غزل
نہ قرارِ جاں نے پناہ د ی، نہ ہی سوزِ غم کو بجھا لیا
مرے داغِ عمر کی آگ نے، یہ بدن ہی سارا جلا لیا
نہ خبر ہوئی مرے حال کی، نہ عیاں ہوا کوئی زخمِ عشق
مرے ضبطِ جاں کی جو آنچ تھی، اسے چشمِ ناز نے پا لیا
نہ گلابِ لب نے صدا اٹھائی، نہ آبِ دید روا ہوا
مرے دردِ دل کی جو بات تھی، اسے صبرِ شب نے چھپا لیا
نہ ہی موجِ دریا نے شور کیا، نہ کنارا لب وا ہو ہی سکا
مرے صبرِ خشک نے آپ ہی، غمِ عشق پی کہ نبھا لیا
وہ جو شام بن کے رکی رہی، مرے حوصلوں کی فصیل پر
کسی ایک یاد کی آندھی نے، اسے ایک پل میں اڑا لیا
وہی تل جو زینتِ رخ بنا، وہی دل کا سارا جہاں بنا
مرے ضبطِ دیدۂ نم نے بس، اسے نقشِ دل میں سجا لیا
کبھی دھوپ خواب میں ڈھل گئی، کبھی رات آنکھوں میں بس گئی
جو بچا تھا دل کے حساب میں، وہی ایک لمحہ چرا لیا
جو گماں کی دھند میں کھو گیا، وہی راستہ مجھے مل گیا
مرے ایک سچے ارادے نے، کئی موسموں کو بلا لیا
وہ بدن کہ جیسے شفق گھلی، کسی نیلگوں سی رگوں میں ہو
مرے لمسِ فکر نے دیر تک، اسے روح بھر میں بسا لیا
ذیشانؔ امیر سلیمی
تبصرہ نگار
ڈاکٹر سدرہ نعیم
(محققہ، ادیبہ و نقاد مقیم: منامہ، بحرین)
تمہیدی کلمات
ذیشانؔ امیر سلیمی، جنہیں عصرِ حاضر میں بجا طور پر شاعرِ ہجر کہا جاتا ہے، اردو غزل کی اس روایت کے امین ہیں جہاں دکھ چیخ نہیں بنتا، اور عشق احتجاج کے بجائے تہذیب اختیار کرتا ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے اسی فکری اور جمالیاتی سفر کی ایک نہایت پختہ مثال ہے۔ یہ کلام احساس کی عریانی سے پاک، ضبطِ ذات سے مزیّن اور فکری بالیدگی سے لبریز ہے۔ اس غزل میں شاعر نے عمر، بدن، یاد، لمس، صبر اور ارادہ سب کو اس سطح پر برتا ہے جہاں ہر شے اپنے دکھ میں بھی وقار رکھتی ہے۔ یہ غزل اردو ادب کے لیے ایک انمول تحفہ ہے، جو کلاسیکی روایت کو جدید شعور کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے
نہ قرارِ جاں نے پناہ دی، نہ ہی سوزِ غم کو بجھا لیا
مرے داغِ عمر کی آگ نے، یہ بدن ہی سارا جلا لیا
اس مطلع میں شاعر نے زندگی کے داخلی کرب کو نہایت سادہ مگر گہرے استعارے میں سمو دیا ہے۔
قرارِ جاں اور سوزِ غم دونوں ناکام نظر آتے ہیں، گویا کوئی خارجی سہارا کارگر نہیں۔
عمر کے داغ کو آگ کہنا تجربے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
بدن کا جل جانا محض جسمانی نہیں بلکہ وجودی تجربہ ہے۔
یہ شعر زندگی کے طویل کرب کا نچوڑ ہے۔
یہاں درد بیان نہیں ہوتا، جیا جاتا ہے۔
یہی ذیشانؔ امیر سلیمی کی شاعری کی اصل قوت ہے۔
نہ خبر ہوئی مرے حال کی، نہ عیاں ہوا کوئی زخمِ عشق
مرے ضبطِ جاں کی جو آنچ تھی، اسے چشمِ ناز نے پا لیا
یہ شعر عشق کی خاموش دریافت کا بیان ہے۔
حال اور زخم دونوں غیر نمایاں رہتے ہیں۔
ضبطِ جاں کی آنچ ظاہر نہیں ہوتی مگر محسوس کی جاتی ہے۔
چشمِ ناز یہاں بصیرت کی علامت بن جاتی ہے۔
یہ عشق شور نہیں چاہتا، سمجھ چاہتا ہے۔
شاعر جذبے کو وقار کے دائرے میں رکھتا ہے۔
یہ کلاسیکی شعور کی اعلیٰ مثال ہے۔
نہ گلابِ لب نے صدا اٹھائی، نہ آبِ دید روا ہوا
مرے دردِ دل کی جو بات تھی، اسے صبرِ شب نے چھپا لیا
یہ شعر ضبط اور شائستگی کی انتہا ہے۔
نہ لب گویا ہوتے ہیں، نہ آنکھ اجازت لیتی ہے۔
درد صبر کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
شب یہاں راز دار بن جاتی ہے۔
یہ وہ عشق ہے جو نمائش سے انکار کرتا ہے۔
شاعر دکھ کو تہذیب میں ڈھالتا ہے۔
یہی غزل کا روحانی حسن ہے۔
نہ ہی موجِ دریا نے شور کیا، نہ کنارا لب وا ہو ہی سکا
مرے صبرِ خشک نے آپ ہی، غمِ عشق پی کہ نبھا لیا
یہ شعر استقامت کی علامت ہے۔
دریا بھی خاموش ہے، کنارا بھی۔
صبرِ خشک ایک سخت مگر پائیدار کیفیت ہے۔
غم کو پینا اور نبھانا عشق کی اعلیٰ صورت ہے۔
یہاں فریاد نہیں، قبولیت ہے۔
شاعر درد کو بوجھ نہیں بننے دیتا۔
یہ صوفیانہ رویہ غزل کو بلند کرتا ہے۔
وہ جو شام بن کے رکی رہی، مرے حوصلوں کی فصیل پر
کسی ایک یاد کی آندھی نے، اسے ایک پل میں اڑا لیا
یہ شعر یاد کی اچانک یلغار کا نقشہ کھینچتا ہے۔
شام ایک ٹھہراؤ کی علامت ہے۔
حوصلوں کی فصیل مضبوط ہے مگر یاد بے قابو۔
ایک لمحہ پوری فضا بدل دیتا ہے۔
یہ انسانی کمزوری کا سچا اعتراف ہے۔
شاعر حقیقت سے فرار نہیں کرتا۔
یہ سچائی شعر کو طاقت دیتی ہے۔
وہی تل جو زینتِ رخ بنا، وہی دل کا سارا جہاں بنا
مرے ضبطِ دیدۂ نم نے بس، اسے نقشِ دل میں سجا لیا
یہ شعر حسن اور وابستگی کا لطیف بیان ہے۔
ایک معمولی سا تل پوری کائنات بن جاتا ہے۔
دیدۂ نم کا ضبط یہاں تقدیس میں بدلتا ہے۔
یاد کو دل میں سجا لینا عشق کی شائستگی ہے۔
یہ چاہت ملکیت نہیں مانگتی۔
شاعر جذبے کو محفوظ رکھتا ہے۔
یہ غزل کی جمالیاتی معراج ہے۔
کبھی دھوپ خواب میں ڈھل گئی، کبھی رات آنکھوں میں بس گئی
جو بچا تھا دل کے حساب میں، وہی ایک لمحہ چرا لیا
یہ شعر وقت کی ناپائیداری کا بیان ہے۔
دھوپ اور رات خواب و آنکھ میں بدلتی رہتی ہیں۔
زندگی کا سرمایہ ایک لمحہ رہ جاتا ہے۔
یہ لمحہ بھی چرا لیا جاتا ہے۔
یہ انسانی بے بسی کی تصویر ہے۔
مگر شکوہ نہیں، ادراک ہے۔
یہی فکری پختگی ہے۔
جو گماں کی دھند میں کھو گیا، وہی راستہ مجھے مل گیا
مرے ایک سچے ارادے نے، کئی موسموں کو بلا لیا
یہ شعر ارادے کی روحانی قوت کو نمایاں کرتا ہے۔
جو راستہ کھو گیا تھا، وہی مل جاتا ہے۔
سچّا ارادہ وقت کو مات دے دیتا ہے۔
موسم یہاں حالات کی علامت ہیں۔
یہ شعر امید کی خاموش فتح ہے۔
شاعر مایوسی میں بھی روشنی رکھتا ہے۔
یہ غزل کا حوصلہ افزا پہلو ہے۔
وہ بدن کہ جیسے شفق گھلی، کسی نیلگوں سی رگوں میں ہو
مرے لمسِ فکر نے دیر تک، اسے روح بھر میں بسا لیا
مقطع میں شاعر جسم کو جمالیاتی پیکر بناتا ہے۔
شفق اور نیلگوں رگیں حسن کی تصویریں ہیں۔
لمسِ فکر جسم سے آگے جاتا ہے۔
یہ عشق جسمانی نہیں، روحانی ہے۔
یہاں خواہش تہذیب اختیار کر لیتی ہے۔
غزل فکری دائرہ مکمل کرتی ہے۔
یہ اختتام شاعر کے وقار کی دلیل ہے۔
اختتامی کلمات
یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کے اس شعری سفر کی ایک نہایت بالغ، معتبر اور فکری طور پر مستحکم منزل کی نمائندہ ہے جہاں جذبہ اظہار سے پہلے تہذیب اختیار کرتا ہے یہ کلام اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ شاعر محض غم کا راوی نہیں بلکہ غم کو شعور، وقار اور باطنی بصیرت میں ڈھالنے والا تخلیق کار ہے بطور شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی فراق کو نوحہ یا احتجاج نہیں بناتے بلکہ اسے تربیتِ ذات، استقامتِ دل اور تہذیبِ احساس کا وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ان کی غزل میں درد چیختا نہیں، خاموشی کے وقار میں ٹھہر جاتا ہے، اور یہی خاموشی معنی کی سب سے گہری صورت بن جاتی ہے یہ شاعری کلاسیکی روایت کی جڑوں سے وابستہ رہتے ہوئے جدید شعور کی روشنی بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے لفظ یہاں محض ادا نہیں ہوتے بلکہ ضبط، شعور اور فکری سلیقے سے گزر کر قاری کے دل تک پہنچتے ہیں یہ غزل اردو ادب کے لیے ایک بیش قیمت اور انمول اضافہ ہے جو جمالیات، فکری توازن اور روحانی گہرائی کو یکجا کرتا ہے سنجیدہ اور ذوقِ مطالعہ رکھنے والے قاری کے لیے یہ محض ایک غزل نہیں بلکہ ایک تدریجی، دیرپا اور روح میں اتر جانے والا تجربہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید روشن اور بامعنی ہوتا چلا جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment