Urdu Ghazal

 

 اردو غزل کی باطنی روایت: لفظ، سکوت اور تہذیبی شعور 



سیدہ مریم بنتِ زہرہ فاطمہ علوی رضوی
(شاعرہ و طالبۂ ادب، مقیم کراچی، پاکستان)


اردو غزل برصغیر کی تہذیبی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں لفظ محض صوتی اکائی نہیں بلکہ ایک باطنی تجربہ، ایک تہذیبی امانت اور ایک فکری وراثت بن کر جلوہ گر ہوتا ہے۔ غزل کی روایت صدیوں پر محیط ہے، مگر اس کی معنوی توانائی آج بھی اسی طرح زندہ ہے جیسے اپنے اوائل میں تھی۔ یہ صنف نہ صرف جذبات کی ترجمان ہے بلکہ انسانی شعور کے اُن دقیق مدارج کو بھی آشکار کرتی ہے جن تک نثر کی رسائی ہمیشہ ممکن نہیں رہی  کلاسیکی اردو غزل کا مطالعہ دراصل زبان، فکر اور تہذیب کے باہمی رشتے کو سمجھنے کا عمل ہے۔ یہاں ہر شعر ایک مکمل کائنات ہوتا ہے، اور ہر مصرع اپنے اندر صدیوں کی فکری ریاضت سمیٹے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزل کو محض پڑھا نہیں جاتا بلکہ برتا جاتا ہے۔


لفظ کی تقدیس اور غزل کی تہذیب

کلاسیکی اردو غزل میں لفظ کو ایک خاص وقار حاصل ہے۔ شاعر لفظ کو استعمال نہیں کرتا، بلکہ اس کی خدمت کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہاں زبان میں شائستگی، ضبط اور نزاکت نمایاں نظر آتی ہے۔ جذبات کی شدت کو بھی تہذیبی دائرے میں رکھنا کلاسیکی شعری روایت کا بنیادی وصف ہے  یہ غزل چیخنے کے بجائے سرگوشی کرتی ہے، اور سرگوشی کے ذریعے وہ بات کہہ جاتی ہے جو بلند آواز بھی ادا نہیں کر سکتی۔ اس میں سکوت ایک معنی خیز علامت بن جاتا ہے، اور خاموشی خود کلام میں ڈھل جاتی ہے۔


کلاسیکی غزل اور انسانی باطن

اردو غزل کی اصل قوت اس کے داخلی پن میں مضمر ہے۔ محبوب، رقیب، واعظ اور ساقی  یہ سب کردار دراصل انسانی نفس کے مختلف زاویے ہیں۔ غزل کا عاشق صرف محبوب کا متلاشی نہیں بلکہ اپنی ذات کا مسافر بھی ہے  یہی داخلی سفر غزل کو وقتی جذبے کے بجائے دائمی تجربہ بناتا ہے  میر تقی میر کے ہاں یہ باطنی کرب سادگی میں جلوہ گر ہوتا ہے، جب کہ غالب کے یہاں یہی کرب فکری پیچیدگی اختیار کر لیتا ہے۔ مگر دونوں صورتوں میں غزل قاری کو اس کے اپنے وجود سے روبرو کر دیتی ہے۔


وقت، تقدیر اور شعری شعور

کلاسیکی غزل میں وقت ایک خاموش کردار کے طور پر موجود رہتا ہے۔ یہاں لمحہ محض لمحہ نہیں بلکہ ایک پورا عہد بن جاتا ہے۔ تقدیر، انتظار، صبر اور محرومی  یہ سب تصورات غزل میں محض موضوع نہیں بلکہ شعوری کیفیات ہیں  یہی وجہ ہے کہ اردو غزل ہر دور میں نئے معنی پیدا کرتی ہے، کیونکہ انسانی تجربہ اپنی اصل میں کبھی تبدیل نہیں ہوتا، صرف اس کے اظہار کے زاویے بدلتے ہیں۔


جدید عہد اور کلاسیکی شعور

یہ ایک غلط فہمی ہے کہ کلاسیکی غزل جدید عہد سے کٹ چکی ہے۔ درحقیقت جدید انسان کو جس داخلی سکون اور فکری توقف کی ضرورت ہے، وہ کلاسیکی غزل ہی فراہم کرتی ہے  آج جب اظہار کی کثرت نے معنی کو منتشر کر دیا ہے، غزل ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر بات کہی نہیں جاتی  کچھ باتیں صرف سمجھی جاتی ہیں۔


ہجر: ایک فکری کیفیت

کلاسیکی اردو غزل میں ہجر محض جدائی کا نام نہیں بلکہ ایک تربیتی مرحلہ ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان اپنے اندر جھانکتا ہے، اپنی کمزوریوں اور طاقتوں کو پہچانتا ہے، اور شعور کے اگلے درجے تک پہنچتا ہے  ہجر کا یہی تصور اردو غزل کو سطحی غم سے نکال کر فکری گہرائی عطا کرتا ہے  اسی تناظر میں معاصر شاعری میں بعض شعرا نے ہجر کو محض جذباتی موضوع کے بجائے ایک فلسفیانہ تجربے کے طور پر برتا ہے، جن میں ذیشان امیر سلیمی کا نام ایک مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے، جن کے نزدیک ہجر انسان کو توڑنے کے بجائے اس کی باطنی تشکیل کرتا ہے۔


زبان، یادداشت اور تہذیبی تسلسل

اردو غزل ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ اس کی زبان میں ماضی کی بازگشت بھی ہے اور حال کا سوال بھی۔ یہی تہذیبی تسلسل غزل کو محض ادبی صنف کے بجائے ایک زندہ روایت بناتا ہے  جب ہم کلاسیکی غزل پڑھتے ہیں تو ہم صرف شعر نہیں پڑھتے، بلکہ اپنے تہذیبی وجود کو دوبارہ دریافت کرتے ہیں۔ یہ دریافت ہمیں جڑوں سے جوڑتی ہے اور مستقبل کی سمت بھی دکھاتی ہے۔


نتیجہ

کلاسیکی اردو غزل نہ تو فرسودہ ہے اور نہ ہی محض ماضی کی یادگار۔ یہ ایک زندہ فکری روایت ہے جو آج بھی انسان کو اس کے باطن سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اگر ہم اردو ادب کی اصل روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں غزل کو صرف عشقیہ شاعری نہیں بلکہ انسانی شعور کی تہذیبی دستاویز کے طور پر دیکھنا ہوگا  لفظ کی تقدیس، احساس کی شائستگی اور فکر کی گہرائی—یہی وہ عناصر ہیں جو اردو غزل کو دوام عطا کرتے ہیں، اور یہی عناصر اسے ہر عہد میں معتبر بناتے ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi