Tamanna Aur Umeed

 

جہاں تمنّا سوال بنے، اور امید آخری پنجرے میں بھی سانس لیتی رہے



تبصرہ نگار

محمد عبداللہ فہیم رضوی قادری  - دوحہ، ریاستِ قطر

تمہید

یہ منتخب اشعار اردو غزل کی اس درخشاں روایت کا تسلسل ہیں جہاں تمنّا، تغافل، ستائش، شکستہ خواب اور امید کی آخری کرن ایک معنوی قوس میں بندھ جاتی ہیں۔ دوحہ کی تیز رفتار اور بے رحم زندگی میں بیٹھ کر جب دل ماضی کے آنگن میں جھانکتا ہے تو یہی اشعار ایک تازہ روحانی واردات بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہاں محبت سوال بن کر ابھرتی ہے، جواب بننے سے انکار کرتی ہے، اور پھر خاموشی کے پردوں میں جا کر اپنے ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ یہ پوری زنجیر انسانی تمنّا کی ارتقائی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔


جونؔ ایلیاء

ہماری   ہی  تمنا  کیوں  کرو  تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

یہ شعر عشق کی انا پر مبنی خودداری کو نہایت سادگی مگر غیرمعمولی شدت سے پیش کرتا ہے۔ جون کے ہاں تمنّا ایک طرفہ نہیں بلکہ برابری کی شرط پر قائم ہے۔ شاعر محبوب سے مطالبہ نہیں بلکہ سوال کرتا ہے کہ تم ہماری خواہش کیوں بنو اور ہم تمہاری تمنا کیوں کریں؟ اس میں شکست نہیں بلکہ وقار ہے۔ یہ کلام عاشق کی خود آگاہی کا اعلان ہے۔ یہ زنجیر کی پہلی کڑی ہے جہاں محبت خود احتسابی میں بدل جاتی ہے۔


فیضؔ احمد فیض

اک طرزِ تغافل ہے  سو  وہ  ان  کو  مبارک
اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فیض اس شعر میں عشق کو احتجاج میں بدل دیتے ہیں۔ محبوب کا تغافل بھی مبارک باد کا مستحق ہے کیونکہ عاشق کو اپنی عرضِ تمنا سے دستبردار ہونا گوارا نہیں۔ یہاں شکست کے باوجود تسلسل ہے۔ شاعر کی زبان میں نرمی ہے مگر جذبے میں فولاد۔ یہ شعر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ تمنّا کی راہ میں انکار بھی ایک نعمت بن جاتا ہے۔ یہ زنجیر کی دوسری کڑی ہے: انکسار کے ساتھ استقامت۔


جاویدؔ اختر

یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہ کہاں
لائے   ہیں   یہ  ارمان   ذرا   دیکھ   تو  لو

جاوید اختر عشق کو بے لوث جذبہ بنا دیتے ہیں۔ نہ تعریف کی طلب ہے، نہ صلے کی پرواہ۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ ارمان کسی سوداگری کے تحت نہیں لائے گئے، بلکہ خالص جذبے کی امانت ہیں۔ یہ شعر محبت کو خود سپردگی کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتا ہے۔ یہاں عاشق محاسبہ نہیں چاہتا بلکہ صرف نظرِ التفات کا طلب گار ہے۔ یہ زنجیر کی تیسری کڑی ہے: خلوص کی معراج۔


کیفیؔ اعظمی

اب وہ ارمان ہیں نہ وہ سپنے
سب    کبوتر    اُڑا     گیا     کوئی

یہ شعر ناکامی کا مرثیہ نہیں بلکہ زندگی کی ایک سفاک حقیقت ہے۔ کبوتر خوابوں کی علامت ہیں جو کسی انجانی طاقت نے اُڑا دیے۔ یہاں شاعر شکوہ نہیں کرتا، صرف منظر بیان کرتا ہے۔ یہ منظر اتنا سادہ ہے کہ دل پر ہتھوڑے کی طرح لگتا ہے۔ یہ زنجیر کی چوتھی کڑی ہے: خوابوں کی شکستہ پرواز۔


ذیشانؔ امیر سلیمی

وہ  جو  اُڑتا  تھا  تو    پیغام  بھی   لاتا   تھا   کبھی
اب نہ آئے، تو بھی اک پنجرہ کہیں کھلا رکھو

یہ شعر پوری زنجیر کو امید کی روشنی عطا کرتا ہے۔ شاعر جانتا ہے کہ وہ پیغام رساں کبوتر اب نہیں آتا، مگر پھر بھی پنجرہ کھلا رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ محض یاد کا نہیں بلکہ امکان کا اعلان ہے۔ یہاں نااُمیدی کے بعد امید کا در کھلتا ہے۔ یہ اردو غزل کی اس عظیم روایت کا تسلسل ہے جہاں آخری سانس تک دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ یہ زنجیر کی آخری کڑی ہے: انتظار کی بقا


اختتامیہ

یہ تمام اشعار تمنّا کے سوال سے شروع ہو کر امید کے پنجرے پر ختم ہوتے ہیں۔ دوحہ میں مقیم اس پاکستانی تبصرہ نگار کے نزدیک یہ زنجیر اردو غزل کی روح ہے  جہاں شکست کے بعد بھی دعا باقی رہتی ہے، اور کبوتر کے نہ لوٹنے کے باوجود دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ یہی عشق کی اصل فتح ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi