Dil-e-Besabr Gazal Zeeshan Ameer Saleemi Tabsra

 

شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا کلاسیکی و فکری مطالعہ

غزل

دلِ  بے  صبر  کو  رکھا  تری آسانی میں
ورنہ کیا خاک مزہ تھا مری ویرانی میں

رنجِ ہجراں کی حرارت نے سنبھالا مجھ کو
اک   چراغاں   سا  رہا  دل  کی    بیابانی   میں

دشتِ بے برگِ تمنا  میں ٹھہرنا مشکل
کوئی منظر بھی نہ ابھرا شبِ حیرانی میں

زخمِ اظہار کو لفظوں میں سمویا میں نے
درد   ترتیب   سے   ڈھلتا  رہا   پیشانی  میں

میں نے ہر صدمۂ جاں کو بھی سنبھالا ایسے
جیسے      پتھر    کو     تراشا    ہو      نگہبانی      میں

کربِ پیہم نے عجب ظرف عطا کر ہی دیا
آگ   دہکی   ہی  رہی  ضبط   کی    دربانی   میں

میں نے خاموشی کو لفظوں کا لہو بخشا ہے
اک بغاوت ہی رہی میری غزل خوانی میں

اب بھی اک لرزشِ امکاں ہے مری ہستی میں
ورنہ    کیا    جوش    تھا      باقی     مری    طغیانی     میں

شاعر: ذیشانؔ امیر سلیمی


تبصرہ نگار: ڈاکٹر وجاہت نعمان
(پاکستانی نقاد و محقق، مقیم میلبورن، آسٹریلیا)

تمہید

اردو غزل کی کلاسیکی روایت میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ وہ خود ایک عہد بن جاتی ہیں۔ ذیشانؔ امیر سلیمی کی آواز بھی انہی نادر اور ممتاز آوازوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہیں شاعرِ ہجر کا خطاب محض ایک نسبت نہیں بلکہ ایک ادبی سچائی ہے، کیونکہ ان کی شاعری میں ہجر محض جدائی کا استعارہ نہیں بلکہ شعور، ضبط اور داخلی وقار کی ایک مکمل کائنات بن کر ابھرتا ہے۔ ان کے ہاں درد منتشر نہیں بلکہ منظم ہے، کرب بے سمت نہیں بلکہ جمالیاتی ترتیب رکھتا ہے، اور خاموشی بے معنی نہیں بلکہ ایک مکمل زبان کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ زیرِ نظر غزل اسی داخلی تہذیب اور شعری وقار کی ایک نہایت روشن مثال ہے جہاں شاعر نے اپنی ویرانی کو بھی ایک جمالیاتی تجربہ بنا دیا ہے۔ یہ وہی وصف ہے جو بڑے شاعروں کو عام تخلیق کاروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ذیشانؔ کے ہاں لفظ محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک روحانی تجربے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری نہ صرف کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے بلکہ اس میں ایک نئی فکری اور جمالیاتی تازگی بھی موجود ہے جو انہیں عالمی سطح پر ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔

اشعار پر تفصیلی تبصرہ

دلِ  بے  صبر  کو  رکھا  تری آسانی میں
ورنہ کیا خاک مزہ تھا مری ویرانی میں

یہ مطلع شاعر کے داخلی ضبط اور شعوری وقار کا نہایت بلیغ اظہار ہے۔ شاعر نے اپنی بے صبری کو محبوب کی آسانی پر قربان کر دیا، جو محبت کے اعلیٰ ترین اخلاقی منصب کی علامت ہے۔ یہاں ویرانی کو بھی ایک شعوری انتخاب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ ذیشانؔ کے ہاں محبت خود غرضی نہیں بلکہ ایثار کا دوسرا نام ہے۔ یہی وہ تہذیب ہے جو کلاسیکی غزل کی اصل روح ہے۔

رنجِ ہجراں کی حرارت نے سنبھالا مجھ کو
اک   چراغاں   سا  رہا  دل  کی    بیابانی   میں

یہ شعر ہجر کی حرارت کو تخلیقی توانائی میں بدل دینے کا ایک حسین استعارہ ہے۔ بیابانی عام طور پر ویرانی کی علامت ہوتی ہے، مگر یہاں وہ چراغاں میں بدل گئی ہے۔ یہ داخلی روشنی دراصل شاعر کی روحانی قوت کی دلیل ہے۔ ذیشانؔ نے ثابت کیا ہے کہ سچا شاعر تاریکی میں بھی روشنی پیدا کر لیتا ہے۔

