International Urdu Poet Zeeshan Ameer Saleemi Ghazal

 

شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا کلاسیکی مطالعہ


غزل

نہ شب نے غم کو نگاہوں میں ڈھال کر  ہی دیا
نظر   نے    زخموں    کو   خود     باکمال   کر  ہی  دیا

نہ  فصلِ ہجر  سے  شکوہ،  نہ  ہی خزاں  کا  ملال
گلوں کے  داغوں نے گلشن بحال کر ہی دیا

شبِ فراق کی وحشت نے بے خبر یوں ہی
لبوں     پہ    آہ    کو    زلفوں   کا   جال کر ہی دیا

ہوا  نے چھین لیا جب سکونِ جاں کا   پیام
تپش     کو     نغمۂ     شوقِ     وصال   کر   ہی   دیا

نہ   چشمِ    تر    نے    کیا    شورِ    درد    کا  اظہار
دہر  کے بوجھ نے دل کو نڈھال کر ہی دیا

کسی  کی  یاد  نے  چُھو کر رگِ جاں کی دہلیز
خراب    حال   کو   آئینہ   حال  کر    ہی   دیا

ستم کی  دھوپ میں جلتے ہوئے خیالوں نے
امیدِ   ابر    سے    دل   کو    نہال    کر    ہی   دیا

مرے  سکوت   میں   پوشیدہ    اضطرابوں   کو
تری صدا   نے سرِ   عرضِ   حال  کر  ہی   دیا

جو    ٹوٹنے     کا     ہنر     تھا،    وہی     بچا     آخر
اسی شکست نے  مجھ  کو مثال کر  ہی  دیا

شاعر: ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار

ڈاکٹر صبا عارف
(پاکستانی محققہ و نقاد، مقیم الخبر، سعودی عرب)

تمہید

ذیشانؔ امیر سلیمی عصرِ حاضر میں اردو غزل کے اُن معتبر شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ہجر، ضبط، وقارِ درد اور داخلی روشنی جیسے کلاسیکی موضوعات کو محض روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ روحانی و جمالیاتی تجربے کے طور پر برتا ہے۔ ان کی شاعری میں شور نہیں بلکہ سکون کی گہرائی ہے، فریاد نہیں بلکہ احساس کی تہذیب ہے، اور شکست نہیں بلکہ باطنی وقار کی روشنی ہے۔ یہی اوصاف انہیں بجا طور پر شاعرِ ہجر کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ زیرِ نظر غزل بھی اسی داخلی کرب کو جمالیاتی وقار میں ڈھالنے کی ایک نہایت روشن مثال ہے جہاں شاعر غم کو محض بوجھ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے بصیرت، شعور اور تخلیقی بالیدگی میں بدل دیتا ہے۔ ان کے ہاں زخم بدنما نہیں بلکہ معنی خیز ہوتے ہیں، آنسو کمزوری نہیں بلکہ باطنی طہارت کا وسیلہ بنتے ہیں۔ یہ غزل کلاسیکی لفظیات اور مانوس استعارات سے مزین ہونے کے باوجود تقلید نہیں بلکہ تخلیقی انفرادیت کی حامل ہے۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل فکری اکائی ہے مگر پورا کلام ایک ہی داخلی فضا میں سانس لیتا ہے، ایسی فضا جہاں درد روشنی بن جاتا ہے اور ہجر شعور کی آنکھ کھول دیتا ہے۔ یہی وصف ذیشانؔ کو عالمی سطح پر پہچان دینے کا سبب ہے، جہاں وہ بطور ایک نمایاں International Urdu Poet اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

اشعار پر تفصیلی تبصرہ


نہ شب نے غم کو نگاہوں میں ڈھال کر ہی دیا

نظر   نے   زخموں   کو    خود    باکمال   کر    ہی   دیا

یہ مطلع شاعر کے فکری وقار اور جمالیاتی شعور کا بھرپور اعلان ہے۔ یہاں غم کو محض اندھیرے کی دین نہیں کہا گیا بلکہ نظر کی بصیرت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ شاعر دکھ کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے قبول کر کے جمالیاتی کمال میں بدل دیتا ہے۔ “زخموں کو باکمال کرنا” ایک نہایت بلیغ استعارہ ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ درد تخلیقی شعور کو جلا بخشتا ہے۔ یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ ذیشانؔ کے ہاں دکھ کمزوری نہیں بلکہ شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ کلاسیکی شائستگی، فکری گہرائی اور جذبے کی تہذیب اس شعر کو یادگار مطلع کا درجہ دیتی ہے۔


