺪﺱ ﺍﺧﺮﻡ ﺍﺷﺘﺮ ﻣﺤﺬﻭﻑ " ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻭﺯﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﮐﻦ ﮐﮯ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﻣﺴﺪﺱ ﺍﺧﺮﻡ ﺍﺷﺘﺮ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﻌﺮ، ﻧﻈﻢ ﯾﺎ ﻏﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ‏)
۔ ﻣﺮﺑﻊ ﺍﺷﺘﺮ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﻀﺎﻋﻒ : ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ
‏( ﺍﺳﮯ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﻀﺎﻋﻒ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺻﺮﻑ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺭﮐﻦ ﻣﻔﺎﻋﻼﻥ ﻣﺴﺒﻎ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﻮ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ ‏)
ﻣﺮﺑﻊ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
ﻣﺮﺑﻊ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﻀﺎﻋﻒ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۲
ﺑﺤﺮ ﺭﺟﺰ
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻄﻮﯼ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻄﻮﯼ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﻄﻮﯼ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ
‏( ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻄﻮﯼ، ﻣﻄﻮﯼ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﻄﻮﯼ ﺩﺭ ﺍﺻﻞ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻭﺯﻥ ﮨﮯ۔ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻮﯼ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺮﻭﺽ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺍﻭﺯﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ‏)
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﻄﻮﯼ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ
‏ ﺑﺤﺮ ﺭﻣﻞ
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﺴﮑﻦ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌْﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﺴﮑﻦ : ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌْﻠﻦ
‏( ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﭼﺎﺭ ﺍﻭﺯﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ۔ ﻓﻌِﻠﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﻌْﻠﻦ ﻋﯿﻦ ﺳﺎﮐﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺁﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻼ ﺭﮐﻦ ﺳﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺁﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﺸﻮﯾﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﻣﻔﻌﻮﻟﻦ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﻔﻌﻮﻟﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ‏)
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺸﮑﻮﻝ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺧﺒﻦ ﺍﻭﺭ ﮐﻒ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺐ ‏) : ﻓﻌِﻼﺕُ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺕُ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺸﮑﻮﻝ ﻣﺴﮑّﻦ ‏( ﯾﺎ ﺑﺤﺮ ﻣﻀﺎﺭﻉ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ‏) : ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﺴﮑﻦ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌْﻠﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﺴﮑﻦ : ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻼﺗﻦ ﻓﻌْﻠﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ
۴
‏ ﺑﺤﺮ ﻣﺘﻘﺎﺭﺏ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﻀﺎﻋﻒ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌَﻞ
۔ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺛﺮﻡ ﻣﻘﺒﻮﺽ : ﻓﻌْﻞُ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺛﺮﻡ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﻌْﻞُ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌَﻞ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺛﺮﻡ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﻀﺎﻋﻒ : ﻓﻌﻞُ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌَﻞ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺛﺮﻡ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﻀﺎﻋﻒ : ﻓﻌﻞُ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻝ ﻓﻌﻮﻟﻦ
‏( ﺑﺤﺮ ﻣﺘﻘﺎﺭﺏ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺛﺮﻡ ﻣﻘﺒﻮﺽ، ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺛﺮﻡ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺎﻋﻒ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺩﻭ ﺭﮐﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﺼﺮﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻀﻤﻮﻥ " ﻣﯿﺮ ﮐﯽ ﮨﻨﺪﯼ ﺑﺤﺮ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ " ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ‏)
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌَﻞ
۔ ﻣﺮﺑﻊ ﺍﺛﻠﻢ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﻀﺎﻋﻒ : ﻓﻌﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻓﻌﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
‏( ﻋﺮﻭﺿﯽ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺻﺮﺍﺣﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﺣﺎﻑ " ﺛﻠﻢ " ﺻﺮﻑ ﺻﺪﺭ ﻭ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﺳﮯ ﺧﺎﺹ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺜﻤﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ۔ ﯾﻮﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻄﻮﺭ ﺣﯿﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﺑﻊ " ﻓﻌﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ " ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ ‏)
۵
‏ ﺑﺤﺮ ﻣﺘﺪﺍﺭﮎ
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ :
ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ :
ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﻀﺎﻋﻒ :
ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ
‏( ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﻀﺎﻋﻒ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻓﻌِﻠﻦ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﻌْﻠﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ‏
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﻘﻄﻮﻉ :
ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻠﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ :
ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
ﻣﺮﺑﻊ ﻣﺨﻠﻊ ﻣﻀﺎﻋﻒ :
ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌَﻞ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌَﻞ
‏( ﮔﻮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻭﺯﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﯾﺎ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﺎ ﻣﻄﺒﻮﻉ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﮐﺮﮮ
۶
ﺑﺤﺮ ﮐﺎﻣﻞ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ
‏( ﺍﺱ ﺑﺤﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﻔﺎﻋﻠﻦ ﮐﻮ بذریعہ تسکین اوسط ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ )‏)
۷
ﺑﺤﺮ ﻭﺍﻓﺮ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﻣﻘﻄﻮﻑ : ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
‏( ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ کو بذریعہ تسکین اوسط ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﺳﮯ ﺑﺪﻻ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻔﺎﻋﻠﺘﻦ ﮐﻮ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ‏)
۸ ‏ ﺑﺤﺮ ﻣﻀﺎﺭع
‏( ﯾﮧ ﺑﺤﺮ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﻭﺿﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ہے
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﺎﻉ ﻻﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﺎﻉ ﻻﺗﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻓﺎﻋﻼﺕ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻓﺎﻋﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ‏( ﯾﺎ ﺭﻣﻞ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺸﮑﻮﻝ ﻣﺴﮑﻦ ‏) :
ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﻣﺤﺬﻭﻑ :
ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻋﻼﺕُ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻓﺎﻋﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﺤﺬﻭﻑ :
ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻋﻠﻦ
‏( ﻣﻀﺎﺭﻉ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺎﺭﻉ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﻻﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﮯ ‏)
ﻣﺴﺪﺱ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ : ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻓﺎﻉ ﻻﺕُ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۹ ‏ ﺑﺤﺮ ﻣﺠﺘﺚ
‏ ﯾﮧ ﺑﺤﺮ ﺳﺎﻟﻢ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﻋﺮﻭﺿﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ‏)
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺲ ﺗﻔﻊ ﻟﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﺲ ﺗﻔﻊ ﻟﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌِﻠﻦ
ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ ﻣﺴﮑﻦ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌْﻠﻦ
‏( ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻭﺯﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﺰﻝ ﯾﺎ ﻧﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
‏)
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ
‏( ﺑﺤﺮ ﻣﺠﺘﺚ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﮐﻮ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﺳﮯ ﻣﻔﻌﻮﻟﻦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ ‏)
۱۰ ‏ ﺑﺤﺮ ﻣﻨﺴﺮح
‏ ﯾﮧ ﺑﺤﺮ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ‏
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﻔﻌﻮﻻﺕُ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﻔﻌﻮﻻﺕُ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻄﻮﯼ ﻣﮑﺴﻮﻑ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻄﻮﯼ ﻣﻮﻗﻮﻑ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻼﺕُ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻼﻥ
‏( ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻭﺯﺍﻥ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﺴﻮﻑ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻗﻮﻑ ﮐﺎ ﺧﻠﻂ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺭﮐﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺎﻋﻼﺕُ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺁﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‏)
iv ۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻄﻮﯼ ﻣﻨﺤﻮﺭ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻼﺕُ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﻊ
‏( ﻋﺮﻭﺿﯽ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﺍﺿﺢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻔﺘﻌﻼﺗﻦ ﯾﻌﻨﯽ " ﻣﻄﻮﯼ ﻣﺮﻓﻞ " ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺍﻭﺭ " ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﻊ " ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻔﻌﻮﻻﺕُ ﻣﻨﺤﻮﺭ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺜﻤﻦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﺪﻭﻉ ﻓﺎﻉ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺟﺎﺋﺰ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﻓﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﮐﻦ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ‏)
v ۔ ﻣﺴﺪﺱ ﻣﻄﻮﯼ ﻣﮑﺴﻮﻑ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ
۱۱ ‏ ﺑﺤﺮ ﻣﻘﺘﻀب
‏ ﯾﮧ ﺑﺤﺮ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﻌﻮﻻﺕُ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﻔﻌﻮﻻﺕُ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻄﻮﯼ : ﻓﺎﻋﻼﺕُ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻼﺕُ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ
۱۲ ‏ ﺑﺤﺮ ﺳﺮﯾﻊ
ﯾﮧ ﺑﺤﺮ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﻔﻌﻮﻻﺕُ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﻣﻄﻮﯼ ﻣﮑﺴﻮﻑ : ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻣﻔﺘﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﮑﺴﻮﻑ : ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ
ﺑﺤﺮ ﺧﻔﯿﻒ
ﯾﮧ ﺑﺤﺮ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ‏
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﺲ ﺗﻔﻊ ﻟﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﺲ ﺗﻔﻊ ﻟﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﺲ ﺗﻔﻊ ﻟﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓَﻌِﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺬﻭﻑ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ
‏( ﺍﻭﭘﺮ والے ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻭﺯﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺭﮐﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﺁﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﮐﻦ ﻓﻌَﻠُﻦ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﻌْﻠﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻂ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ )‏
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺠﻮﻑ: ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻊ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ ﻣﺤﺠﻮﻑ: ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻊ
‏( ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺍﻭﺯﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﻻﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ‏)
14 ‏ ﺑﺤﺮ ﻃﻮﯾﻞ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﻘﺒﻮﺽ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﻘﺒﻮﺽ : ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌﻮﻟﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ
۱۵ ‏ ﺑﺤﺮ ﻣﺪﯾﺪ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ
‏( ﺍﺱ ﻭﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺟﮕﮧ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺳﻂ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ‏)
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ
۱۶ ‏ ﺑﺤﺮ ﺑﺴﯿﻂ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ ﻣﺴﺘﻔﻌﻠﻦ ﻓﺎﻋﻠﻦ
۔ ﻣﺜﻤﻦ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ ﻓﻌِﻠُﻦ
۱۷ ‏ ﺑﺤﺮ ﻗﺮﯾﺐ
ﯾﮧ ﺑﺤﺮ ﺳﺎﻟﻢ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ‏
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻓﺎﻉ ﻻﺗن
ﻣﺴﺪﺱ ﺍﺧﺮﺏ ﻣﮑﻔﻮﻑ : ﻣﻔﻌﻮﻝ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻓﺎﻉ ﻻﺗﻦ
۱۸ ‏ ﺑﺤﺮ ﺟﺪﯾﺪ
ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ : ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻓﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﺲ ﺗﻔﻊ ﻟﻦ
ﻣﺴﺪﺱ ﻣﺨﺒﻮﻥ : ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻓﻌﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻠﻦ
۱۹ ‏ ﺑﺤﺮ ﻣﺸﺎﮐﻞ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﺳﺎﻟﻢ :
ﻓﺎﻉ ﻻﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ ﻣﻔﺎﻋﯿﻠﻦ
۔ ﻣﺴﺪﺱ ﻣﮑﻔﻮﻑ ﻣﺤﺬﻭﻑ :
ﻓﺎﻋﻼﺕُ ﻣﻔﺎﻋﯿﻞ ﻓﻌﻮﻟﻦ
۲۰
‏ﺑﺤﺮ ﺟﻤﯿل
ﻣﺜﻤﻦ ﺳﺎﻟﻢ : ﻣﻔﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻼﺗﻦ ﻣﻔﺎﻋﻼﺗﻦ

بحروں کا تقابلی جائزہ اور شماریاتی تجزیہ
اگر ہم اردو شاعری کے پورے سرمائے کا تجزیہ کریں تو ہمیں بحروں کے استعمال میں ایک واضح رجحان نظر آتا ہے۔ ذیل میں ایک جدول پیش کیا جا رہا ہے جو مختلف بحروں کے استعمال کے تناسب اور ان کے مزاج کو ظاہر کرتا ہے

کم استعمال ہونے والی بحریں
کچھ بحریں ایسی ہیں جو اردو میں بہت کم استعمال ہوئیں جیسے:
بحرِ وافر: (مفاعلتن) - اس میں بھی متحرک حروف کی کثرت ہے جو اردو مزاج پر بھاری ہے
بحرِ طویل: یہ فارسی اور اردو میں تقریباً متروک ہے حالانکہ عربی میں مقبول ہے
بحرِ مدید اور بحرِ بسیط: یہ بھی اردو میں شاذ و نادر ہی نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ ان کی صوتی ساخت کا اردو الفاظ کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونا ہے
جدید شاعری اور بحروں کا مستقبل
عہدِ حاضر میں جہاں آزاد نظم کا رواج بڑھا ہے وہاں بھی علمِ عروض کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ آزاد نظم بھی بحر سے آزاد نہیں ہوتی، بلکہ وہ "پابندیِ مصارع" (مصرعوں کی لمبائی کی قید) سے آزاد ہوتی ہے۔ آزاد نظم کے مصرعے چھوٹے بڑے ہو سکتے ہیں، لیکن وہ کسی نہ کسی رکن کے پابند ضرور ہوتے ہیں
مثلاً ن م راشد اور فیض کی آزاد نظمیں زیادہ تر بحرِ ہزج رمل یا رجز کے ارکان پر ہی مبنی ہیں
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے (فیض) یہ نظم بھی بحرِ رمل کے ارکان پر استوار ہے بس مصرعوں کی لمبائی مختلف ہے
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مستعمل بحریں محض ماضی کا حصہ نہیں ہیں بلکہ جدید شاعری کی بنیاد بھی انہی پر قائم ہے۔ آج کے دور میں گیت اور نغمے بھی ان ہی بحروں، خاص طور پر بحرِ ہزج اور بحرِ متقارب میں لکھے جا رہے ہیں کیونکہ ان کا میوزیکل ٹیمپو موسیقاروں کے لیے دھن بنانا آسان کرتا ہے

خلاصہ اور مجموعی بصیرت
اس تمام تحقیق اور تجزیے سے جو نتائج اخذ ہوتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
انتخاب کا معیار: اردو شعرا نے عربی و فارسی کی 19 بحروں میں سے صرف ان بحروں کو گلے لگایا جو "ہندی نژاد" اردو زبان کے صوتی مزاج سے ہم آہنگ تھیں۔ جن بحروں میں "سکون" زیادہ تھا، وہ مقبول ہو گئیں (جیسے ہزج، رمل)۔
تسکینِ اوسط کا کردار: یہ عروض کا وہ ماسٹر اسٹروک تھا جس نے اردو شاعری کو لچک عطا کی اس نے ثابت کیا کہ عروض پتھر پر لکیر نہیں ہے بلکہ ایک زندہ سائنس ہے۔ اگر میر تقی میر اور دیگر اساتذہ تسکینِ اوسط کے ذریعے بحروں میں ترامیم نہ کرتے تو شاید اردو شاعری کا دامن اتنا وسیع نہ ہوتا

Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi