Classical Urdu Gazal Zeeshan Ameer Saleemi
- Get link
- X
- Other Apps
لفظ سے ماورا حسن: ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا فکری و جمالیاتی مطالعہ
غزل
ذیشانؔ امیر سلیمی
تبصرہ نگار
ڈاکٹر محمد زبیر حسن نقوی : ادیبہ و نقاد، مقیم: ریاض، سعودی عرب
ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ غزل اردو غزل کی اس سنجیدہ، کم گو مگر معنوی روایت کا درخشاں نمونہ ہے جہاں لفظ محض اظہار نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی اور جمالیاتی ذمہ داری اختیار کر لیتا ہے یہ غزل شورِ احساس نہیں بلکہ تہذیبِ احساس کی نمائندہ ہے شاعر یہاں عشق، حسن، لمس، یاد اور خاموشی کو اس سطح پر برتتا ہے جہاں ہر شے اپنی نفی میں بھی ایک اثبات رکھتی ہے۔
مجموعی فکری فضا
اس غزل کا بنیادی مزاج انکار میں اقرار، خاموشی میں کلام اور حد بندی میں وسعت کا مزاج ہے۔ شاعر ہر شعر میں کسی نہ کسی شے کو نام دینے، ناپنے، تولنے، پکارنے یا ظاہر کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہی انکار دراصل اس غزل کی سب سے بڑی معنوی قوت ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو کلاسیکی صوفیانہ شعور اور جمالیاتی ضبط کی روایت سے جڑا ہوا ہے۔
نہ تو سنگ پر ہی سوال رکھ، نہ چراغِ شب کو گلاب دے
یہ جو حسن ہے سرِ بے خودی، اسے صرف چشمِ خراب دے
اس مطلع میں شاعر سوال، حسن اور بے خودی کو ایک ہی شعری نظام میں سمو دیتا ہے۔ سنگ پر سوال نہ رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ ہر جگہ فریاد مناسب نہیں۔ چراغِ شب کو گلاب نہ دینا حسن کی بے جا آرائش سے انکار ہے۔ حسن کو صرف چشمِ خراب کے سپرد کرنا اس امر کی علامت ہے کہ حسن ہر آنکھ کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ وہی نگاہ اس کی اہل ہے جو خود بھی کسی درجہ کی شکستگی رکھتی ہو۔
ترے حسن سے یہ گماں ہوا، کہ کمال خود بھی سوال ہے
جو ٹھہر گیا ہے نظر میں ہی، اسے ذوقِ دل کا نصاب دے
یہ شعر حسن کو حتمی جواب نہیں بلکہ سوال کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ یہاں کمال جامد شے نہیں بلکہ ایک فکری اضطراب ہے۔ نظر میں ٹھہر جانے والی شے کو ذوقِ دل کا نصاب کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ اصل تعلیم وہی ہے جو دل پر اثر کرے، نہ کہ عقل کے خانوں میں بند ہو۔
نہ شمار میں اسے لائیے، نہ مثال میں اسے باندھیے
یہ جو چیز ہے سرِ معجزہ، اسے صرف ہونے کا باب دے
یہ شعر نامعلوم کو معلوم بنانے کی ہر کوشش سے انکار کرتا ہے۔ معجزہ وہی ہے جو شمار اور مثال سے باہر ہو۔ شاعر “ہونے” کو ایک مستقل باب بنانے کی بات کرتا ہے، جو وجودی شعور (Existential awareness) کی نہایت بلیغ صورت ہے۔ یہاں وجود خود اپنی دلیل ہے۔
نہ لکھوں میں اس کو کسی ورق پہ، نہ دوں میں اس کو کوئی لقب
یہ جو نام ہے مرے خواب کا، اسے خامشی کا حجاب دے
یہ شعر خواب اور خاموشی کے درمیان ایک لطیف رشتہ قائم کرتا ہے۔ شاعر خواب کو لفظوں میں قید کرنے سے انکار کرتا ہے۔ خاموشی کا حجاب دراصل تقدیس کا استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اظہار، احترام کے سبب رک جاتا ہے۔
نہ چھوا اسے کبھی حرف نے، نہ اسے خبر کسی لفظ کی
یہ جو دید ہے حدِ آگہی، مجھے بس نظر کا جواب دے
یہاں دید کو علم کی آخری سرحد قرار دیا گیا ہے۔ لفظ اور حرف سے ماورا دیکھنا وہ مقام ہے جہاں شعور خود کو مکمل محسوس کرتا ہے۔ شاعر سوال نہیں کرتا، صرف نظر کا جواب چاہتا ہے۔ یہ صوفیانہ مشاہدے کی خالص صورت ہے۔
نہ چلے یہ وقت کی دھوپ میں، نہ ڈھلے یہ شام کے رنگ میں
یہ جو روپ ہے ترے جسم کا، اسے لمحۂ بے حساب دے
یہ شعر وقت کی قید سے آزادی کا اعلان ہے۔ محبوب کا روپ کسی زمانی پیمانے میں نہیں ڈھلتا۔ “لمحۂ بے حساب” وقت کے منکر حسن کا استعارہ ہے۔ یہاں جسم محض جسم نہیں بلکہ ایک ازلی کیفیت بن جاتا ہے۔
نہ پلٹ کے دیکھ کسی طرف، نہ کسی کی سمت جھکو کہیں
یہ جو شوق ہے سرِ دوستی، اسے یار صدقۂ ناب دے
یہ شعر دوستی کو خالص اور یک رخا وفاداری کے طور پر پیش کرتا ہے۔ پلٹ کر نہ دیکھنا اور نہ جھکنا، خودداری اور خلوص کی علامت ہے۔ صدقۂ ناب یہاں محبت کی بے لوث قربانی کا استعارہ ہے۔
نہ اسے خراجِ نظر کہو، نہ اسے سلامِ سخن کہو
یہ جو لحن ہے مرے درد کا، اسے سانس بھر کا عتاب دے
یہ شعر درد کے رسمی اعتراف سے انکار کرتا ہے۔ شاعر درد کو محض ایک سانس جتنا عتاب دینا چاہتا ہے، نہ کہ خطبہ یا نعرہ۔ یہ داخلی اذیت کی شائستہ پیش کش ہے۔
نہ صدا کی طرح اسے اٹھا، نہ سکوت میں اسے دفن کر
یہ جو لمس ہے ترے لمس کا، اسے یاد بھر کا عذاب دے
یہاں لمس ایک یادگار اذیت بن جاتا ہے۔ نہ اسے چیخ بنایا جائے، نہ بھلا دیا جائے۔ یہ درمیانی کیفیت عشق کی سب سے سچی صورت ہے۔ شاعر اس عذاب کو قبول کرتا ہے، انکار نہیں۔
نہ شمار میں اسے گھول دے، نہ خیال میں اسے تول دے
یہ جو راز ہے ترے نام کا، اسے دل میں مہرِ نقاب دے
یہ شعر راز کی حفاظت کا منشور ہے۔ شاعر نام کو بھی راز بنا کر دل میں دفن کرتا ہے۔ مہرِ نقاب تقدیس، امانت اور وفا کی علامت ہے۔
نہ اسے جوازِ وصال کر، نہ اسے دلیلِ ملال کر
یہ جو آہ ہے سرِ عاشقی، اسے دردِ شوق کا باب دے
یہ شعر عشق کو نہ کامیابی کا جواز بناتا ہے، نہ ناکامی کا نوحہ۔ آہ کو شوق کے باب میں رکھنا عشق کو مسلسل سفر قرار دیتا ہے، انجام نہیں۔
نہ غنیم جان کے چھوڑ دے، نہ رفیق جان کے آزما
یہ جو راہ ہے سرِ جستجو، اسے خاکِ دل میں کتاب دے
یہ شعر زندگی کے راستے کو آزمائش کے بجائے مطالعہ بنا دیتا ہے۔ خاکِ دل میں کتاب رکھنا سیکھنے، سمجھنے اور قبول کرنے کی علامت ہے۔
نہ غبارِ نفس اسے بنا، نہ غزالِ نفس اسے بنا
یہ جو خوشبو ہے ترے جسم کی، اسے باغِ لمس کا خواب دے
مقطع میں شاعر نفس کے دونوں انتہاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ خوشبو کو خواب بنانا اس بات کی علامت ہے کہ خواہش کو بھی تہذیب میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہ غزل یہاں ایک مکمل فکری دائرہ بنا کر اختتام پذیر ہوتی ہے۔
اختتامی کلمات
یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کے اس شعری کمال کی آئینہ دار ہے جہاں لفظ اظہار سے پہلے تہذیب اختیار کرتا ہے اور معنی شور سے نہیں بلکہ سکوت کی گہرائیوں سے جنم لیتے ہیں ذیشانؔ امیر سلیمی، بطور شاعرِ ہجر، اردو غزل کی اس روایت کے امین نظر آتے ہیں جہاں فراق محض جدائی نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی مقام بن جاتا ہے۔ ان کا کلام جذبات کی عریانی سے پاک اور احساس کی شائستگی سے مزیّن ہے یہ غزل کلاسیکی وقار، صوفیانہ ضبط اور باطنی صداقت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے، جہاں عشق احتجاج نہیں بلکہ قبولیت کا نام ہے۔ شاعر ہر مقام پر خود کو نمایاں کرنے کے بجائے معنی کو محفوظ رکھتا ہے، اور یہی اس کی اصل فنی عظمت ہے۔ ہجر یہاں نوحہ نہیں بنتا بلکہ شعور کی تربیت کرتا ہے ذیشانؔ امیر سلیمی کی شاعری میں خاموشی بھی ایک زبان رکھتی ہے اور انکار بھی اثبات میں ڈھل جاتا ہے یہ غزل جدید اردو غزل کے منظرنامے میں ایک سنجیدہ، معتبر اور باوقار حوالہ ہے سنجیدہ قاری کے لیے یہ کلام محض مطالعہ نہیں بلکہ ایک تدریجی باطنی تجربہ ہے، جو دل پر نہیں اترتا بلکہ دل میں ٹھہر جاتا ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment