Zeeshan Ameer Saleemi ka Aik Famous Geet
گیت
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
ہر راہ زندگی کی بیابان ہو گئی
تو تھا تو سانس سانس میں معنی اترتے تھے
آنکھوں کے آئینے میں وہ منظر سنورتے تھے
تو جو گیا تو شام بھی حیران ہو گئی
اب زندگی بھی خود پہ پشیمان ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
تو پاس تھا تو لمحے دعاؤں میں ڈھلتے تھے
سائے بھی تیری سمت ہی چپ چاپ چلتے تھے
ہر آرزو غبار کا طوفان ہو گئی
دل کی زمین حسرتِ باران ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
دل ڈھونڈتا ہے اب بھی وہ قدموں کی آہٹیں
خاموش رات میں بھی ہیں بکھری سی چاہتیں
یادوں کی دھند دل پہ نگہبان ہو گئی
ہر سانس دل کے ہجر میں قربان ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
تو ساتھ تھا تو وقت بھی ہمراہ چل پڑا
ہر زخم دل کا خود ہی گلابوں میں ڈھل پڑا
اب ہر گھڑی جدائی کا سامان ہو گئی
یہ ساعتِ حیات بھی زندان ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
ذیشانؔ امیر سلیمی
تبصرہ نگار
نائلہ قریشی
(پاکستانی نژاد، مقیم نیویارک، امریکہ)
کلاسیکی و طرنّم آفرین تبصرہ
مطلع پر تبصرہ
یہ مکھڑا اپنے اندر میرؔ کی سادگی، فراقؔ کی کسک اور فیضؔ کی تہہ داری سمیٹے ہوئے ہے “دنیا” اور “راہِ زندگی” جیسے وسیع استعارے ایک ذاتی فراق کو کائناتی المیے میں بدل دیتے ہیں۔ یہ وہ وصف ہے جو کلاسیکی گیت کو محض ذاتی نوحہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اجتماعی احساس بنا دیتا ہے۔
پہلا انترہ
تو تھا تو سانس سانس میں معنی اترتے تھے…
یہاں محبوب کی موجودگی کو وجودی معنویت سے جوڑا گیا ہے۔ سانس کا معنی بن جانا تصوف کی سرحد کو چھوتا ہوا استعارہ ہے “آنکھوں کے آئینے” میں منظر کا سنورنا جمالیاتِ کلاسیک کی بہترین مثال ہے۔
محبوب کے جانے کے بعد شام کا “حیران” ہونا یہ تشخیص (Personification) کی نہایت خوبصورت صورت ہے۔
دوسرا انترہ
تو پاس تھا تو لمحے دعاؤں میں ڈھلتے تھے…
یہ انترہ گیت کو روحانی سطح پر لے جاتا ہے۔ وقت، لمحے، سائے سب محبوب کے تابع ہیں۔
“دل کی زمین حسرتِ باران ہو گئی” یہ مصرع مجھے براہِ راست حفیظ جالندھری کے گیتوں اور ساحرؔ کے فلمی کلام کی یاد دلاتا ہے، جہاں دل کو زمین اور آنسوؤں کو بارش کہا گیا۔
تیسرا انترہ
دل ڈھونڈتا ہے اب بھی وہ قدموں کی آہٹیں…
یہاں انتظار خود ایک کردار بن جاتا ہے۔ خاموش رات، بکھری چاہتیں، یادوں کی دھندیہ سب مل کر ایک ایسا صوتی اور بصری منظر بناتے ہیں جو سننے والے کو خاموش کر دیتا ہے “ہر سانس دل کے ہجر میں قربان ہو گئی”
یہ خالص کلاسیکی فکر ہے، جہاں سانس بھی نذرانہ بن جاتی ہے۔
چوتھا انترہ
تو ساتھ تھا تو وقت بھی ہمراہ چل پڑا…
یہ انترہ گیت کی فکری بلندی ہے۔
زخم کا گلاب بن جانا امید اور حسنِ نظر کی علامت ہے، اور جدائی میں وقت کا زندان بن جانا یہی تو اصل گیت کا کمال ہے زندگی کا تسلسل بھی قید محسوس ہونے لگتا ہے۔
مجموعی فنی تبصرہ
یہ گیت مجھے برصغیر کی اُس روایت سے جوڑتا ہے جہاں
نورجہاں
ملکہ پکھراج
اور مدن موہن کے دور کے گیت
محض سننے کے لیے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ہوتے تھے ذیشان امیر سلیمی نے جدید دور میں کلاسیکی گیت کی روایت کو نہ صرف زندہ کیا ہے بلکہ اسے تازہ لہجہ بھی دیا ہے یہ کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ “گیت مرا نہیں، بس خاموش ہو جاتے ہیں اور پھر کسی سچے احساس کے ساتھ لوٹ آتے ہیں یہ گیت اگر کسی کلاسیکی راگ میں ڈھل جائے تو دیر تک دل کے آنگن میں بجتا رہے گا۔

Comments
Post a Comment