Zeeshan Ameer Saleemi Jadid Classical Gazal

 

مٹی، حرارت اور ثبات: ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا فکری تجزیہ


غزل

تری نظروں کی حرارت سے سنورتا ہوا میں
اپنی   مٹی   سے    نکھرتا،  نہ   بکھرتا   ہوا   میں
نہ میں شعلہ کہ ہوا  سے  ہی بکھر  جاؤں کہیں
تری مٹی  کا  ہوں   ذرّہ، یوں  ٹھہرتا  ہوا  میں
نہ زمانے نے مرے نام  پہ  دستک  دی کبھی
تری نسبت میں رہا ہوں، سو ابھرتا ہوا میں
نہ  کسی   نام   کی   خواہش،   نہ   صلے   کی   پروا
درد  آیا  تو  بھی بس خود  میں سنورتا  ہوا میں
میں نے مٹی کی طرح اوڑھ لی سب بے طلبی
سب نے سمجھا کہ بکھر جاؤں گا، جڑتا ہوا میں
نہ  میں  آئینہ کہ  ہر عکس  پہ رک  جاتا  ہوں
ایک تعبیر ہوں، خود میں ہی اترتا ہوا میں
میرے ہونے کی دلیلیں نہ سوالوں میں ملیں
خامشی  میں  ہوں مکمل، سو  ٹھہرتا  ہوا  میں
نہ خزاں مجھ سے مرے رنگ چرا  پائی کبھی
وقت کے  ہاتھ  میں آ کر بھی نکھرتا ہوا میں
کسی     ہنگامۂ     باطن     کا      پتہ    بھی    نہ   چلا
ایک  خاموش  توازن   میں  گزرتا  ہوا   میں

ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار

ڈاکٹر محمد سلمان قادری
(پاکستانی ادیب، محقق و نقاد مقیم: کویت)

تری نظروں کی حرارت سے سنورتا ہوا میں
اپنی  مٹی   سے   نکھرتا،  نہ   بکھرتا    ہوا   میں

یہ شعر محبوب کی نظر کو تخلیقی قوت قرار دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ کسی خارجی سہارے سے نہیں بلکہ اپنی مٹی، اپنی اصل سے نکھر رہا ہے۔ “نہ بکھرتا ہوا میں” میں ضبط اور خودی کا اعلان ہے۔ یہ عشق کی وہ سطح ہے جہاں وابستگی شخصیت کو توڑتی نہیں بلکہ سنوارتی ہے۔ کلاسیکی شعری روایت میں یہ رویہ عشق کی بالیدگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

نہ میں شعلہ کہ ہوا سے ہی بکھر جاؤں کہیں
تری مٹی کا  ہوں  ذرّہ،  یوں ٹھہرتا  ہوا میں

یہاں شاعر اپنی سرشت کو شعلے کے مقابل رکھ کر واضح کرتا ہے۔ شعلہ تیزی اور فنا کی علامت ہے، جب کہ ذرّہ ثبات اور دوام کا استعارہ۔ محبوب کی مٹی سے نسبت شاعر کو ٹھہراؤ عطا کرتی ہے۔ یہ شعر ہجر کے باوجود استقامت اور وابستگی کی اعلیٰ مثال ہے۔ کلاسیکی انداز میں یہ “ثبات فی العشق” کی نمائندگی کرتا ہے۔

نہ  زمانے  نے مرے نام  پہ  دستک دی کبھی
تری نسبت میں رہا ہوں، سو ابھرتا ہوا میں

یہ شعر دنیاوی شناخت کی نفی اور روحانی نسبت کی اثبات کا بیان ہے۔ شاعر کو زمانے نے نہیں پہچانا، مگر محبوب سے نسبت نے اسے باطن میں بلند کیا۔ یہاں “ابھرتا ہوا میں” ظاہری شہرت نہیں بلکہ داخلی ارتقا کی علامت ہے۔ یہ صوفیانہ فکر کی جھلک ہے جہاں اصل عروج اندر سے پھوٹتا ہے۔

نہ  کسی  نام  کی  خواہش،  نہ   صلے  کی   پروا
درد آیا تو بھی بس خود میں سنورتا ہوا میں

یہ شعر عشق کی بے غرضی کا اعلان ہے۔ شاعر نہ نام چاہتا ہے نہ صلہ، بلکہ درد کو بھی خودسازی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ یہ رویہ عشق کو کاروبار نہیں بلکہ ریاضت بنا دیتا ہے۔ کلاسیکی اردو غزل میں یہی خلوصِ نیت عشق کو رفعت عطا کرتا ہے۔

میں نے مٹی کی طرح اوڑھ لی سب بے طلبی
سب نے سمجھا کہ بکھر جاؤں گا، جڑتا ہوا میں

یہ شعر نہایت گہری علامتی معنویت رکھتا ہے۔ مٹی بے طلبی اور انکسار کی علامت ہے۔ شاعر نے دنیا کی خواہشات کو اوڑھ کر خود کو محفوظ کر لیا۔ لوگوں نے بکھرنے کا گمان کیا، مگر وہ مزید جڑ گیا۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ فنا کے راستے سے ہی بقا جنم لیتی ہے۔

نہ  میں  آئینہ کہ  ہر عکس  پہ  رک  جاتا ہوں
ایک تعبیر ہوں، خود میں ہی اترتا ہوا میں

یہاں شاعر اپنی ذات کو محض انعکاس کے بجائے تعبیر قرار دیتا ہے۔ وہ دوسروں کے عکس میں الجھنے کے بجائے خود اپنی معنویت میں اترتا ہے۔ یہ شعر خود آگاہی اور فکری استقلال کی علامت ہے۔ کلاسیکی فکر میں یہی خودی انسان کو معتبر بناتی ہے۔

میرے ہونے کی دلیلیں نہ سوالوں میں ملیں
خامشی  میں  ہوں مکمل، سو  ٹھہرتا  ہوا  میں

یہ شعر خاموشی کی معنویت کو بلند کرتا ہے۔ شاعر کے وجود کی دلیل سوال و جواب میں نہیں بلکہ سکوت میں پوشیدہ ہے۔ “خامشی میں مکمل” ہونا روحانی کمال کی علامت ہے۔ یہ شعر شور زدہ دنیا کے مقابل باطنی توازن کا اعلان ہے۔

نہ خزاں مجھ سے مرے رنگ چرا پائی کبھی
وقت کے ہاتھ میں آ کر بھی نکھرتا ہوا میں

یہ شعر وقت اور حالات کے جبر کے مقابل داخلی استقامت کی تصویر ہے۔ خزاں زوال کی علامت ہے، مگر شاعر کے رنگ محفوظ رہتے ہیں۔ وقت کے ہاتھ میں آ کر بھی نکھرنا فکری بالیدگی اور روحانی قوت کی دلیل ہے۔ یہ شعر امید اور حوصلے کی کلاسیکی مثال ہے۔

کسی   ہنگامۂ   باطن   کا   پتہ   بھی   نہ   چلا
ایک خاموش توازن میں گزرتا ہوا میں

یہ شعر غزل کا فکری خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔ شاعر کے اندر طوفان ہیں مگر ظاہر میں توازن ہے۔ یہ ضبط، تہذیب اور وقار کی انتہا ہے۔ کلاسیکی اردو شاعری میں یہی خاموش توازن بڑے شعرا کی پہچان رہا ہے۔

مجموعی تبصرہ

یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کے اس شعری مزاج کی بھرپور نمائندہ ہے جس میں ہجر شکوہ نہیں بنتا بلکہ شعور میں ڈھل جاتا ہے۔ ان کا کلام چیختا نہیں، ٹھہرتا ہے؛ بکھرتا نہیں، نکھرتا ہے۔ ہر شعر اپنی جگہ ایک فکری اکائی ہے جس میں کلاسیکی غزل کی روایت، صوفیانہ وقار اور جدید انسان کی داخلی کشمکش نہایت توازن کے ساتھ موجود ہے  ذیشانؔ امیر سلیمی بجا طور پر شاعرِ ہجر ہیں، مگر ان کا ہجر مایوسی نہیں بلکہ ایک باوقار، سنجیدہ اور روشن داخلی سفر ہے۔ یہ غزل اردو ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے یقیناً ایک یادگار اور معتبر تخلیق ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi