Wafa Zinda hai
قربت کی حدّت میں وفا کی آخری دھڑکن
: تبصرہ نگار
نوشین زہرہ صدیقی - جدہ، مملکتِ سعودی عرب
تمہید
یہ منتخب اشعار عشق کے اس نازک مرحلے کی داستان ہیں جہاں حسن کا لمس عبادت بن جاتا ہے، اور قربت خود ایک امتحان میں ڈھل جاتی ہے۔ جدہ کی ساحلی تنہائیوں میں مقیم اس پاکستانی شاعرہ کا کلاسیکی شعور ان اشعار میں ایک معنوی زنجیر تشکیل دیتا ہے، جس کی ہر کڑی محبت کی نزاکت، دل کی دہشت، اور وفا کی آخری رمق کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہاں محبوب نہ صرف سامنے ہے بلکہ دل کے اندر بھی موجود ہے، مگر پھر بھی مکالمہ لرزتے ہوئے ہونٹوں پر آ کر رک جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اردو کی کلاسیکی روایت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
بشیر بدرؔ
یہ شعر حسن کی تقدیس کو انتہائے لطافت تک پہنچا دیتا ہے۔ محبوب کو سراپا گلابوں کا شجر کہنا اس کی جسمانی خوب صورتی نہیں بلکہ اس کے وجود کی مہک کا اعتراف ہے۔ مگر اسی حسن کی فراوانی شاعر کے لیے دہشت بن جاتی ہے، حتیٰ کہ باوضو ہونے کے باوجود لمس سے ڈر محسوس ہوتا ہے۔ یہاں حسن، عبادت اور خوف ایک ہی سانس میں سمٹ آتے ہیں۔ یہ خوف دراصل گناہ کا نہیں، تقدس کے ٹوٹ جانے کا ہے۔ یوں یہ شعر عشق کو طہارت کے دائرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ زنجیر کی پہلی کڑی ہے: حسن کا تقدس۔
اشرف یوسفیؔ
یہاں شاعر قربت کو محض جسمانی تجربہ نہیں بلکہ حقیقت کی پرکھ قرار دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محبوب آئینہ بھی ہو سکتا ہے اور پتھر بھی، مگر اب فیصلہ لمس ہی کرے گا۔ اس شعر میں جراتِ عشق نمایاں ہے جو شک کی گرد کو جھاڑ کر حقیقت کی تہہ تک پہنچنا چاہتی ہے۔ شاعر کی روح اب محض دیکھنے پر قانع نہیں بلکہ چھو کر یقین کرنا چاہتی ہے۔ یہ کیفیت عشق کے اس مرحلے کی ہے جہاں خام خیالی دم توڑ دیتی ہے۔ یہ زنجیر کی دوسری کڑی ہے: شک سے یقین تک کا سفر۔
فراقؔ گورکھپوری
یہ شعر قربت کی وہ حیرت بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی موجودگی بھی فاصلہ بن جاتی ہے۔ شاعر کے سامنے محبوب ہے، مگر فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اسے دیکھے یا اس سے بات کرے۔ یہ تذبذب دراصل عشق کی تہذیب کا استعارہ ہے، جہاں بے تکلفی بھی ادب کے حصار میں بندھی رہتی ہے۔ یہاں قربت اضطراب بن جاتی ہے اور گفتگو خود ایک امتحان۔ یہ شعر عشق کے لطیف حجاب کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ زنجیر کی تیسری کڑی ہے: قرب میں بھی فاصلے کا احساس۔
زاہدہؔ ندیم حنا
یہ شعر رشتے کے زوال کی انتہائی دردناک تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعرہ کے نزدیک اب وفا اور جفا دونوں بے معنی ہو چکے ہیں کیونکہ درمیان کا رشتہ ہی ٹوٹ چکا ہے۔ یہاں شکوہ نہیں، صرف ایک خاموش اعتراف ہے کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ یہ خاموشی شور سے زیادہ مہیب ہے۔ عشق کی پوری داستان ایک مصرع میں سمٹ آتی ہے۔ یہ زنجیر کی چوتھی کڑی ہے: تعلق کا انہدام۔
ذیشانؔ امیر سلیمی
یہ شعر پوری زنجیر کو امید کی روشنی عطا کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے، مگر کہیں نہ کہیں ایک نام کی دھڑکن ابھی باقی ہے۔ یہی دھڑکن وفا کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہاں عشق مر نہیں جاتا بلکہ یاد کی صورت میں سانس لیتا رہتا ہے۔ یہ شعر اردو روایت کے اس ابدی تصور کو تازہ کرتا ہے کہ محبت کبھی مکمل فنا نہیں ہوتی۔ یہ زنجیر کی آخری کڑی ہے: بقا کی امید۔
اختتامیہ
یوں یہ اشعار حسن کے تقدس سے شروع ہو کر شک، تذبذب، انقطاع اور پھر امید پر منتج ہوتے ہیں۔ جدہ میں مقیم اس پاکستانی تبصرہ نگار کی نظر میں یہ کلام اردو کی اس کلاسیکی روایت کا امین ہے جہاں عشق صرف واردات نہیں بلکہ تہذیب، عبادت اور بقا کا استعارہ بن جاتا ہے۔

Comments
Post a Comment