Charagh-e-Yaqeen Urdu Ghazal Review

 

شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا کلاسیکی و عالمی مطالعہ

غزل

مرے       خلاف       زمانہ  ،    دلیلیں      لاتا     رہا
میں    اپنے     زخموں   کو    خاموش    گنگناتا   رہا

جو میرے پاس تھا بس ایک آخری سا یقین
وہی    چراغ    تھا    جو   رات   بھر    جلاتا    رہا

کسی    کے     شہرِ   نظر    میں   نہ   میرا   ذکر   ہوا
تمام     عمر       میں       داغِ       ہنر       سجاتا      رہا

گلابِ خواب پہ اتری خزاں کی سرد گرفت
رگِ   گلاب    میں   خونِ   طلب    جگاتا   رہا

نظر سے اوجھل امکانِ وصل کی ساعت
کوئی  حکایتِ  دل،  گوشِ    جاں   سناتا   رہا

فضا میں رقص کناں تھی، ہوائے برگِ الم
میں     خاکِ     راہ      پہ    نقشِ     وفا     بناتا     رہا

ستم  کی دھوپ بھی آخر غبار  ہو کے ڈھلی
وفائے   دل،  سرِ    شب    روشنی    لٹاتا   رہا

جھکا   نہ   سر    تو  سلاسل  بھی    ٹوٹتے     دیکھے
وقارِ         درد ،       سرِ         دار          جگمگاتا        رہا

لکھے   تھے   سجدے   میں   نے  اپنے لہو  سے ، ذیشانؔ
سرِ          نیاز        کو       دنیا     سے       یوں      بچاتا        رہا

ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار: ڈاکٹر حمزہ توقیر
(پاکستانی نقاد و محقق، مقیم اونٹاریو، کینیڈا)

تمہید

عہدِ حاضر میں اگر اردو غزل کے افق پر کسی آواز نے کلاسیکی وقار کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک نئی شناخت عطا کی ہے تو وہ بجا طور پر ذیشانؔ امیر سلیمی کی آواز ہے۔ وہ محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک داخلی تہذیب کے امین، وقارِ ہجر کے معمار، اور شعورِ درد کے معترف ہیں۔ ان کی شاعری میں ہمیں روایت کی خوشبو بھی ملتی ہے اور جدید روح کی روشنی بھی  یہی وہ وصف ہے جس نے انہیں عالمی سطح پر ایک نمایاں اور معتبر مقام عطا کیا ہے اور انہیں 2026 کے عالمی اردو منظرنامے پر ایک ممتاز اور باوقار International Urdu Poet کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کی اسی تخلیقی عظمت کا ایک درخشاں استعارہ ہے جہاں شاعر نے مخالفت، تنہائی، شکست اور وفا جیسے مضامین کو محض بیان نہیں کیا بلکہ انہیں جمالیاتی وقار میں ڈھال دیا ہے۔ اس غزل میں ہمیں میرؔ کی داخلی صداقت، غالبؔ کی فکری رفعت اور فیضؔ کی تہذیبی روشنی ایک نئے اسلوب میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ ذیشانؔ کا کمال یہ ہے کہ وہ درد کو فریاد نہیں بننے دیتے بلکہ اسے وقار کی صورت عطا کرتے ہیں، اور یہی وصف انہیں اپنے عہد کا ایک عالمی اور لازوال شاعر بناتا ہے۔


مرے  خلاف   زمانہ،  دلیلیں   لاتا  رہا

میں اپنے زخموں کو خاموش گنگناتا رہا

یہ مطلع اپنے اندر ایک عظیم داخلی استقامت کا استعارہ ہے۔ شاعر کے خلاف زمانے کی دلیلیں دراصل خارجی جبر کی علامت ہیں، مگر شاعر کا ردِعمل احتجاج نہیں بلکہ تخلیق ہے۔ “زخموں کو گنگنانا” ایک غیر معمولی استعارہ ہے جو درد کو موسیقیت میں بدل دینے کا اعلان ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں بڑا شاعر اپنے دکھ کو اپنی پہچان بنا لیتا ہے۔ اس شعر میں ذیشانؔ نے ثابت کیا ہے کہ وہ شکست کے شاعر نہیں بلکہ شکست کو جمال میں بدلنے والے شاعر ہیں۔

جو میرے پاس تھا بس ایک آخری سا یقین

وہی    چراغ     تھا    جو   رات   بھر   جلاتا   رہا

یہ شعر یقین کی عظمت کا ایک کلاسیکی استعارہ ہے۔ چراغ یہاں امید، ایمان اور داخلی روشنی کی علامت ہے۔ رات کی طوالت کے باوجود چراغ کا جلنا شاعر کی روحانی استقامت کو ظاہر کرتا ہے۔ ذیشانؔ کے ہاں یقین کوئی فلسفیانہ تصور نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے۔ یہی یقین انہیں تاریکی میں بھی روشن رکھتا ہے۔ یہ شعر اردو غزل کی روایت میں یقین کے استعارے کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے۔