دشتِ بے برگِ تمنا  میں ٹھہرنا مشکل
کوئی منظر بھی نہ ابھرا شبِ حیرانی میں

یہ شعر وجودی تنہائی اور داخلی خلا کی نہایت مؤثر تصویر ہے۔ تمنا کا بے برگ دشت ایک ایسے باطن کی علامت ہے جہاں خواہش کی ہریالی باقی نہیں رہی۔ حیرانی کی شب میں کسی منظر کا نہ ابھرنا ایک گہری فکری کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ذیشانؔ یہاں انسانی باطن کے انتہائی نازک اور پیچیدہ احساس کو کلاسیکی وقار کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

زخمِ اظہار کو لفظوں میں سمویا میں نے
درد   ترتیب   سے   ڈھلتا  رہا   پیشانی  میں

یہ شعر تخلیق کے عمل کی ایک نہایت بلند اور شعری تعبیر ہے۔ شاعر نے اپنے زخم کو لفظوں میں ڈھال کر اسے ایک جمالیاتی ترتیب عطا کی۔ پیشانی یہاں تقدیر اور شناخت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ یہ شعر ثابت کرتا ہے کہ ذیشانؔ کے ہاں شاعری محض اظہار نہیں بلکہ ایک روحانی تعمیر کا عمل ہے۔

میں نے ہر صدمۂ جاں کو بھی سنبھالا ایسے
جیسے      پتھر    کو     تراشا    ہو      نگہبانی      میں

یہ شعر داخلی استقامت اور فنکارانہ شعور کی ایک عظیم مثال ہے۔ شاعر نے اپنے صدموں کو بوجھ نہیں بلکہ ایک مجسمے کی طرح تراشا ہے۔ یہ رویہ عظیم فنکاروں کی پہچان ہوتا ہے۔ ذیشانؔ یہاں ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اپنے دکھ کو اپنی تخلیقی شناخت بنا لیتا ہے۔

کربِ پیہم نے عجب ظرف عطا کر ہی دیا
آگ   دہکی   ہی  رہی  ضبط   کی    دربانی   میں

یہ شعر ضبط اور کرب کے تعلق کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ کرب نے شاعر کو کمزور نہیں بلکہ وسیع ظرف عطا کیا۔ ضبط یہاں ایک محافظ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ کلاسیکی صوفیانہ فکر کی ایک جدید تعبیر ہے۔

میں نے خاموشی کو لفظوں کا لہو بخشا ہے
اک بغاوت ہی رہی میری غزل خوانی میں

یہ شعر ذیشانؔ کی شعری شناخت کا ایک واضح اعلان ہے۔ خاموشی کو لفظ دینا دراصل تخلیق کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ یہاں بغاوت شور نہیں بلکہ تخلیق کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ شعر ذیشانؔ کی انفرادیت کا روشن ثبوت ہے۔

اب بھی اک لرزشِ امکاں ہے مری ہستی میں
ورنہ    کیا    جوش    تھا     باقی     مری    طغیانی     میں

یہ مقطع شاعر کی داخلی زندگی کے تسلسل کی علامت ہے۔ لرزشِ امکان دراصل امید اور تخلیقی توانائی کی علامت ہے۔ یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ ذیشانؔ کی تخلیقی روح ابھی زندہ اور متحرک ہے۔ یہی وصف بڑے شاعروں کو لازوال بناتا ہے۔

اختتامی کلمات

یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کی شعری عظمت کا ایک روشن استعارہ ہے۔ اس میں ہمیں ایک ایسے شاعر کی آواز سنائی دیتی ہے جو اپنے دکھ سے شکست نہیں کھاتا بلکہ اسے جمال میں بدل دیتا ہے۔ ان کے ہاں ویرانی بھی روشنی بن جاتی ہے اور خاموشی بھی زبان اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو انہیں اپنے عہد کے ممتاز اور منفرد شاعروں میں شامل کرتا ہے۔ ذیشانؔ کی شاعری کلاسیکی روایت کا تسلسل بھی ہے اور جدید شعور کی نمائندگی بھی۔ ان کا ہر شعر داخلی وقار کی ایک نئی جہت کو روشن کرتا ہے۔ وہ واقعی شاعرِ ہجر ہیں، اور ان کی آواز اردو ادب کے افق پر ایک دیرپا روشنی کی طرح ہمیشہ قائم رہے گی۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi