Jashn e Baharan Mein Hijr ka Nauha

 

ہجر اور جشنِ بہاراں کا المیہ شعور




غزل

بسنتِ شہر کی شورش بھی اک گماں میں ہے
مرا   سکوت  کسی   خوابِ   بے   زباں میں ہے

فلک   پہ   رنگِ    پتنگاں     کا    جشن    برپا    ہے
دلِ    فگار     ابھی     نوحۂ      خزاں     میں    ہے

ہوا کے دوش پہ اڑتے ہیں خوابِ رنگیں یہ
مرا      ملال       مگر      گردِ     کارواں     میں    ہے

پتنگِ جاں کو تھا  دعویٰ  عروجِ  اوجِ   فلک
کٹی  تو خاکِ حقیقت کے درمیاں میں ہے

ہوائے  بامِ  چمن   کے  حصار  میں   ہی  سہی
مگر   یہ   زخمِ    تمنّا    بھی    کہکشاں   میں    ہے

کٹی ہے   ڈور  تو  الزام   کس    صبا    کو    دیں
شکستِ شوق ہی شامل مرے بیاں میں ہے

کوئی بھی  تتلی نہیں اب  فضائے  چمن   میں
تمام حسن  کسی  حبسِ بے نشاں  میں  ہے

بساطِ    دشتِ   محبت     پہ    آخری   ساعت
لہو  کی آگ ابھی وسعتِ  جہاں  میں  ہے

یہ آخری    صدا   ہے    بامِ    شہر     پر   میری
مرا  نصیب  ابھی فصلِ امتحاں  میں  ہے

ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار
     عالیہ فاطمہ ، لاہور

تمہید
ذیشان امیر سلیمی، شاعرِ ہجر  کا شعری مزاج جدید حسیت اور کلاسیکی وقار کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔ ان کی غزل میں ہجر محض ذاتی کرب نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی صورت جلوہ گر ہوتا ہے۔ زیرِ نظر غزل بسنت، پتنگ اور جشنِ بہاراں جیسے ظاہراً شاد مظاہر کو ایک داخلی المیے سے جوڑ کر ایک فکری تضاد قائم کرتی ہے، جو قاری کو محض تاثر نہیں بلکہ تفکر کی سطح پر بھی متحرک رکھتا ہے۔


بسنتِ شہر کی شورش بھی اک گماں میں ہے
مرا  سکوت  کسی  خوابِ  بے  زباں میں ہے

اس شعر میں شاعر نے شہر کی بسنتی ہنگامہ خیزی کو گماں اور عدمِ یقین کی علامت بنا دیا ہے۔ شورش اور سکوت کا تقابل ایک داخلی کشمکش کی نمائندگی کرتا ہے۔ بسنت یہاں محض موسم نہیں بلکہ اجتماعی سرشاری کا استعارہ ہے، جس کے مقابل شاعر کا سکوت ایک بے زبان خواب میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ خواب وہی خواب ہے جو کہا تو جاتا ہے مگر سنا نہیں جاتا۔ شاعر کی خاموشی احتجاج بھی ہے اور مشاہدہ بھی۔ کلاسیکی روایت میں سکوت کو دانائی اور صبر سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے، اور یہاں یہی سکوت ہجر کے شعور میں ڈھل کر ایک مہذب مگر گہرا نوحہ بن جاتا ہے۔


فلک پہ رنگِ پتنگاں کا جشن برپا ہے
دلِ فگار ابھی  نوحۂ  خزاں  میں ہے

یہ شعر تہذیبی تضاد کا نہایت بلیغ اظہار ہے۔ فلک پر رنگ بکھرے ہیں، پتنگیں جشن کا اعلان کر رہی ہیں، مگر شاعر کا دل ابھی خزاں کے نوحے میں مقید ہے۔ یہاں جشنِ بہاراں اور نوحۂ خزاں ایک ہی لمحے میں موجود ہیں۔ یہ وہی داخلی کیفیت ہے جو بڑے کلاسیکی شعرا کے ہاں ملتی ہے جہاں فرد کا دکھ اجتماع کی خوشی سے متصادم ہوتا ہے۔ پتنگ یہاں انسانی آرزوؤں اور وقتی مسرتوں کی علامت ہے، جبکہ خزاں دائمی محرومی کا استعارہ بن کر ابھرتی ہے۔


ہوا کے دوش پہ اڑتے ہیں خوابِ رنگیں یہ
مرا    ملال     مگر      گردِ      کارواں      میں      ہے

اس شعر میں خوابوں کی رنگینی اور ان کی بے ثباتی کو ہوا کے دوش پر رکھ دیا گیا ہے۔ خواب اڑتے ہیں، مگر شاعر کا ملال سفر کے غبار میں شامل ہو چکا ہے۔ کارواں اجتماعی سفر کا استعارہ ہے، اور گرد وہ تھکن ہے جو راستے میں انسان پر جم جاتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ اس کا دکھ انفرادی نہیں رہا بلکہ ایک طویل تہذیبی سفر کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ انداز فکر خالص کلاسیکی شعور کی علامت ہے۔


پتنگِ  جاں  کو تھا  دعویٰ  عروجِ  اوجِ فلک
کٹی تو خاکِ حقیقت کے درمیاں میں ہے

یہ شعر پوری غزل کا فکری مرکز کہا جا سکتا ہے۔ پتنگِ جاں انسانی روح ہے جو عروج کے خواب دیکھتی ہے۔ دعویٰ، اوج اور فلک سب بلند پروازی کے مظاہر ہیں، مگر کٹنے کے بعد حقیقت کی خاک نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہی انجام ہے جو کلاسیکی تصوف اور فلسفے میں بار بار بیان ہوا ہے۔ غرور کا زوال اور حقیقت کا انکشاف۔ شاعر نے پتنگ کے ذریعے انسانی انا کا نہایت موثر استعارہ قائم کیا ہے۔



ہوائے بامِ چمن کے حصار میں ہی سہی
مگر   یہ  زخمِ   تمنّا   بھی   کہکشاں  میں  ہے

اس شعر میں تمنّا کے زخم کو کہکشاں سے جوڑ کر شاعر نے اسے کائناتی وسعت عطا کر دی ہے۔ چمن اور بام محدود فضا کی علامت ہیں، مگر زخم ان حدود سے ماورا ہو کر آفاقی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ذاتی ہجر اجتماعی اور کائناتی دکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔


کٹی  ہے   ڈور   تو   الزام   کس    صبا   کو   دیں
شکستِ شوق ہی شامل مرے بیاں میں ہے

یہ شعر خود احتسابی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ شاعر کسی خارجی عنصر کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا بلکہ شکستِ شوق کو اپنے بیان کا حصہ مانتا ہے۔ صبا جو عموماً پیام رسان اور محبوب کی ہمراز سمجھی جاتی ہے، یہاں بری الذمہ قرار پاتی ہے۔ یہ رویہ کلاسیکی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہے جہاں ذمہ داری قبول کرنا وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔


کوئی بھی تتلی نہیں اب فضائے چمن میں
تمام حسن کسی حبسِ بے نشاں میں ہے

یہ شعر حسن کی اسیری کا نوحہ ہے۔ تتلی حسن، نرمی اور آزادی کی علامت ہے، اور اس کی عدم موجودگی اس بات کا اعلان ہے کہ جمال اب قید ہو چکا ہے۔ حبسِ بے نشاں ایک ایسا قید خانہ ہے جس کا کوئی پتہ نہیں، کوئی شناخت نہیں۔ یہ جدید عہد کی روحانی بے گھری کی علامت بھی ہے اور کلاسیکی نوحے کی توسیع بھی۔


بساطِ  دشتِ  محبت   پہ  آخری  ساعت
لہو کی آگ ابھی وسعتِ جہاں میں ہے

یہ شعر محبت کے دشت میں آخری لمحے کا بیان ہے، مگر آگ ابھی بجھی نہیں۔ لہو کی آگ زندگی کی حرارت اور قربانی کی علامت ہے جو وسعتِ جہاں تک پھیلی ہوئی ہے۔ شاعر یاس کے ساتھ ساتھ ایک داخلی استقامت بھی ظاہر کرتا ہے۔


یہ   آخری   صدا   ہے   بامِ  شہر   پر  میری
مرا نصیب ابھی فصلِ امتحاں میں ہے

مقطع میں شاعر اپنی آواز کو آخری صدا کہتا ہے، مگر ساتھ ہی امتحاں کی فصل کا ذکر کرتا ہے۔ گویا جدوجہد ابھی باقی ہے۔ شہر کا بام اجتماعی سماعت کی علامت ہے، اور شاعر اپنی بات تاریخ کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ اختتام کلاسیکی غزل کی روایت کے عین مطابق ہے جہاں مایوسی کے باوجود وقار اور امید کی ایک مدھم لکیر باقی رہتی ہے۔

اختتامی نوٹ

یہ غزل محض بسنت، پتنگ اور جشنِ بہاراں کی تصویریں نہیں بلکہ ان مظاہر کے پس پردہ انسانی المیے کی ایک فکری دستاویز ہے۔ ذیشانؔ امیر سلیمی نے کلاسیکی غزل کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید عہد کے حسی اضطراب کو نہایت مہارت سے سمیٹا ہے۔ ہر شعر ایک مستقل کائنات رکھتا ہے، مگر تمام اشعار مل کر ایک وحدت قائم کرتے ہیں۔ ہجر یہاں ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی اور تہذیبی دکھ کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ زبان شستہ، محاورہ درست اور علامتیں بامعنی ہیں۔ یہ غزل قاری کو محض لطف نہیں دیتی بلکہ اس کے شعور میں دیرپا ارتعاش پیدا کرتی ہے، اور یہی بڑی شاعری کی پہچان ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Rohani Makalma

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

Hijr Bator Shaoor Zeeshan Ameer Saleemi