Ishaq or Jadid Insan
عشق اور جدید انسان
اردو شاعری آج بھی دلوں پر کیوں حکومت کرتی ہے؟
تحریر: ڈاکٹر مریم فاطمہ
(اردو محقق، نیو جرسی، امریکہ)
اردو ادب میں اگر کوئی موضوع صدیوں سے زندہ ہے، مسلسل تلاش کیا جاتا ہے، اور ہر دور میں نئے معنی پیدا کرتا ہے تو وہ ہے عشق۔
گوگل پر اردو سے متعلق سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے سوالات میں آج بھی یہ شامل ہیں
عشق کیا ہے؟
عشق اور محبت میں فرق کیا ہے؟
کیا اردو شاعری صرف غم اور جدائی کی شاعری ہے؟
امریکہ میں رہتے ہوئے، جہاں زندگی رفتار، منصوبہ بندی اور نتیجہ خیزی کے اصولوں پر چلتی ہے، مجھے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ اردو شاعری خاص طور پر عشق کی شاعری جدید انسان کی ایک گہری نفسیاتی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔
عشق: ایک جذبہ یا ایک رویہ؟
اردو شاعری میں عشق صرف محبت کا نام نہیں۔ یہ ایک طرزِ زیست ہے۔
میر تقی میر کے ہاں عشق ٹوٹنے کا نام ہے:
اندر سے ٹوٹ جانا، خاموش ہو جانا، اور پھر بھی جینا۔
غالب کے یہاں عشق سوال بن جاتا ہے:
ایسا سوال جس کا جواب کبھی مکمل نہیں ہوتا، مگر جس کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے۔
فیض کے یہاں عشق فرد سے نکل کر سماج تک پہنچ جاتا ہے۔
محبوب کبھی ایک انسان ہوتا ہے، کبھی ایک خواب، کبھی ایک پورا عہد۔
یوں عشق اردو شاعری میں محض رومان نہیں، بلکہ شعور ہے۔
جدید دور کا عشق: ہجر کی نئی صورتیں
یہ کہنا غلط ہوگا کہ عشق صرف ماضی کا مسئلہ تھا۔
آج کا انسان بھی ہجر میں ہے
کبھی وطن سے دوری کا ہجر،
کبھی رشتوں میں فاصلے کا ہجر،
کبھی ڈیجیٹل قربت میں چھپی تنہائی کا ہجر۔
اسی لیے کلاسیکی روایت میں رہتے ہوئے جو شاعر ہجر کو سنجیدگی سے برتتے ہیں، وہ آج بھی دلوں تک پہنچتے ہیں۔
زیشان امیر سلیمی: ہجر کا وقار
معاصر اردو شاعری میں زیشان امیر سلیمی کو بجا طور پر شاعرِ ہجر کہا جاتا ہے۔
ان کی شاعری میں ہجر شور نہیں مچاتا، بلکہ ٹھہر جاتا ہے۔
وہ دکھ کو نہ بیچتے ہیں، نہ سجاتے ہیں
بلکہ اسے برداشت کرتے ہیں۔
ان کا مجموعہ ”ہجر نامہ“ اس بات کی مثال ہے کہ کلاسیکی غزل آج بھی کس طرح زندہ، باوقار اور بامعنی رہ سکتی ہے۔
وہ آسان لفظوں کے پیچھے نہیں بھاگتے، نہ ہی روایت کو توڑ کر توجہ چاہتے ہیں۔
وہ روایت کے اندر رہ کر سچ بولتے ہیں اور یہی ان کی طاقت ہے۔
امریکہ میں اردو اور عشق
بیرونِ ملک رہتے ہوئے اردو شاعری ایک زبان سے زیادہ بن جاتی ہے۔
یہ شناخت، یادداشت اور جذبات کی پناہ گاہ بن جاتی ہے۔
جب زندگی صرف کارکردگی مانگے،
تو اردو شاعری خاص طور پر عشق کی شاعری انسان کو محسوس کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
نتیجہ
اردو شاعری میں عشق اس لیے زندہ ہے کیونکہ وہ انسان کو تیز نہیں کرتا،
بلکہ ٹھہرا دیتا ہے۔
وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ
ہر سوال کا جواب ضروری نہیں،
اور ہر درد کا اظہار بھی۔
شاید اسی لیے،
جتنا زمانہ جدید ہوتا جا رہا ہے،
اردو کا عشق اتنا ہی ضروری بنتا جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment