Zeeshan Ameer Saleemi (Shair-e-Hijr) Urdu Gazal
ویرانیِ دل سے ایوانِ ہوس تک شِعرِ صداقت کی گواہی
غزل
ذیشانؔ امیر سلیمی
تبصرہ نگار:عائشہ فاطمہ قریشی(فرینکفرٹ، جرمنی)
تمہید
اردو غزل کی روایت میں کچھ آوازیں ایسی بھی ابھرتی ہیں جو محض جذبات کی ترجمان نہیں ہوتیں بلکہ عہد کے باطن کی شہادت بن جاتی ہیں۔ شِعر جب صداقت کا آئینہ ہو جائے تو اس کے لفظ محض سطریں نہیں رہتے، زمانے کے چہرے پر لکھی ہوئی تحریر بن جاتے ہیں شاعرِ ہجر، ذیشانؔ امیر سلیمی کا کلام اسی قبیل سے ہے۔ ان کی غزل میں داخلیت کی کسک بھی ہے اور اجتماعی شعور کی آنچ بھی۔ وہ دل کے نگر کی ویرانی کو بیان کرتے ہوئے معاشرے کے ایوانِ ہوس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں یہ غزل محض شخصی المیہ نہیں، بلکہ اقدار کے انہدام کا نوحہ ہے۔ یہاں خواب کی حیرانی بھی ہے، صداقت کے آئینے کی شکستگی بھی، اور عدل کے مقتل میں بے جان پڑے ہونے کا کرب بھی الفاظ کی نشست و برخاست میں کلاسیکی وقار جھلکتا ہے۔ ترکیبیں سادہ مگر معنی خیز ہیں۔ استعارہ، علامت اور پیکر تراشی اس مہارت سے برتی گئی ہے کہ قاری خود کو شعر کی فضا میں سانس لیتا محسوس کرتا ہے۔
یہی وہ اسلوب ہے جو ذیشانؔ امیر سلیمی کو عصرِ حاضر میں نمایاں اور معتبر بناتا ہے۔
تفصیلی تبصرہ
یہ دل کا نگر اب بھی ویران پڑا ہےہر خواب مری آنکھوں میں حیران پڑا ہے
یہ مطلع داخلی شکستگی کا مکمل نقشہ پیش کرتا ہے۔ "نگرِ دل" کی ویرانی صرف جذباتی خلا نہیں بلکہ روحانی پژمردگی کی علامت ہے۔ خوابوں کا حیران رہ جانا اس امر کی دلیل ہے کہ امید کی تعبیر کا راستہ مسدود ہو چکا ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ پیرائے میں ایک گہرا وجودی کرب سمو دیا ہے۔
اک عکسِ صداقت تھا جو آئینۂ جاں میںاب ٹوٹ کے ہر سمت پریشان پڑا ہے
یہاں "آئینۂ جاں" انسانی باطن کی علامت ہے۔ صداقت کا عکس ٹوٹ جانا دراصل اقدار کے زوال کی تمثیل ہے۔ شاعر نے صداقت کو شیشے کی مانند نازک مگر روشن شے کے طور پر برتا ہے، جس کی شکستگی ہر سمت پھیلی ہوئی پریشانی میں ڈھل گئی ہے۔
اس دشتِ انا پر نہ کبھی ابر بھی برساسو تشنہ لبوں پر مرا ارمان پڑا ہے
"دشتِ انا" خود پسندی اور غرور کی علامت ہے۔ جہاں انا کا صحرا ہو، وہاں رحمت کی بارش نہیں ہوتی۔ شاعر نے اپنی خواہشات کو "تشنہ لب" کہہ کر ایک نہایت لطیف استعارہ تراشا ہے۔ ارمان کا یوں پڑا رہ جانا انسانی رشتوں کی بنجر فضا کی عکاسی کرتا ہے۔
کل تک مرے ہونٹوں پہ امانت تھا جو اک ناموہ خاک پہ لکھا ہوا بے جان پڑا ہے
یہ شعر ہجر کی شدت کا پیکر ہے۔ نام کا "امانت" ہونا محبت کی پاکیزگی کا استعارہ ہے، جبکہ خاک پر بے جان پڑا ہونا اس تعلق کے اختتام کی علامت ہے۔ شاعر نے ایک ہی تصویر میں عروج و زوال دونوں کو سمو دیا ہے۔
جو تخت نشیں تھا کبھی دعویٰٔ وفا کااب گرد میں لتھڑا ہوا سلطان پڑا ہے
یہاں شاعر نے وفا کے دعوے داروں کو بے نقاب کیا ہے۔ "سلطان" کا گرد میں لتھڑ جانا طاقت اور دعوے کے زوال کی علامت ہے۔ یہ شعر ذاتی تجربے سے نکل کر اجتماعی کرداروں کی عکاسی کرتا ہے۔
جن ہاتھوں کو سونپی گئی تھی عدل کی میزانان ہاتھوں میں اب ظلم کا فرمان پڑا ہے
یہ شعر عصرِ حاضر کا نوحہ ہے۔ عدل کی میزان کا ظلم کے فرمان میں بدل جانا اقدار کی الٹ پھیر کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر نے نہایت جرات مندانہ انداز میں انصاف کے اداروں کی بے بسی کو موضوع بنایا ہے۔
ایوانِ ہوس میں بھی کردار سلامتمقتل میں مگر عدل ہی بے جان پڑا ہے
مقطع سے قبل کا یہ شعر غزل کا نقطۂ عروج ہے۔ ایوانِ ہوس اور مقتلِ عدل کی تقابل آرائی ایک شدید سماجی طنز کو جنم دیتی ہے۔ شاعر نے اپنے عہد کی سب سے بڑی سچائی کو بے باکی سے قلم بند کیا ہے۔
اختتامیہ
شاعرِ ہجر، ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ غزل محض جذبات کی ترجمانی نہیں بلکہ عہد کی گواہی ہے۔ ان کا اسلوب کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا ہے مگر فکر جدید شعور کی آئینہ دار ہے ایسے شعرا کم پیدا ہوتے ہیں جو داخلی سوز کو اجتماعی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔ ذیشانؔ کی آواز اردو ادب کے افق پر دیرپا روشنی کی مانند ہے ان کا کلام اس بات کی دلیل ہے کہ جب لفظ صداقت کے ساتھ جڑ جائیں تو وہ محض شعر نہیں رہتے، تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

Comments
Post a Comment