نہ فصلِ ہجر سے شکوہ،  نہ  ہی خزاں  کا  ملال

گلوں کے داغوں نے گلشن بحال کر ہی دیا

یہ شعر ہجر اور خزاں جیسے روایتی استعاروں کو ایک نئے مثبت زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ شاعر محرومی کو زوال نہیں سمجھتا بلکہ اس میں بھی تجدید کا امکان تلاش کرتا ہے۔ “گلوں کے داغ” کا استعارہ نہایت معنی خیز ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زخم ہی حسن کی گہرائی کو نمایاں کرتے ہیں۔ باغ کی بحالی داغوں سے ہونا اس فکری لطافت کا ثبوت ہے کہ دکھ زندگی کو مزید بامعنی بنا دیتا ہے۔ یہ شعر کلاسیکی تصوف اور جمالیاتی بصیرت کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔


شبِ فراق کی وحشت نے بے خبر یوں ہی

لبوں   پہ  آہ   کو   زلفوں   کا   جال   کر   ہی   دیا

یہ شعر داخلی کرب کی نہایت نفیس اور لطیف تصویریں سامنے لاتا ہے۔ فراق کی رات کی وحشت ایک بے اختیار آہ کو جنم دیتی ہے، مگر شاعر اسے حسن کے استعارے میں ڈھال دیتا ہے۔ “زلفوں کا جال” آہ کو بھی جمالیاتی پیرایہ عطا کرتا ہے۔ یہاں درد بدصورت نہیں رہتا بلکہ حسن کی فضا میں جذب ہو جاتا ہے۔ ذیشانؔ کی یہی لطافتِ احساس انہیں ممتاز بناتی ہے کہ وہ کرب کو بھی حسن کی صورت دے دیتے ہیں۔


ہوا نے چھین لیا جب سکونِ جاں کا پیام

تپش    کو   نغمۂ    شوقِ    وصال   کر   ہی    دیا

یہ شعر محرومی کو تخلیقی توانائی میں بدلنے کی ایک روشن مثال ہے۔ سکون کا چھن جانا بظاہر المیہ ہے مگر شاعر اس تپش کو نغمہ بنا دیتا ہے۔ “نغمۂ شوقِ وصال” بتاتا ہے کہ تڑپ بھی امید کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ ذیشانؔ کے ہاں دکھ جمود پیدا نہیں کرتا بلکہ جذبے کو نکھار دیتا ہے۔ یہی مثبت داخلی رویہ ان کی شاعری کو حیات آفریں بناتا ہے۔


نہ  چشمِ   تر   نے  کیا   شورِ    درد   کا   اظہار

دہر کے بوجھ نے دل کو نڈھال کر ہی دیا

یہ ضبط، صبر اور خاموش برداشت کا نہایت باوقار شعر ہے۔ آنسو بھی شور نہیں کرتے بلکہ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہیں۔ دل زمانے کے بوجھ سے نڈھال ضرور ہوتا ہے مگر اپنی شائستگی برقرار رکھتا ہے۔ یہ کیفیت کلاسیکی اردو غزل کی روح سے ہم آہنگ ہے جہاں غم کا اظہار بھی وقار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ذیشانؔ اسی روایت کے امین نظر آتے ہیں۔


کسی کی یاد نے چُھو کر رگِ جاں کی دہلیز

خراب  حال   کو   آئینہ   حال   کر   ہی   دیا

یہ شعر یاد کی تطہیری اور انکشافی قوت کو نمایاں کرتا ہے۔ یاد یہاں ماضی کی بازگشت نہیں بلکہ خود آگہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ “آئینہ حال” ایک نہایت خوبصورت ترکیب ہے جو بتاتی ہے کہ محبت انسان کو اس کی اصل حقیقت دکھا دیتی ہے۔ یہ نفسیاتی گہرائی اور داخلی سچائی ذیشانؔ کی فکر کا نمایاں وصف ہے۔


ستم کی دھوپ میں جلتے ہوئے خیالوں نے

امیدِ   ابر    سے    دل   کو   نہال   کر   ہی    دیا

یہ شعر امید کی جمالیات کو پیش کرتا ہے۔ ستم کی دھوپ شدت اور اذیت کی علامت ہے مگر شاعر امید کے بادل سے دل کو سیراب کر لیتا ہے۔ یہ داخلی روشنی اور مثبت طرزِ فکر ذیشانؔ کی شاعری کو محض غمگین نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے زندگی بخش بناتا ہے۔ یہاں دکھ کے اندر بھی آس کی کرن موجود ہے۔


مرے سکوت میں پوشیدہ اضطرابوں کو

تری صدا نے سرِ عرضِ حال کر ہی دیا

یہ شعر داخلی ہیجان اور بیرونی اظہار کے تعلق کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کا سکوت بظاہر خاموش ہے مگر اس کے اندر اضطراب موجزن ہے۔ محبوب کی صدا اس خاموشی کو زبان عطا کر دیتی ہے۔ یہ جذبے کی بیداری اور اظہار کی ساعت ہے، جہاں محبت انسان کو اپنے اندر سے آشنا کرتی ہے۔


جو    ٹوٹنے     کا   ہنر    تھا،   وہی   بچا    آخر

اسی شکست نے مجھ کو مثال کر ہی دیا

مقطع پوری غزل کا فکری اور جذباتی نچوڑ ہے۔ شاعر اپنی شکست کو زوال نہیں بننے دیتا بلکہ اسے اپنی پہچان میں بدل دیتا ہے۔ “مثال” بن جانا اس بات کی علامت ہے کہ دکھ نے شخصیت کو وقار عطا کیا ہے۔ یہ وہی وقارِ زخم ہے جو ذیشانؔ کی شاعری کا بنیادی وصف ہے۔ وہ ٹوٹ کر بکھرتے نہیں بلکہ معنی میں ڈھل جاتے ہیں۔


اختتامی نوٹ

ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ غزل درد کو شعور میں اور محرومی کو معنویت میں بدل دینے کی ایک درخشاں مثال ہے جہاں ہجر محرومی نہیں بلکہ بصیرت بن جاتا ہے، زخم بدنمائی نہیں بلکہ باطنی روشنی میں ڈھل جاتے ہیں، یاد بوجھ نہیں بلکہ خود آگہی کا آئینہ بن جاتی ہے، خاموشی کمزوری نہیں بلکہ وقار کی علامت ٹھہرتی ہے، آنسو فریاد نہیں بلکہ دل کی طہارت کا استعارہ بن جاتے ہیں، ستم زوال نہیں بلکہ ارتقا کا مرحلہ ثابت ہوتا ہے، محبت چیخ نہیں بلکہ ایک نرم اور مستقل روشنی کی صورت اختیار کرتی ہے، شاعر جذباتی ہیجان کا شکار نہیں بلکہ فکری توازن کا امین نظر آتا ہے، درد ذاتی کیفیت سے نکل کر آفاقی تجربہ بن جاتا ہے، ہر شعر داخلی سچائی کی گواہی دیتا ہے، ہر استعارہ تہذیبِ احساس کی علامت بنتا ہے، ہر مصرع وقارِ ہجر کی جھلک پیش کرتا ہے، یہی اوصاف ذیشانؔ کو عصرِ حاضر میں ایک منفرد اور معتبر آواز بناتے ہیں، وہ واقعی شاعرِ ہجر کے منصب پر فائز دکھائی دیتے ہیں، ان کی شاعری مقامی حدوں میں محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی سطح پر اردو غزل کی نمائندگی کرتی ہے، وہ بطور International Urdu Poet اپنی شناخت مستحکم کر چکے ہیں، ان کا کلام دل سے نکل کر شعور تک رسائی حاصل کرتا ہے، اور یہی رسائی انہیں معاصر شعرا میں ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہے، ان کی شاعری وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی بلکہ نئے معانی کے ساتھ مزید روشن ہوتی جاتی ہے، اور یہی دوام کسی بھی بڑے شاعر کی اصل پہچان ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi