Urdu Classical Ghazal


 ہجر کے کہسار، خواب کی دیواریں: ایک فکری غزل کا تجزیہ  


تبصرہ نگار

ڈاکٹر فہد محمود
پاکستانی نژاد، مقیم اونٹاریو، کینیڈا
(کلاسیکی اردو تنقید، جدید شعری جمالیات کے محقق)


یہ غزل زیشانؔ کے اس مخصوص تخلیقی سفر کا تسلسل ہے جہاں ہجر، خواب، یاد اور خود آگہی محض موضوع نہیں رہتے بلکہ ایک فکری منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ شاعری آواز نہیں، بازگشت ہے؛ بیان نہیں، مکالمہ ہے؛ اور شکوہ نہیں، شعور کی تہذیب ہے۔


بات کھل کے کرو افکار کے کہساروں سے
چھو نہ لے خواب کو یہ ہجر کے آزاروں سے

ابتدائی شعر ہی میں شاعر فکر کو “کہسار” کا درجہ دیتا ہے، جو وسعت، بلندی اور گہرائی تینوں کا استعارہ ہے۔ ہجر کے آزار خواب کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے شاعر احتیاط برتنے کا مشورہ دیتا ہے۔ یہ شعر شعوری توازن کی علامت ہے۔


چاندنی چھین نہ لے سایہ جاں کے زاروں سے
بات  کر  خواب  کی  ٹوٹی  ہوئی  دیواروں   سے

یہاں چاندنی جیسے مثبت استعارے کو بھی شک کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ شاعر جانتا ہے کہ بعض اوقات روشنی بھی سایہ چھین لیتی ہے۔ “ٹوٹی ہوئی دیواریں” خواب کی شکستہ ساخت کی علامت ہیں، جن سے مکالمہ کرنا خود احتسابی ہے۔


یاد   کی  لہر  میں  جلتے  ہوئے  انداز  سنے
کچھ صدا آئی سکوتِ شبِ رفتاروں سے

یہ شعر صوتیات (Sound Imagery) کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ سکوت میں صدا سننا، شب میں رفتار تلاش کرنا، یہ سب ہجر کی داخلی حرکیات کو ظاہر کرتا ہے۔ یاد یہاں متحرک قوت بن جاتی ہے۔


دل کے سنسان نگر میں کوئی  امید  تو ہے
چاہتیں مانگ کبھی ہجر کے تو پیاروں سے

سنسان نگر کے باوجود امید کی موجودگی اس غزل کو قنوطیت سے بچاتی ہے۔ “ہجر کے پیارے” ایک نہایت نادر ترکیب ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ شاعر ہجر سے دشمنی نہیں بلکہ شناسائی رکھتا ہے۔


اشک تھمتے نہیں آنکھوں کے کنارے پہ کبھی
کچھ خبر لاتے نہیں خواب کے غمخواروں سے

یہاں اشک ایک مسلسل کیفیت ہیں، جبکہ خواب کے غمخوار خاموش ہیں۔ شاعر شکوہ نہیں کرتا بلکہ حقیقت کو قبول کرتا ہے۔ یہ کلاسیکی ضبط کی عمدہ مثال ہے۔


روشنی ڈھونڈنے نکلے تو اندھیرا ہی ملا
کیا ملا ہم  کو  یہاں  ٹوٹتے  میناروں  سے

یہ شعر اجتماعی تجربے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ٹوٹتے مینار تہذیبی شکست کی علامت ہیں۔ روشنی کی تلاش میں اندھیرے کا ملنا ایک تلخ مگر سچا ادراک ہے۔


یاد   کی  گونج  میں  بکھری  ہوئی  تنہائیاں  ہیں
روشنی ڈھونڈنے نکلے ہیں یہ ان تاروں سے

یہاں “تارے” امید کا استعارہ ہیں، مگر ان سے روشنی مانگنا خود ایک سوال بن جاتا ہے۔ تنہائی کی تکثیر شاعر کے داخلی کرب کو وسعت دیتی ہے۔


آئینہ  ٹوٹ  کے  بکھرا  تو  نظر  آئی  یہ  بات
ہم نے کیا پایا بھلا اپنے ہی کرداروں سے

یہ شعر خود شناسی کی معراج ہے۔ آئینہ ٹوٹنے کے بعد حقیقت کا انکشاف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کبھی کبھی شکست ہی اصل معرفت دیتی ہے۔


سایہ  جاں  ڈھونڈنے  نکلا  تو  ملی  خاموشی
کچھ سکوں مل نہ سکا جلتے ہوئے غاروں سے

یہاں سایہ جاں کی تلاش روحانی تحفظ کی جستجو ہے، مگر جواب میں خاموشی ملتی ہے۔ “جلتے ہوئے غار” داخلی اذیت کا نہایت طاقتور استعارہ ہیں۔


دل کے اجڑے ہوئے ذیشانؔ یہ ویران نگر
کب سنور سکتے ہیں تنہائی کے بازاروں سے

مقطع نہایت فکری وقار کے ساتھ غزل کو مکمل کرتا ہے۔ شاعر جانتا ہے کہ تنہائی کے بازار صرف سودا بیچتے ہیں، تعمیر نہیں کرتے۔ یہ شعر پوری غزل کا فکری خلاصہ ہے۔


مجموعی تنقیدی تاثر

یہ غزل محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ کلاسیکی شعری شعور کی جدید صورت ہے۔ زبان شستہ، استعارہ مربوط، اور فکر مسلسل ہے۔ زیشانؔ یہاں نہ صرف ہجر کے شاعر ہیں بلکہ ہجر کے فلسفی بھی دکھائی دیتے ہیں۔

یہ غزل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اردو کی کلاسیکی روایت آج بھی زندہ ہے، بشرطیکہ شاعر کے پاس صداقتِ احساس اور فکری دیانت موجود ہو  اور یہ دونوں عناصر اس غزل میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi