Jashn e Baharan Mein Hijr ka Nauha
ہجر اور جشنِ بہاراں کا المیہ شعور
غزل
ذیشانؔ امیر سلیمی
اس شعر میں شاعر نے شہر کی بسنتی ہنگامہ خیزی کو گماں اور عدمِ یقین کی علامت بنا دیا ہے۔ شورش اور سکوت کا تقابل ایک داخلی کشمکش کی نمائندگی کرتا ہے۔ بسنت یہاں محض موسم نہیں بلکہ اجتماعی سرشاری کا استعارہ ہے، جس کے مقابل شاعر کا سکوت ایک بے زبان خواب میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ خواب وہی خواب ہے جو کہا تو جاتا ہے مگر سنا نہیں جاتا۔ شاعر کی خاموشی احتجاج بھی ہے اور مشاہدہ بھی۔ کلاسیکی روایت میں سکوت کو دانائی اور صبر سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے، اور یہاں یہی سکوت ہجر کے شعور میں ڈھل کر ایک مہذب مگر گہرا نوحہ بن جاتا ہے۔
یہ شعر تہذیبی تضاد کا نہایت بلیغ اظہار ہے۔ فلک پر رنگ بکھرے ہیں، پتنگیں جشن کا اعلان کر رہی ہیں، مگر شاعر کا دل ابھی خزاں کے نوحے میں مقید ہے۔ یہاں جشنِ بہاراں اور نوحۂ خزاں ایک ہی لمحے میں موجود ہیں۔ یہ وہی داخلی کیفیت ہے جو بڑے کلاسیکی شعرا کے ہاں ملتی ہے جہاں فرد کا دکھ اجتماع کی خوشی سے متصادم ہوتا ہے۔ پتنگ یہاں انسانی آرزوؤں اور وقتی مسرتوں کی علامت ہے، جبکہ خزاں دائمی محرومی کا استعارہ بن کر ابھرتی ہے۔
اس شعر میں خوابوں کی رنگینی اور ان کی بے ثباتی کو ہوا کے دوش پر رکھ دیا گیا ہے۔ خواب اڑتے ہیں، مگر شاعر کا ملال سفر کے غبار میں شامل ہو چکا ہے۔ کارواں اجتماعی سفر کا استعارہ ہے، اور گرد وہ تھکن ہے جو راستے میں انسان پر جم جاتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ اس کا دکھ انفرادی نہیں رہا بلکہ ایک طویل تہذیبی سفر کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ انداز فکر خالص کلاسیکی شعور کی علامت ہے۔
یہ شعر پوری غزل کا فکری مرکز کہا جا سکتا ہے۔ پتنگِ جاں انسانی روح ہے جو عروج کے خواب دیکھتی ہے۔ دعویٰ، اوج اور فلک سب بلند پروازی کے مظاہر ہیں، مگر کٹنے کے بعد حقیقت کی خاک نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہی انجام ہے جو کلاسیکی تصوف اور فلسفے میں بار بار بیان ہوا ہے۔ غرور کا زوال اور حقیقت کا انکشاف۔ شاعر نے پتنگ کے ذریعے انسانی انا کا نہایت موثر استعارہ قائم کیا ہے۔
اس شعر میں تمنّا کے زخم کو کہکشاں سے جوڑ کر شاعر نے اسے کائناتی وسعت عطا کر دی ہے۔ چمن اور بام محدود فضا کی علامت ہیں، مگر زخم ان حدود سے ماورا ہو کر آفاقی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ذاتی ہجر اجتماعی اور کائناتی دکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہ شعر خود احتسابی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ شاعر کسی خارجی عنصر کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا بلکہ شکستِ شوق کو اپنے بیان کا حصہ مانتا ہے۔ صبا جو عموماً پیام رسان اور محبوب کی ہمراز سمجھی جاتی ہے، یہاں بری الذمہ قرار پاتی ہے۔ یہ رویہ کلاسیکی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہے جہاں ذمہ داری قبول کرنا وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ شعر حسن کی اسیری کا نوحہ ہے۔ تتلی حسن، نرمی اور آزادی کی علامت ہے، اور اس کی عدم موجودگی اس بات کا اعلان ہے کہ جمال اب قید ہو چکا ہے۔ حبسِ بے نشاں ایک ایسا قید خانہ ہے جس کا کوئی پتہ نہیں، کوئی شناخت نہیں۔ یہ جدید عہد کی روحانی بے گھری کی علامت بھی ہے اور کلاسیکی نوحے کی توسیع بھی۔
یہ شعر محبت کے دشت میں آخری لمحے کا بیان ہے، مگر آگ ابھی بجھی نہیں۔ لہو کی آگ زندگی کی حرارت اور قربانی کی علامت ہے جو وسعتِ جہاں تک پھیلی ہوئی ہے۔ شاعر یاس کے ساتھ ساتھ ایک داخلی استقامت بھی ظاہر کرتا ہے۔
مقطع میں شاعر اپنی آواز کو آخری صدا کہتا ہے، مگر ساتھ ہی امتحاں کی فصل کا ذکر کرتا ہے۔ گویا جدوجہد ابھی باقی ہے۔ شہر کا بام اجتماعی سماعت کی علامت ہے، اور شاعر اپنی بات تاریخ کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ اختتام کلاسیکی غزل کی روایت کے عین مطابق ہے جہاں مایوسی کے باوجود وقار اور امید کی ایک مدھم لکیر باقی رہتی ہے۔
اختتامی نوٹ
یہ غزل محض بسنت، پتنگ اور جشنِ بہاراں کی تصویریں نہیں بلکہ ان مظاہر کے پس پردہ انسانی المیے کی ایک فکری دستاویز ہے۔ ذیشانؔ امیر سلیمی نے کلاسیکی غزل کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید عہد کے حسی اضطراب کو نہایت مہارت سے سمیٹا ہے۔ ہر شعر ایک مستقل کائنات رکھتا ہے، مگر تمام اشعار مل کر ایک وحدت قائم کرتے ہیں۔ ہجر یہاں ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی اور تہذیبی دکھ کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ زبان شستہ، محاورہ درست اور علامتیں بامعنی ہیں۔ یہ غزل قاری کو محض لطف نہیں دیتی بلکہ اس کے شعور میں دیرپا ارتعاش پیدا کرتی ہے، اور یہی بڑی شاعری کی پہچان ہے۔

Comments
Post a Comment