Urdu Ghazal by Zeeshan Ameer Saleemi


 چراغِ حسرت اور گناہِ الفت: زیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا تبصرہ 


 

تمہیدی کلمات

تبصرہ نگار: ڈاکٹر عارف محمود
مصنف و محقق (ٹورنٹو، کینیڈا)

زیشانؔ امیر سلیمی معاصر اردو غزل میں اس آواز کا نام ہے جو شور نہیں مچاتی بلکہ دل میں اترتی ہے ان کی شاعری میں ہجر محض واردات نہیں بلکہ فکری تسلسل بن کر سامنے آتا ہے وہ دکھ کو بیان نہیں کرتے، اس میں قیام کرتے ہیں اسی گہرے شعری شعور کے باعث وہ بجا طور پر شاعرِ ہجر کہلاتے ہیں۔ زیرِ نظر غزل ان کی اسی کلاسیکی وابستگی، فکری ضبط اور داخلی کرب کی ایک مکمل مثال ہے

اب ہم غزل کے ہر شعر پر بالترتیب تبصرہ کرتے ہیں۔


ہوا کے جھونکے بھی رو رہے ہیں نہ رنگ آئے، نہ پھول آئے
ہمارے حصّے میں درد ٹھہرا خوشی کے لمحے فضول آئے

اس شعر میں فطرت کو انسانی غم کا شریک بنا دیا گیا ہے ہوا کے جھونکوں کا رونا اس بات کی علامت ہے کہ غم محض فرد تک محدود نہیں رہا، کائنات بھی اس میں شریک ہے۔ رنگ اور پھول زندگی کی علامت ہیں، مگر شاعر کے حصے میں انکار آیا ہے خوشی کے لمحوں کا فضول آنا تقدیر کی اس بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے جہاں امید بار بار آ کر خالی لوٹ جاتی ہے۔


ہمارے خوابوں میں جل رہے ہیں، چراغ ٹوٹے، سوال ٹوٹے
خدا کے در پر جو لب گئے تھے، وہ سارے شکوے قبول آئے

یہ شعر روحانی اور فکری سطح پر نہایت بلیغ ہے خوابوں میں جلتے چراغ امید کی علامت ہیں، مگر ان کا ٹوٹ جانا سوالات کے بکھرنے کی صورت اختیار کر لیتا ہے خدا کے در پر شکوے قبول ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ درد بھی ایک طرح کی قبولیت رکھتا ہے  یہ شعر دعا، سوال اور شکست کے باہمی رشتے کو بڑی وقار کے ساتھ پیش کرتا ہے۔


چراغِ حسرت بجھا بجھا سا، دھواں دھواں سا ہے دل کا قصّہ
یہ خوابِ گم گشتہ، رنج لایا، ملال آیا، نزول آئے

یہاں حسرت کا چراغ نیم مردہ حالت میں ہے، جو مسلسل جلنے کے بعد بجھنے کے قریب ہو  دل کا قصہ دھوئیں میں لپٹا ہوا ہے، یعنی صاف دکھائی نہیں دیتا مگر موجود ضرور ہے خوابِ گم گشتہ کا رنج اور ملال کا نزول ایک مسلسل داخلی اذیت کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جو شاعر کی پہچان ہے۔


غبارِ ہستی میں گم رہے ہیں، نشاں کہیں بھی نہ مل سکے اب
دعاؤں کے باوجود آخر، ہمارے حصّے میں دھول آئے

یہ شعر وجودی کرب کا اظہار ہے  غبارِ ہستی میں گم ہونا شناخت کے مٹنے کی علامت ہے  نشاں نہ ملنا خودی کے سوال کو جنم دیتا ہے  دعاؤں کے باوجود دھول آنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر دعا فوراً قبول نہیں ہوتی، اور بعض اوقات انسان کے حصے میں صرف تھکن اور خاک آتی ہے۔


اجل کے ماتھے پہ لکھ دیا تھا، گناہِ الفت کا اک فسانہ
مگر عجب ہے کہ زندگی میں، سزا کے پہلو بھی پھول آئے

یہ شعر عشق اور تقدیر کے باہمی تصادم کو پیش کرتا ہے  گناہِ الفت کا اجل سے جڑ جانا عشق کو ازلی جرم بنا دیتا ہے مگر سزا کے پہلو میں پھول آنا اس بات کا اعتراف ہے کہ درد کے اندر بھی جمال پوشیدہ ہوتا ہے  یہ شعر کلاسیکی غزل کی اس روایت کو زندہ کرتا ہے جہاں دکھ بھی حسن اختیار کر لیتا ہے۔


لبوں پہ سناٹے چھا گئے جب، صدائیں گُم ہو گئیں ہوا میں
یہ کون سی بے صدا دعائیں، دلوں کے سُوکھے اصول آئے

یہ شعر خاموشی کی معنویت پر مبنی ہے لبوں پر سناٹا چھا جانا جذبات کے منجمد ہو جانے کی علامت ہے بے صدا دعاؤں کا آنا اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان مانگتا تو ہے مگر آواز کھو چکا ہوتا ہے دلوں کے سوکھے اصول ایک بے روح معاشرتی نظام کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔


سرابِ گم گشتہ خواب ذیشان، شام بھی بے قرار گزری
ہوا کے ہاتھوں میں زخم آئے شجر کی آنکھوں میں دھول آئے

مقطع نہایت فنی شعور کا مظہر ہے شاعر اپنا نام لا کر خواب کو سراب قرار دیتا ہے، جو خود آگاہی کی علامت ہے۔ شام کا بے قرار گزرنا وقت کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہوا کے ہاتھوں زخم اور شجر کی آنکھوں میں دھول  یہ دونوں تصویریں فطرت کو انسانی کرب کا آئینہ بنا دیتی ہیں۔


اختتامی تاثر

یہ غزل زیشانؔ امیر سلیمی کی اس شعری پہچان کو مضبوط کرتی ہے جس کی بنیاد ہجر، ضبط، دعا، اور وجودی سوالات پر ہے۔ یہ محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک داخلی سفرنامہ ہے ایسی غزلیں اردو کی کلاسیکی روایت کو صرف زندہ نہیں رکھتیں، بلکہ اسے نئی معنوی وسعت عطا کرتی ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi