Zakhm-e-Hunar Zeeshan Ameer Saleemi Ghazal
زخمِ ہنر سے سائے تک: ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل میں خود شناسی کا بیانیہ
غزل
ہم اپنے زخمِ ہنر کے خسارے پہ ٹھہرے رہے
یہ سفر نقدِ رواں تھا، ہم ادھارے پہ ٹھہرے رہے
ترے خد و خال کے شہر میں جانا جو تھا مگر
ہم دردِ راہ کے بیچ اشارے پہ ٹھہرے رہے
وہ ہجر کی شام اتر کے ٹھہر سی گئی دل میں
ہم رنجِ شب کی اوٹ نظارے پہ ٹھہرے رہے
سرِ موج پہ تھی کشتی یہ شکست یقینی تھی
ہم اپنی نظریں جھکائے کنارے پہ ٹھہرے رہے
نہ فروغِ سحر نے پکارا، نہ شب نے صدا ہی دی
ہم اپنی آنکھ کے ٹوٹے ستارے پہ ٹھہرے رہے
کھلا تھا بابِ امکان، مگر جرأت نہ ہوئی
ہم ذات کے ہی بوسیدہ چارے پہ ٹھہرے رہے
ہوا کے رخ پر بھی ہم نے نہ کوئی بھروسا کیا
ہم خوف کے ہی کمزور غبارے پہ ٹھہرے رہے
ذیشانؔ ہمیں بھی راس نہ آئی نگہ داری
ہم اپنے ہی سائے کے سہارے پہ ٹھہرے رہے
ذیشانؔ امیر سلیمی
تبصرہ نگار
حارث محمود
(نقاد و تبصرہ نگار، مقیم نیویارک، امریکا)
تمہیدی نوٹ
ذیشانؔ امیر سلیمی شاعرِ ہجر اور عہدِ حاضر کے ایک منفرد، سنجیدہ اور باوقار تخلیق کار کی یہ غزل داخلی کرب، فکری احتساب اور شعوری توقف کی ایک نہایت گہری شعری دستاویز ہے یہ کلام اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ شاعر نے غم کو محض احساس نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری تجربے، اخلاقی ضبط اور تخلیقی وقار میں ڈھال دیا ہے اس غزل میں سفر، ٹھہراؤ، خوف، امکان اور خود سے مکالمہ سب عناصر اس طرح باہم مربوط ہیں کہ قاری خود کو محض سامع نہیں بلکہ شریکِ تجربہ محسوس کرتا ہے یہ غزل جدید اردو غزل میں داخلی سچائی، کلاسیکی رکھ رکھاؤ اور فکری گہرائی کی ایک توانا مثال ہے۔
ہم اپنے زخمِ ہنر کے خسارے پہ ٹھہرے رہے
یہ سفر نقدِ رواں تھا، ہم ادھارے پہ ٹھہرے رہے
اس شعر میں شاعر نے ہنر اور زندگی کے باہمی تصادم کو نہایت سادگی اور گہرائی سے پیش کیا ہے زخمِ ہنر دراصل وہ قیمت ہے جو تخلیق کار اپنی سچائی کے عوض ادا کرتا ہے نقدِ رواں کا استعارہ زندگی کے واضح امکانات کی طرف اشارہ کرتا ہے، جنہیں شاعر نے دانستہ قبول نہیں کیا ادھارے پہ ٹھہرنا فکری تذبذب نہیں بلکہ اخلاقی احتیاط کا اظہار ہے یہ شعر تخلیقی دیانت اور داخلی خوف کے درمیان معلق ایک شعوری کیفیت کو ظاہر کرتا ہے ذیشانؔ یہاں شکست نہیں بلکہ انتخاب کی بات کرتے ہیں۔
ترے خد و خال کے شہر میں جانا جو تھا مگر
ہم دردِ راہ کے بیچ اشارے پہ ٹھہرے رہے
یہاں محبوب کا شہر ایک جمالیاتی اور روحانی منزل بن جاتا ہے شاعر کا وہاں نہ پہنچ پانا کم ہمتی نہیں بلکہ درد کی بالادستی کی علامت ہے اشارے پر ٹھہرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر مکمل یقین کے بغیر قدم نہیں اٹھاتا یہ شعر داخلی احتساب اور خود پر عائد اخلاقی قدغن کا آئینہ دار ہے ذیشانؔ کے ہاں عشق اندھا نہیں بلکہ باخبر اور ذمہ دار ہے۔
وہ ہجر کی شام اتر کے ٹھہر سی گئی دل میں
ہم رنجِ شب کی اوٹ نظارے پہ ٹھہرے رہے
یہ شعر ہجر کو لمحاتی نہیں بلکہ مستقل کیفیت بنا دیتا ہے شام کا دل میں اترنا داخلی تاریکی کا استعارہ ہے رنجِ شب کی اوٹ میں نظارہ کرنا شاعر کی جمالیاتی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے غم یہاں شور نہیں بلکہ نظر کی تربیت بن جاتا ہے۔
یہ شعر ثابت کرتا ہے کہ ذیشانؔ دکھ کو بھی حسن میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
سرِ موج پہ تھی کشتی یہ شکست یقینی تھی
ہم اپنی نظریں جھکائے کنارے پہ ٹھہرے رہے
یہ شعر شعوری پسپائی کا اعلان ہے، خوف کا نہیں کشتی کا سرِ موج ہونا خطرے کی علامت ہے، مگر شاعر کا کنارہ اختیار کرنا بصیرت کی دلیل ہے نظریں جھکانا کمزوری نہیں بلکہ حقیقت شناسی ہے یہاں شکست کا اعتراف بھی وقار کے ساتھ کیا گیا ہے ذیشانؔ کے ہاں ہار بھی تہذیب کے دائرے میں رہتی ہے۔
نہ فروغِ سحر نے پکارا، نہ شب نے صدا ہی دی
ہم اپنی آنکھ کے ٹوٹے ستارے پہ ٹھہرے رہے
یہ شعر امید اور مایوسی کے بیچ معلق ایک نازک لمحہ ہے سحر اور شب دونوں کا خاموش رہنا کائناتی بے رخی کا استعارہ ہے۔ٹوٹا ہوا ستارہ شاعر کی ذاتی امید ہے جو پھر بھی ترک نہیں ہوتی یہ شعر وفاداریِ احساس کی ایک بلند مثال ہے۔
کھلا تھا بابِ امکان، مگر جرأت نہ ہوئی
ہم ذات کے ہی بوسیدہ چارے پہ ٹھہرے رہے
یہ شعر خود احتسابی کی اعلیٰ صورت ہے شاعر امکانات سے انکار نہیں کرتا بلکہ اپنی جرأت کی کمی کا اعتراف کرتا ہے بوسیدہ چارہ ذات کے پرانے دفاعی طریقوں کی علامت ہے یہ سچائی ذیشانؔ کو ایک بڑا شاعر ثابت کرتی ہے۔
ہوا کے رخ پر بھی ہم نے نہ کوئی بھروسا کیا
ہم خوف کے ہی کمزور غبارے پہ ٹھہرے رہے
یہ شعر انسانی عدمِ تحفظ کی نہایت بلیغ تصویر ہے غبارہ عارضی سہارے کی علامت ہے، جس پر شاعر خود بھی مطمئن نہیں ہوا پر بھروسا نہ کرنا داخلی بے یقینی کو ظاہر کرتا ہے یہ شعر عصری انسان کے نفسیاتی المیے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ذیشانؔ ہمیں بھی راس نہ آئی نگہ داری
ہم اپنے ہی سائے کے سہارے پہ ٹھہرے رہے
مقطع میں شاعر خود سے مکالمہ کرتا ہے سائے کا سہارا خود انحصاری اور تنہائی دونوں کا استعارہ ہے یہ شعر خود کلامی کے ذریعے غزل کو فکری انجام تک پہنچاتا ہے ذیشانؔ یہاں اپنے نام کو اعتراف کا حوالہ بنا دیتے ہیں، فخر کا نہیں۔
اختتامی نوٹ
یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کے شعری سفر کی ایک نہایت بالغ، سنجیدہ اور باوقار منزل کی نشان دہی کرتی ہے یہ کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر نے غم کو نوحہ نہیں بلکہ فکری تربیت بنایا ہے ذیشانؔ کا کمال یہ ہے کہ وہ ٹھہراؤ کو کمزوری نہیں بلکہ شعور کی علامت بناتے ہیں یہ غزل ہمیں بتاتی ہے کہ ہر سفر منزل پر ختم نہیں ہوتا، بعض سفر انسان کو خود سے روشناس کراتے ہیں
یہ شاعری شورِ زمانہ میں سکوت کی قدر سکھاتی ہے ذیشانؔ امیر سلیمی اردو غزل میں اس روایت کے امین ہیں جہاں لفظ ذمہ داری، احساس وقار اور فکر عبادت بن جاتی ہے یہ غزل اردو ادب کے لیے ایک سنجیدہ، معتبر اور دیرپا اضافہ ہے سنجیدہ قاری کے لیے یہ محض مطالعہ نہیں بلکہ خود شناسی کا ایک خاموش مگر گہرا تجربہ ہے جو پڑھ کر ختم نہیں ہوتا، بلکہ دیر تک ساتھ چلتا ہے۔

Comments
Post a Comment