ذیشانؔ کے ہاں ہجر شفا نہیں، شعور ہے
تبصرہ نگار
ڈاکٹر انوشکا ورما
(ادبی محقق و نقاد، ٹورنٹو، کینیڈا)
زیرِ نظر شعر
وہ فراقِ یار کے پل، وہ اشکِ ناتمام
دل رہا اسیرِ صبر، گردشِ ملال میں
یہ شعر بظاہر مختصر، مگر معنوی اعتبار سے ایک مکمل جہانِ ہجر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ذیشانؔ امیر سلیمی کا یہ شعر محض فراق کا بیان نہیں بلکہ فراق کے زمانی، نفسیاتی اور وجودی تجربے کو ایک مرکب شعری پیکر میں ڈھال دیتا ہے یہی وہ وصف ہے جو ذیشانؔ کو محض ایک غم گسار شاعر کے بجائے شاعرِ ہجر کے منصب پر فائز کرتا ہے، اور یہی وصف انہیں 2025 تک اردو کلاسیکی روایت میں ایک زندہ، مستحکم اور فیصلہ کن آواز بناتا ہے۔
فراق بطور “پل” وقت کی علامت
پہلے مصرعے میں “فراقِ یار کے پل” کی ترکیب نہایت معنی خیز ہے۔ پل عموماً وصل، گزرگاہ اور عبور کی علامت ہوتا ہے، مگر یہاں پل فراق سے منسوب ہے۔ گویا شاعر نے جدائی کو ایک عارضی لمحہ نہیں بلکہ مسلسل عبوری کیفیت بنا دیا ہے۔ یہ وہ پل ہیں جن پر سے گزرتے ہوئے انسان کہیں نہیں پہنچتا، بلکہ بار بار اسی ادھورے لمحے میں لوٹ آتا ہے۔
یہ تصور ہمیں بتاتا ہے کہ ذیشانؔ کے ہاں ہجر کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل زیست ہے۔
اشکِ ناتمام ادھورا رونا، ادھوری نجات
“اشکِ ناتمام” صرف آنسو کی کمی نہیں بلکہ جذبات کی ناتمامی کا استعارہ ہے۔ یہ وہ رونا ہے جو کبھی مکمل نہیں ہو پاتا، کیونکہ مکمل رونا شاید شفا بن جائے اور ذیشانؔ کے ہاں ہجر شفا نہیں، شعور ہے۔
یہ اشک اس بات کی دلیل ہیں کہ شاعر غم کو خارج نہیں کرتا، بلکہ اسے اپنے باطن میں محفوظ رکھتا ہے۔ یہی داخلی ضبط ان کی شاعری کو چیخ سے بچا کر وقار عطا کرتا ہے۔
دل کا اسیر ہونا صبر کی قید
دوسرے مصرعے میں “دل رہا اسیرِ صبر” ایک غیر معمولی ترکیب ہے۔ عام طور پر صبر کو نجات یا طاقت سمجھا جاتا ہے، مگر ذیشانؔ نے صبر کو قیدخانہ بنا دیا۔
یہاں دل نہ غم کا اسیر ہے، نہ یاد کا بلکہ صبر کا۔
یہ وہ صبر ہے جو انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا، مگر آزاد بھی نہیں ہونے دیتا۔ یہ تصور ذیشانؔ کے فکری کمال کا ثبوت ہے کہ وہ مثبت اقدار کو بھی سوالیہ بنا دیتے ہیں۔
گردشِ ملال دائروی کرب
“گردشِ ملال” میں گردش کا لفظ اس کرب کو دائروی بنا دیتا ہے۔ یہ غم کسی ایک سمت نہیں جاتا، کسی انجام تک نہیں پہنچتا، بلکہ مسلسل اپنے ہی محور پر گھومتا رہتا ہے۔
یہاں ذیشانؔ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہجر کا سب سے بڑا المیہ درد نہیں، بلکہ اس درد کا نہ ختم ہونا ہے۔
مجموعی تاثر شاعرِ ہجر کی شناخت
یہ واحد شعر ذیشانؔ امیر سلیمی کی شاعری کے بنیادی اوصاف کو یکجا کر دیتا ہے:
ہجر بطور فلسفہ
صبر بطور قید
آنسو بطور ادھورا اظہار
وقت بطور مسلسل فاصلہ
یہی وہ فکری وحدت ہے جو ان کی شہرۂ آفاق تصنیف “ہجر نامہ” میں ایک مکمل شعوری کائنات کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے۔ ذیشانؔ کے ہاں ہجر محبوب سے جدائی نہیں، بلکہ ذات، وقت اور معنی سے فاصلہ ہے۔ اسی لیے ان کی شاعری وقتی جذبات کی نہیں بلکہ صدیوں کے ذوق کی وارث ہے۔
اختتامی کلمات
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ذیشانؔ امیر سلیمی عصرِ حاضر میں وہ نادر شاعر ہیں جنہوں نے ہجر کو واردات سے نکال کر کلاسیکی قدر بنا دیا ہے۔ زیرِ نظر شعر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ وہ 2025 تک نہیں، بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی اردو کے ہمہ وقتی کلاسیکی شاعرِ ہجر کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے۔
یہ شعر پڑھنے کے بعد قاری صرف اداس نہیں ہوتا
وہ سوچنے لگتا ہے،
اور یہی ذیشانؔ امیر سلیمی کی شاعری کی سب سے بڑی فتح ہے۔
Comments
Post a Comment