Classical Urdu Ghazal Zeeshan Ameer Saleemi

 

وقارِ ہجر اور جمالِ طلب شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی فکر انگیز غزل

غزل

یہی   تو     ذوقِ   طلب   تھا    کہ   تشنہ    کام  چلے
نہ   پیاس بجھ سکی ہم سے، نہ لب  بہ  جام چلے

وہ   ایک   لمسِ   نظر    تھا   کہ عمر بھر کے  لیے
مرے    شعور     میں   موسم    سرِ     دوام    چلے

جو ایک یاد تھی، ٹھہری  رہی  رگِ جاں میں
اسی سے خواب، اسی سے مرے  کلام چلے

دلِ   شکستہ   نے  سیکھا   یہ   فن    گلابوں  سے
کہ زخم کھا کے بھی  خوشبو    بہ  اہتمام   چلے

کسی  کا ہو کے بھی روشن چراغِ بے  آواز
مرے  خیال کے  ویرانوں   میں    مدام  چلے

تری   جفا  میں  بھی   پوشیدہ   تھا   سلیقۂ   ضبط
کہ   اشک   اشک   مگر   صورتِ   سلام   چلے

دلِ   خراب    میں  ٹھہرا    ہوا   سکونِ    فراق
کہ جیسے   دشت  میں   پوشیدہ    کچھ  مقام  چلے

سرِ      خیال      کھلا     اک      جہانِ      معنی     پر
وگرنہ    لفظ    تو    برسوں    مرے    غلام    چلے

ہجومِ    شب  میں   چمکتا    رہا     نشانِ    نفس
کہ   تیرگی   کے   بھی    ہمراہ   کچھ    نظام    چلے

چراغِ  عمر    کی  لو  تھم  گئی   تو   کیا   غم   ہے
دھواں اٹھا  تو  کئی  نقشِ صبح  و  شام  چلے

غبارِ  جسم   سے    باہر    عجب   صفائے   فضا
حصار     ٹوٹ     گیا،   قافلے      بہ     نام     چلے

وقارِ   زخم  نے  بخشی   جلا   بھی   کیا   ذیشانؔ
کہ خونِ  داغ  سے  کچھ نقش  بام   بام  چلے

 ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار

ڈاکٹر حماد سلیم قریشی
(پاکستانی محقق و نقاد، مقیم مسقط، سلطنتِ عمان)

تمہید

ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ غزل کلاسیکی روایت اور جدید باطنی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں ہجر کو محض محرومی نہیں بلکہ روحانی اور تخلیقی بالیدگی کا وسیلہ بنایا گیا ہے۔ شاعر کا لہجہ سراسر مہذب، باوقار اور باطنی روشنی سے منور ہے۔ وہ چیخ کر نہیں لکھتے، بلکہ معنی کو خاموشی کی روشنی میں رکھ دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری قاری کے دل میں اترنے کے بعد دیر تک اثر رکھتی ہے  اس غزل میں طلب، یاد، فراق، ضبط، اور روحانی ارتقا کے مضامین نہایت سلیقے اور کلاسیکی شائستگی کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ہر شعر ایک مستقل جمالیاتی اکائی ہے مگر پورا کلام ایک ہی داخلی فضا میں سانس لیتا ہے۔ یہی وحدت اس غزل کو فکری طور پر مضبوط اور فنی طور پر پختہ بناتی ہے۔

اشعار پر مفصل تبصرہ

یہی   تو     ذوقِ   طلب   تھا    کہ   تشنہ    کام  چلے
نہ   پیاس بجھ سکی ہم سے، نہ لب  بہ  جام چلے

یہ مطلع محض غزل کا آغاز نہیں بلکہ شاعر کے فکری منشور کا اعلان ہے۔ یہاں طلب کی وہ کیفیت بیان ہوئی ہے جو وصل سے زیادہ جستجو کو اہم سمجھتی ہے۔ شاعر پیاس بجھانے کی خواہش نہیں رکھتا بلکہ اس پیاس کو زندہ رکھنے میں حسن دیکھتا ہے۔ یہی صوفیانہ رمز اردو غزل کی اعلیٰ روایت سے جڑی ہوئی ہے "لب بہ جام نہ جانا" ضبط، وقار اور خودداری کی علامت ہے۔ شاعر جذباتی نہیں، باوقار عاشق ہے۔ اس شعر میں داخلی سچائی، جمالیاتی سادگی اور فکری گہرائی تینوں بیک وقت موجود ہیں۔ یہی خوبی اسے یادگار مطلع بناتی ہے۔

وہ   ایک   لمسِ   نظر    تھا   کہ عمر بھر کے  لیے
مرے    شعور     میں   موسم    سرِ     دوام    چلے

یہ شعر محبت کے ایک لمحاتی تجربے کو ابدی کیفیت میں بدل دیتا ہے۔ "لمسِ نظر" جیسا نازک استعارہ شاعر کی لطیف حسّیت کی دلیل ہے۔ یہ محض دیکھنا نہیں، روح کا چھو جانا ہے شعور میں موسموں کا "سرِ دوام" چلنا اس بات کی علامت ہے کہ محبت وقتی جذبہ نہیں بلکہ وجودی تبدیلی ہے۔ شاعر نے یاد کو وقت کی قید سے آزاد کر دیا ہے۔ یہ شعر کلاسیکی رومانویت اور جدید نفسیاتی شعور کا حسین امتزاج ہے۔

جو ایک یاد تھی، ٹھہری  رہی  رگِ جاں میں
اسی سے خواب، اسی سے مرے  کلام چلے

یہاں یاد کو زندگی کی شہ رگ میں دھڑکتے ہوئے احساس کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ سطحی یاد نہیں بلکہ وجود کا حصہ بن جانے والی کیفیت ہے اسی یاد سے خواب بھی جنم لیتے ہیں اور شاعری بھی گویا محبوب کی یاد تخلیقی الہام کا سرچشمہ بن گئی ہے۔ یہ شعر شاعر کی داخلی سچائی اور تخلیقی دیانت کی علامت ہے۔ اس میں جذبہ بھی ہے، فکر بھی اور جمالیاتی توازن بھی۔

دلِ   شکستہ   نے  سیکھا   یہ   فن    گلابوں  سے
کہ زخم کھا کے بھی  خوشبو    بہ  اہتمام   چلے

یہ شعر استعارے کے حسن کی شاندار مثال ہے۔ گلاب اور زخم کا تعلق اردو شاعری میں معروف ہے مگر یہاں خوشبو کو "اہتمام" کے ساتھ جوڑنا معنی میں تازگی پیدا کرتا ہے شاعر دکھ کو بے ترتیبی نہیں بننے دیتا بلکہ اسے مہذب خوشبو میں بدل دیتا ہے۔ یہ درد کی تہذیب ہے، شکست کی نفاست ہے۔ اس شعر میں ذیشانؔ کی فکری پختگی اور جمالیاتی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔

کسی  کا ہو کے بھی روشن چراغِ بے  آواز
مرے  خیال کے  ویرانوں   میں    مدام  چلے

یہاں محبت کا تصور خاموش وابستگی کی صورت میں ابھرتا ہے۔ چراغ روشن ہے مگر بے آواز — یعنی جذبہ موجود ہے مگر نمائش نہیں  یہ کیفیت کلاسیکی وفاداری اور روحانی نسبت کی علامت ہے۔ خیال کے ویرانوں میں اس چراغ کا جلتے رہنا داخلی روشنی کی علامت ہے۔ شاعر نے تنہائی کو اندھیرا نہیں بننے دیا بلکہ اسے نور سے بھر دیا ہے۔

تری   جفا  میں  بھی   پوشیدہ   تھا   سلیقۂ   ضبط
کہ   اشک   اشک   مگر   صورتِ   سلام   چلے

یہ شعر تہذیبِ غم کی معراج ہے۔ شاعر محبوب کی جفا کو بھی بدذوقی نہیں بننے دیتا بلکہ اس میں بھی ضبط کا سلیقہ تلاش کرتا ہے آنسو بہتے ہیں مگر "صورتِ سلام"  یہ جذبے کی انتہائی شائستہ صورت ہے۔ یہاں عشق احتجاج نہیں، احترام بن جاتا ہے۔ اس شعر میں کلاسیکی شائستگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

دلِ   خراب    میں  ٹھہرا    ہوا   سکونِ    فراق
کہ جیسے   دشت  میں   پوشیدہ    کچھ  مقام  چلے

فراق کو سکون کی صورت میں پیش کرنا نہایت گہرا داخلی تجربہ ہے۔ یہ سطحی غم نہیں بلکہ مانوس دکھ ہے جو دل میں ٹھہر گیا ہے  دشت میں پوشیدہ مقام کا استعارہ ظاہر کرتا ہے کہ ویرانی بھی بے معنی نہیں ہوتی۔ شاعر نے ہجر کو شعوری سکون میں بدل دیا ہے۔ یہ شعر فکری بلوغت کی دلیل ہے۔

سرِ      خیال      کھلا     اک      جہانِ      معنی     پر
وگرنہ    لفظ    تو    برسوں    مرے    غلام    چلے

یہ شعر شاعر کی فکری بیداری کا اعلان ہے۔ محض الفاظ پر قدرت کافی نہیں، اصل کمال معنی کی دنیا تک رسائی ہے  "لفظ غلام تھے" کہنا تخلیقی ارتقا کی طرف اشارہ ہے۔ یہ شعر ذیشانؔ کی شعری خود آگہی کا خوبصورت اظہار ہے۔

ہجومِ    شب  میں   چمکتا    رہا     نشانِ    نفس
کہ   تیرگی   کے   بھی    ہمراہ   کچھ    نظام    چلے

اندھیرا یہاں محض تاریکی نہیں بلکہ ایک منظم فضا ہے جس میں نفس کا نشان چمکتا رہتا ہے۔
یہ وجودی شعور کا شعر ہے۔ شاعر نے تیرگی میں بھی نظم اور معنی تلاش کیے ہیں۔ یہ فکری گہرائی ذیشانؔ کو نمایاں بناتی ہے۔

چراغِ  عمر    کی  لو  تھم  گئی   تو   کیا  غم   ہے
دھواں اٹھا  تو  کئی  نقشِ صبح  و  شام  چلے

یہ شعر موت کے تصور کو نہایت مثبت اور تخلیقی انداز میں پیش کرتا ہے۔ چراغ بجھنے کے بعد بھی دھواں نقش چھوڑ جاتا ہے  گویا انسان اپنے اثرات کے ذریعے زندہ رہتا ہے۔ یہ فکر کلاسیکی تصوف اور جدید معنویت دونوں سے جڑی ہوئی ہے۔

غبارِ  جسم   سے    باہر    عجب   صفائے   فضا
حصار     ٹوٹ     گیا،   قافلے      بہ     نام     چلے

یہ شعر روحانی تطہیر کی علامت ہے۔ جسمانی حدود سے باہر نکل کر شاعر کو ایک نئی فضا ملتی ہے  حصار کا ٹوٹنا آزادی اور وسعتِ شعور کی دلیل ہے۔ یہ شعر داخلی ارتقا کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔

وقارِ   زخم  نے  بخشی   جلا   بھی   کیا   ذیشانؔ
کہ خونِ  داغ  سے  کچھ نقش  بام   بام   چلے

مقطع پورے کلام کا نچوڑ ہے۔ شاعر اپنے نام کے ساتھ زخم کو روشنی میں بدل دیتا ہے  درد یہاں تخلیق کی قوت بن گیا ہے۔ "نقش بام بام" شاعر کے اثرات کی وسعت کی علامت ہے  یہ شعر ذیشانؔ کے شعری وقار، فکری گہرائی اور جمالیاتی بصیرت کا بھرپور اظہار ہے۔

اختتامی نوٹ

یہ غزل درد کو وقار، ہجر کو شعور، اور یاد کو تخلیق میں بدل دینے کی اعلیٰ مثال ہے  ذیشانؔ امیر سلیمی واقعی عصرِ حاضر کے نمایاں شاعرِ ہجر ہیں  ان کے ہاں محبت شور نہیں، روشنی ہے غم کمزوری نہیں، جمالیاتی طاقت ہے اور یہی اوصاف بڑے شاعر کی پہچان ہوتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi