Parda-Gaari
پردۂ خاموشی میں بولتا ہوا عشق - اوسلو سے اٹھتی ہوئی اردو کی زنجیر
تبصرہ نگار
عائشہ زہرہ قمر فاروقی
اوسلو - مملکتِ ناروے
تمہیدی بند - زنجیرِ معنی پر تبصرہ
یہ منتخب اشعار محض الگ الگ فکری وحدتیں نہیں بلکہ ایک مسلسل زنجیرِ شعور ہیں، جس کی ہر کڑی عشق کے ایک نئے زاویے کو منکشف کرتی ہے۔ اوسلو کی سرد، خاموش اور طویل راتوں میں پروان چڑھنے والا یہ شعری شعور مشرقی کلاسیکیت کی حرارت اپنے اندر محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ شاعرہ کے ہاں نظر کا لمحہ، وصل کی ناپائیداری، طنز کی تلخی، خاموشی کی عظمت اور پردہ گری کی صناعی ایک ہی داخلی سفر کے مختلف مراحل ہیں۔ یوں یہ تمام اشعار ایک ہی روحانی قوس میں بندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جہاں محبت خارجی واردات سے باطنی ہنر میں ڈھل جاتی ہے۔
ندا فاضلی
یہ شعر عشق کے اولین انکشاف کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہاں نظر کی محض ٹکر نہیں بلکہ دو روحوں کا اتصال ہے، جس کے نتیجے میں فضا روشن ہو جاتی ہے۔ یہ زنجیر کی پہلی کڑی ہے جہاں محبت اپنے وجود کا اعلان کرتی ہے۔
پروین شاکر
یہاں شاعرہ محبت کے شباب کے ساتھ اس کے انجام کو بھی دیکھ لیتی ہے۔ دریا جیسی شدید محبت بھی آخرکار ریت پر بیٹھ جاتی ہے۔ یہ کڑی عشق کے فانی ہونے کا المیہ بیان کرتی ہے۔
اکبر الہ آبادی
یہ شعر معاشرتی بے حسی پر گہرا طنز ہے۔ عاشق کے سچے جذبے کو ہنسی میں اڑا دینا اس دور کے رویوں کی آئینہ داری کرتا ہے۔ یہ زنجیر کی وہ کڑی ہے جہاں احساس کی توہین جنم لیتی ہے۔
ابنِ انشاء
یہ شعر وفا کی اس منزل کو ظاہر کرتا ہے جہاں خاموشی، اظہار سے زیادہ معتبر ہو جاتی ہے۔ شاعر جانتا ہے کہ محبوب کی حرمت پردہ میں ہی محفوظ ہے۔ یہ زنجیر کی نہایت لطیف کڑی ہے۔
ذیشانؔ امیر سلیمی
یہ شعر پوری زنجیر کو فنی تکمیل عطا کرتا ہے۔ یہاں خاموشی محض ضبط نہیں بلکہ ایک ہنر ہے—پردہ گری کا ہنر۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے نہ کہتے ہوئے بھی سب کہہ دیا۔
اختتامی کلمات
یوں یہ تمام اشعار ایک ایسی شعری زنجیر بن جاتے ہیں جو نظر سے شروع ہو کر پردہ گری پر منتج ہوتی ہے۔ اوسلو میں مقیم اس پاکستانی شاعرہ کا یہی امتیاز ہے کہ وہ سرد دیار میں بیٹھ کر بھی اردو کی کلاسیکی روح کو نہایت گرم لہجے میں زندہ رکھتی ہیں، اور عشق کو خاموشی کے قرینے میں امر کر دیتی ہیں۔

Comments
Post a Comment