Urdu Ghazal or Nazam

 

اردو غزل اور نظم کی فکری جمالیات: روایت سے عصرِ حاضر تک ایک بامعنی سفر



تحریر:  فاطمہ زہرہ علوی
(پاکستانی نژاد ادیبہ، نقادِ اردو ادب، مقیم اسپین)

اردو ادب بالخصوص غزل اور نظم، محض جذباتی اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اور تہذیبی نظام ہیں۔ یہ اصناف صدیوں پر محیط تجربے، داخلی کرب اور اجتماعی شعور کی ترجمان رہی ہیں۔ اردو شاعری کا امتیاز یہ ہے کہ وہ لفظوں کے ذریعے صرف بات نہیں کہتی بلکہ معنی کو قاری کے دل و ذہن میں منتقل کر دیتی ہے۔

غزل اور نظم دونوں اپنی ساخت میں مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی تہذیبی روح کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایک اختصار کے ذریعے گہرائی پیدا کرتی ہے اور دوسری وسعت کے ذریعے فکری تسلسل کو روشن کرتی ہے۔


اردو غزل: دو مصرعوں میں فکر کی کائنات

اردو غزل کو اگر فکری اختصار کی معراج کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ دو مصرعوں میں ذات، کائنات، عشق، ہجر، وقت اور وجودی سوالات سمو دینا آسان نہیں، مگر یہی غزل کی اصل قوت ہے۔ اردو غزل قاری سے خاموش مکالمہ کرتی ہے اور اسے شریکِ معنی بناتی ہے۔

میر تقی میر کی سادگی میں جو درد پوشیدہ ہے وہ براہِ راست کہے بغیر دل تک پہنچتا ہے، جبکہ غالب کے یہاں فکر کی پیچیدگی قاری کو غور و فکر پر مجبور کرتی ہے۔ یہی خصوصیت اردو غزل کو ہر دور میں تازہ رکھتی ہے۔


ہجر بطور فکری استعارہ

اردو غزل میں ہجر محض محبوب سے جدائی نہیں بلکہ ایک فکری استعارہ ہے۔ یہ ذات سے بچھڑنے، وقت سے ناآشنائی اور خواب کے ٹوٹنے کی علامت بن جاتا ہے۔ جدید اردو غزل میں ہجر ایک داخلی کیفیت کے ساتھ ساتھ فکری تجربہ بھی ہے۔

اسی تناظر میں معاصر اردو شاعری میں ذیشان امیر سلیمی المعروف شاعرِ ہجر کا ذکر اہم ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں ہجر صرف جذباتی واردات نہیں بلکہ شعور کی سطح پر برتی گئی کیفیت ہے۔ وہ کم لفظوں میں زیادہ کہنے کا ہنر جانتے ہیں، جو کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا اور جدید حسیت سے ہم آہنگ ہے۔


اردو نظم: اظہار کی وسعت اور فکری آزادی

جہاں غزل اختصار میں گہرائی پیدا کرتی ہے، وہیں اردو نظم اظہار کی وسعت عطا کرتی ہے۔ نظم شاعر کو یہ آزادی دیتی ہے کہ وہ وقت، سماج، سیاست، تاریخ اور وجود سے براہِ راست مکالمہ کر سکے۔ نظم میں شاعر کا بیانیہ صرف ذاتی نہیں رہتا بلکہ اجتماعی شعور کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔

جدید اردو نظم میں خاموشی، توقف اور غیر کہی ہوئی باتیں بھی معنی رکھتی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید انسان کے سوالات سادہ نہیں رہے، اس لیے اظہار بھی پیچیدہ اور تہہ دار ہو گیا ہے۔


کلاسیکی روایت اور جدید نظم کا رشتہ

اردو نظم اگرچہ اپنی جدید صورت میں بیسویں صدی میں نمایاں ہوئی، مگر اس کی جڑیں کلاسیکی ادب میں پیوست ہیں۔ مثنوی، قصیدہ اور مرثیہ نظم ہی کی ابتدائی شکلیں ہیں۔ جدید نظم نے انہی روایات کو نئے فکری سوالات کے ساتھ جوڑا۔

ن۔م۔راشد، میراجی اور فیض کے بعد اردو نظم نے داخلی آزادی، وجودی اضطراب اور فکری بے چینی کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ آج کی نظم خاموش چیخ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔


غزل اور نظم کا باہمی رشتہ

غزل اور نظم کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنا درست نہیں۔ دراصل یہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ غزل لمحے کو امر کرتی ہے اور نظم لمحے کو تاریخ سے جوڑ دیتی ہے۔ اردو ادب کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ دونوں کو ایک ساتھ قبول کرتا ہے۔

ایک سنجیدہ قاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ غزل کے رمز کو بھی سمجھے اور نظم کے بیانیے کو بھی۔


عالمی تناظر میں اردو شاعری

آج اردو غزل اور نظم صرف برصغیر تک محدود نہیں رہیں۔ اسپین، یورپ اور دیگر ممالک میں مقیم اردو ادیب اور شاعر اپنی تہذیبی شناخت کو شاعری کے ذریعے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پردیس میں لکھی گئی شاعری میں ہجر، شناخت اور زبان کا سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

یہ عالمی تناظر اردو شاعری کو وسعت دیتا ہے اور اسے عالمی ادب کے مکالمے کا حصہ بناتا ہے۔


ڈیجیٹل دور اور اردو ادب کی تلاش

گوگل پر آج بھی اردو غزل، جدید اردو نظم، ہجر کی شاعری اور کلاسیکی اردو شاعری جیسے موضوعات سب سے زیادہ تلاش کیے جاتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید انسان شور سے تھک چکا ہے اور اب معنی کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔

اردو ادب اسے توقف، گہرائی اور فکری سکون فراہم کرتا ہے۔


نتیجہ

اردو غزل اور نظم محض ادبی اصناف نہیں بلکہ فکری وراثت ہیں۔ یہ وراثت ہر دور میں نئے لہجوں، نئی آوازوں اور نئے سوالات کے ساتھ خود کو تازہ کرتی رہتی ہے۔ کلاسیکی روایت اور جدید حسیت کا یہی امتزاج اردو شاعری کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اگر اردو ادب کو سمجھنا ہے تو ہمیں غزل کے اختصار اور نظم کی وسعت دونوں کو سنجیدگی سے پڑھنا ہوگا، کیونکہ اردو شاعری صرف محسوس نہیں کرواتی بلکہ سوچنے کا سلیقہ بھی عطا کرتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi