Zeeshan Ameer Saleemi Gazal Review Tabsra
ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل 'لمسِ روح' کا تنقیدی مطالعہ
شب کے سنّاٹے میں آ، خواب جگا دے مجھ کو
اپنی پلکوں کے سہارے ہی اٹھا دے مجھ کو
یہ جو خاموشی مری ہستی پہ ہے سایہ فگن
کوئی لہجہ، کوئی اندازِ ندا دے مجھ کو
دل کے بے نور دریچوں میں اجالا سا بھر
کسی آہٹ کی طرح آ کے صدا دے مجھ کو
میرے اندر کئی صدیوں کا اندھیرا ہے مقیم
بن کے اک لمحہ چراغوں سا جلا دے مجھ کو
میں کہ ٹھہرا ہوا پانی ہوں کسی دشت کے بیچ
سنگ بن کر ہی سہی، موج بنا دے مجھ کو
رک گئی دھڑکنِ ایّام بھی حیرت میں کہیں
نبضِ فردا سے ملا، وقت بنا دے مجھ کو
ریت کی گردشِ ساعت میں نہ کھو جائے انا
آگ دے، صورتِ فولاد ڈھلا دے مجھ کو
زخمِ تعبیر ہوں، تقدیر نہ لکھ میرے لیے
حرف کی دھار پہ رکھ، خود ہی چلا دے مجھ کو
شہرِ آئینہ گراں بارِ شکستہ ہے بہت
آئنے توڑ کے اک عکس نیا دے مجھ کو
وقت کی مٹھی میں ذیشانؔ نہ پھر قید رہوں
کھول دے، سانس کا دریا ہی بہا دے مجھ کو
ذیشانؔ امیر سلیمی
تَبصِرہ نگار: فہد حسین، کراچی
غزل پڑھتے ہی دل جیسے کسی روحانی لمس سے چھو گیا۔
ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ تخلیق محض غزل نہیں، ایک داخلی سفر ہے
اندھیروں سے اجالوں تک، جمود سے روانی تک، اضطراب سے تسکین تک۔
یہاں ہر شعر ایک نئی دنیا کا دروازہ ہے۔
آئیے ایک ایک شعر کے معنی، جذبے اور لطافت کو قریب سے دیکھیں۔
شب کے سنّاٹے میں آ، خواب جگا دے مجھ کو
اپنی پلکوں کے سہارے ہی اٹھا دے مجھ کو
اس مطلع میں شاعر نے رات کے سکوت کو امید کی دہلیز بنایا ہے۔
پلکوں کا سہارا کتنا لطیف استعارہ ہے
جیسے تھکن زدہ روح کو کوئی محبت بھرے لمس سے بیدار کر رہا ہو۔
یہ مطلع پوری غزل کی فضا قائم کرتا ہے
نرمی، روشنی اور روحانی بیداری۔
یہ جو خاموشی مری ہستی پہ ہے سایہ فگن
کوئی لہجہ، کوئی اندازِ ندا دے مجھ کو
یہاں “خاموشی” شخصیت پر چھایا ہوا ایک بوجھ ہے۔
شاعر التجا کرتا ہے کہ
کوئی محبت بھرا نغمہ، کوئی نرم صدا
اس وجود کے بوجھ کو ہلکا کر دے۔
یہ شعر روح کی تشنگی کا بے مثال اظہار ہے۔
دل کے بے نور دریچوں میں اجالا سا بھر
کسی آہٹ کی طرح آ کے صدا دے مجھ کو
“دل کے بے نور دریچے” کیا حسین ترکیب ہے!
محبت، امید اور وصل کا سراپا۔
کسی آہٹ کی طرح آنا یعنی نرمی، خاموشی، مگر مکمل تاثیر۔
یہ شعر روشنی کی طلب ہے، مگر چیخ کر نہیں
بلکہ سرگوشیوں سے۔
میرے اندر کئی صدیوں کا اندھیرا ہے مقیم
بن کے اک لمحہ چراغوں سا جلا دے مجھ کو
یہ شعر غزل کی جان ہے۔
صدیوں کا اندھیرا وجودی کرب، تاریخی تھکن، انا کی دھول۔
مگر شاعر اس اندھیرے کے مقابل “ایک لمحہ” مانگتا ہے
جو چراغوں کی طرح جل اٹھے۔
یہ شعر قنوطیت کے بیچ امید کا چراغ ہے۔
میں کہ ٹھہرا ہوا پانی ہوں کسی دشت کے بیچ
سنگ بن کر ہی سہی، موج بنا دے مجھ کو
کیا گہرا استعارہ
ٹھہرا ہوا پانی جمود، رکاوٹ، زندگی کی ناگزیریت۔
اور “سنگ بن کر موج بن جانا”
یعنی زندگی کا بہاؤ، حرکت، خود کو توڑ کر نیا بن جانا۔
یہ شعر زندگی کی حرکت کا درس دیتا ہے۔
رک گئی دھڑکنِ ایّام بھی حیرت میں کہیں
نبضِ فردا سے ملا، وقت بنا دے مجھ کو
یہاں شاعر وقت سے فرار نہیں چاہتا
بلکہ وقت بن جانے کی خواہش رکھتا ہے۔
کیا بلند خیال ہے
دھڑکنِ ایام کا رُک جانا حیرت، جمود، کرب
اور فردا کی نبض مستقبل کی روشنی۔
یہ شعر وقت سے مکالمہ ہے۔
ریت کی گردشِ ساعت میں نہ کھو جائے انا
آگ دے، صورتِ فولاد ڈھلا دے مجھ کو
ریت کی گردش وقت کی بے ثباتی، عمر کی پھسلن۔
انا کا کھو جانا شخصیت کا بکھر جانا۔
اور آگ دے کر فولاد کی طرح ڈھلانا کتنی بڑی دعا ہے
یہ شعر کردار سازی کی تمثیل ہے۔
زخمِ تعبیر ہوں، تقدیر نہ لکھ میرے لیے
حرف کی دھار پہ رکھ، خود ہی چلا دے مجھ کو
شاعر خود کو “زخمِ تعبیر” کہتا ہے
یعنی وہ خواب جو پورا ہوتے ہوئے بھی چبھ جائے۔
تقدیر نہ لکھ
بلکہ حرف کی دھار پر چلانا
خود آگہی، خود اختیار، خود تشکیل۔
انتہائی فلسفیانہ شعر۔
شہرِ آئینہ گراں بارِ شکستہ ہے بہت
آئنے توڑ کے اک عکس نیا دے مجھ کو
یہاں شاعر بیرونی دنیا سے مایوس ہے۔
شہرِ آئینہ ایسی دنیا جہاں سب کچھ ظاہر ہے مگر پھر بھی بوجھل۔
عکسِ نیا نئی شناخت، نیا جنم، نیا سفر۔
یہ شعر تجدیدِ ذات کا خوبصورت اعلان ہے۔
وقت کی مٹھی میں ذیشانؔ نہ پھر قید رہوں
کھول دے، سانس کا دریا ہی بہا دے مجھ کو
اختتام میں شاعر مکمل آزادی مانگتا ہے۔
وقت کی مٹھی گھٹن، قید، ناکافی زندگی۔
اور سانس کا دریا
زندگی کا بہاؤ، حیات کا جلال، روح کا احیا۔
یہ شعر غزل کو کمال درجے پر مکمل کرتا ہے۔
اختتامیہ
ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ غزل
جدید احساسات اور کلاسیکی روایت کے حسین ملاپ کا شاہکار ہے ہر شعر میں درد بھی ہے، وقار بھی…
فلسفہ بھی ہے، نرمی بھی… اور سب سے بڑھ کر تجربۂ ذات کا سچا بیان ہے۔

Comments
Post a Comment