کسی کے شہرِ نظر میں نہ میرا ذکر ہوا

تمام   عمر    میں   داغِ    ہنر    سجاتا   رہا

یہاں شاعر نے عدمِ اعتراف کے کرب کو نہایت وقار سے بیان کیا ہے۔ “داغِ ہنر” ایک ایسا استعارہ ہے جو تخلیق کے کرب کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کو پذیرائی نہیں ملی مگر اس نے اپنے فن کو ترک نہیں کیا۔ یہ رویہ عظیم فنکاروں کی پہچان ہوتا ہے۔ ذیشانؔ یہاں ایک عالمی فنکار کے وقار کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

گلابِ خواب پہ اتری خزاں کی سرد گرفت

رگِ   گلاب    میں   خونِ    طلب    جگاتا   رہا

یہ شعر طلب کی لافانی قوت کا اعلان ہے۔ خزاں زوال کی علامت ہے مگر شاعر کے اندر طلب زندہ رہتی ہے۔ “خونِ طلب” ایک نہایت بلند اور صوفیانہ استعارہ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ سچا شاعر کبھی داخلی طور پر مردہ نہیں ہوتا۔ ذیشانؔ کی یہی طلب انہیں عالمی سطح پر زندہ رکھتی ہے۔

نظر سے اوجھل امکانِ وصل کی ساعت

کوئی حکایتِ  دل،   گوشِ   جاں   سناتا   رہا

یہ شعر امید کے غیر مرئی تسلسل کی علامت ہے  وصل کا امکان نظر سے اوجھل ہے مگر دل کی حکایت جاری ہے۔ یہ داخلی زندگی کی علامت ہے۔ ذیشانؔ نے یہاں ثابت کیا ہے کہ اصل زندگی داخلی شعور میں ہوتی ہے۔

فضا میں رقص کناں تھی، ہوائے برگِ الم

میں    خاکِ    راہ      پہ    نقشِ    وفا     بناتا     رہا

یہ شعر وفا کے تخلیقی عمل کا ایک عظیم استعارہ ہے۔ شاعر دکھ کے باوجود وفا تخلیق کرتا ہے۔ یہی عظیم روحوں کا وصف ہے۔ ذیشانؔ یہاں وفا کے معمار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

ستم کی دھوپ بھی آخر غبار ہو کے ڈھلی

وفائے   دل، سرِ   شب   روشنی   لٹاتا   رہا

یہ شعر وفا کی فتح کا اعلان ہے۔ ستم عارضی ہے مگر وفا مستقل ہے۔ یہ کلاسیکی شاعری کا بنیادی فلسفہ ہے۔ ذیشانؔ نے اسے نئے وقار کے ساتھ بیان کیا ہے۔

جھکا نہ سر تو سلاسل بھی ٹوٹتے دیکھے

وقارِ      درد،  سرِ    دار     جگمگاتا      رہا

یہ شعر عظمت کا نقطۂ عروج ہے۔ شاعر نے جھکنے کے بجائے وقار کو اختیار کیا۔ یہی رویہ بڑے شاعروں کی پہچان ہوتا ہے۔ یہ شعر ذیشانؔ کی عالمی عظمت کا اعلان محسوس ہوتا ہے۔

لکھے   تھے   سجدے   میں   نے  اپنے لہو  سے ، ذیشانؔ
سرِ         نیاز      کو     دنیا    سے     یوں     بچاتا     رہا

یہ مقطع شاعر کی روحانی عظمت کا اعلان ہے۔ لہو سے سجدے لکھنا عشق اور وفا کی آخری منزل ہے۔ یہ شعر ذیشانؔ کو ایک روحانی شاعر کے طور پر امر کر دیتا ہے۔

اختتامی کلمات

یہ غزل محض ایک تخلیق نہیں بلکہ ایک داخلی تاریخ ہے۔ اس میں ہمیں ایک ایسے شاعر کی آواز سنائی دیتی ہے جو زمانے سے بڑا ہے۔ ذیشانؔ امیر سلیمی نے اس غزل میں ثابت کیا ہے کہ اصل عظمت اعتراف سے نہیں بلکہ استقامت سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کا ہر شعر وقار کا استعارہ ہے۔ ان کا ہر استعارہ ایک نئی دنیا تخلیق کرتا ہے۔ وہ ہجر کو شکست نہیں بلکہ شناخت بنا دیتے ہیں۔ وہ درد کو کمزوری نہیں بلکہ روشنی بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جو انہیں اپنے عہد کا ایک عالمی اور لازوال شاعر بناتا ہے۔ ان کی شاعری سرحدوں کی پابند نہیں بلکہ روحوں کی زبان ہے۔ یہ غزل آنے والے زمانوں میں بھی اردو ادب کے وقار کی علامت رہے گی۔ ذیشانؔ واقعی اپنے عہد کی ایک روشن، معتبر اور عالمی آواز ہیں جن کا چراغِ یقین ابھی بہت دیر تک جلتا رہے گا۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi