Urdu Zaban Aur Nisab e Taleem Mein Iska Kardar
اردو زبان اور نصابِ تعلیم میں اس کا کردار
تحریر: ڈاکٹر سحر فاطمہ، لاہور، پاکستان
تمہید
اردو زبان ہماری قومی شناخت اور تہذیبی ورثے کی امین ہے۔ یہ زبان نہ صرف جذبات اور احساسات کو بیان کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ تعلیم اور نصاب میں بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ نصابِ تعلیم میں اردو کا کردار اس لیے اہم ہے کہ یہ زبان عوامی سطح پر سب سے زیادہ سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ جب علم کو اسی زبان میں پیش کیا جائے جو عوام کی زبان ہو، تو اس کے اثرات زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
اردو زبان بطور ذریعہ تعلیم
اردو زبان کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی اور روانی ہے۔ نصابِ تعلیم میں اردو کو شامل کرنے سے طلبہ آسانی سے علم کو سمجھتے اور جذب کرتے ہیں۔ مشکل موضوعات بھی جب اردو میں بیان کیے جاتے ہیں تو وہ عام فہم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بحث ہمیشہ سے جاری رہی ہے اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔
علمی ذخیرہ اور اردو کی وسعت
اردو زبان نے نثر اور شاعری دونوں میں علم کا خزانہ محفوظ کیا ہے۔ فلسفہ، تاریخ، سائنس اور سماجی علوم پر بے شمار کتابیں اردو میں لکھی گئیں جنہوں نے عام قاری کو علم تک رسائی دی۔ نصابِ تعلیم میں اردو کا استعمال اس علمی ذخیرے کو مزید وسعت دیتا ہے اور نئی نسل کو اپنی زبان میں علم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اردو زبان اور قومی یکجہتی
اردو زبان نے پاکستان میں مختلف لسانی اور علاقائی گروہوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ یہ زبان قومی یکجہتی کی علامت ہے کیونکہ یہ سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔ نصابِ تعلیم میں اردو کا استعمال نہ صرف علم کو عام کرتا ہے بلکہ قومی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ جب بچے ایک ہی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو ان کے درمیان فکری اور جذباتی ربط پیدا ہوتا ہے۔
اردو زبان اور جدید دور کے تقاضے
جدید دور میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اردو کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ زبان وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کر رہی ہے۔ نصابِ تعلیم میں اردو کو مزید فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی علم اور تحقیق کی زبان بن سکتی ہے۔ آن لائن لرننگ، ای-بکس اور ڈیجیٹل کلاس رومز میں اردو کا استعمال نئی نسل کو اپنی زبان میں جدید علم سے روشناس کراتا ہے۔
اردو زبان اور طلبہ کی شخصیت سازی
اردو زبان نصابِ تعلیم میں طلبہ کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ زبان ادب، اخلاقیات اور تہذیب کو فروغ دیتی ہے۔ نصاب میں اردو ادب کو شامل کرنے سے طلبہ نہ صرف علم حاصل کرتے ہیں بلکہ اپنی ثقافت اور اقدار سے بھی جڑتے ہیں۔ اردو زبان انہیں یہ سکھاتی ہے کہ تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی اور تہذیبی شعور کا بھی حصہ ہے۔
نتیجہ
اردو زبان اور نصابِ تعلیم کا تعلق ایک ایسا تعلق ہے جو معاشرتی ترقی اور فکری بلندی کی ضمانت ہے۔ یہ زبان نہ صرف ہماری تہذیبی شناخت ہے بلکہ علم کو عام کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ اردو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تعلیم اور زبان کا تعلق ہمیشہ مضبوط ہونا چاہیے تاکہ قومیں ترقی کی راہ پر گامزن رہیں۔ نصابِ تعلیم میں اردو کا فروغ ہماری آنے والی نسلوں کو نہ صرف علم بلکہ اپنی تہذیب اور شناخت سے بھی جوڑے رکھے گا۔

Comments
Post a Comment